Header Ads

Breaking News
recent

Pakistan Political Corruption


میرے سامنے دی نیوز اخبار میں شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی کے ٹیکس گوشواروں میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں منتخب ہونے والے 47 فی صد سیاستدانوں نے انکم ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ 12 فیصد ایسے ہیں جن کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر تک نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ(ن) لیگ کے 54 رکن قومی اسمبلی، تحریک انصاف کے 19، پیپلز پارٹی 13، جے یو آئی ایف 7، ایم کیو ایم کے 5ارکان ٹیکس نادہندہ ہیں۔ پندرہ ارکان ایسے بھی ہیں جو آزاد منتخب ہوئے۔اسی طرح اس رپورٹ میں تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے حوالے سے انکشافات کئے گئے ہیں جن میں اہم سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ 23 دسمبر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کو میں کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں جس نے کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے۔میں ان سوالوں کے جواب خود سے تلاش کرنے کی کوشش میں ابھی مصروف تھا کہ 26دسمبر کو اخبارات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام عوامی نمائندوں کے 2012-13ء کے دوران جمع کرائے گئے گوشوارے بھی اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق اس ملک کے غریب عوام جن میں سے 60 فیصد تو غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور31 فی صد تو ایسے ہیں جو روزانہ بمشکل سوا ڈالر کماسکتے ہیں۔ وزیر اعظم ملک کے امیر ترین شخص ہیں، انہوں نے اپنے اثاثے جو ظاہر کئے ہیں ان کی مالیت ایک ارب 82کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ گوشواروں کے مطابق وسیع جائیدادیں اور مہنگی گاڑیاں رکھنے والے اکثر ارکان نے کاروبار کے خانے میں یہ تک درج نہیں کیا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ 

بعض ارکان تو امیر ہونے کے باوجود گاڑی نہیں رکھتے۔ بعض نے سو سو تولے طلائی زیورات کی مالیت چند لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ بعض کروڑوں روپے مالیت کے بنگلے رکھتے ہیں مگر ان کی مالیت چند لاکھ لکھی گئی ہے اور بعض کے پاس مہنگی گاڑیاں ہیں مگر مالیت چند لاکھ ہے ۔ چونکہ یہ سب ارکان ہر سیاسی پارٹی میں بلاتفریق موجود ہیں اس لئے کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں۔ ہاں البتہ پرویز رشید، جمشید دستی جیسے بھی چند ارکان ہیں جن کے اثاثے نہیں لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جو کچھ ظاہر کیا گیا ہے اس میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کی آمیزش کتنی ہے۔ چونکہ حقیقت تو یہی ہے کہ ایف بی آر میں جمع کرائے گئے گوشوارے اور الیکشن کمیشن کو فراہم کی گئیں معلومات میں تضاد پایا جاتا ہے، اسی وجہ سے جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جب جھوٹ اور سچ خلط ملط ہو جائیں تو پھر ہر کوئی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ ان معلومات کو بالکل رد کردے یا مکمل طور پر سچ سمجھ لے لیکن الیکشن رولز کے مطابق الیکشن میں حصہ لینے والا امیدوار ایسے عہد نامے پر دستخط کرتا ہے جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ میری دی گئی تفصیلات اورمیری فراہم کردہ معلومات کسی بھی وقت غلط قرار پائیں تومیرا انتخاب کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر کسی رکن کے گوشوارے غلط ثابت ہوجاتے ہیں تو اسے 5 سال قید اور پانچ ہزار روپے تک جرمانے کے ساتھ نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے ۔ 

اب اگر ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیا جائے تو ان قواعد وضوابط کی روشنی میں 95فیصد سے زیادہ ارکان تو نا اہل قرار پاتے ہیں اور ان کی رکنیت کالعدم ہوجاتی ہے لیکن دیکھئے کہ الیکشن کمیشن وہ ادارہ ہے جو صاف شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کے انعقاد کا نہ صرف ذمہ دار ہے بلکہ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امیدواروں کی اہلیت کو آئین کی دفعہ 62, 63کی کسوٹی پر بھی پرکھے۔ مگر افسوس کہ یہ ازخود گوشواروں کی تحقیقات ہی نہیں کر سکتا جب تک کسی امیدوار کے خلاف کوئی شکایت موصول نہ ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر کوئی غلط گوشوارے جمع کراتا ہے اس کی چھان بین الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں، دوسرے لفظوں میں الیکشن کمیشن جھوٹ اور دھاندلی کی بنیاد خود ہی فراہم کرتا ہے۔

اگر غیر جانبداری سے ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ ارکان اسمبلی کی معلومات کا جائزہ لیا جائے تو انہیں کلّی طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ بے شک وہ جھوٹے ہیں، کرپٹ ہیں ،انہوں نے معلومات فراہم کرنے میں غلط بیانی سے کام لیا لیکن کیا حکومت اور اداروں نے بھی کبھی غور کیا کہ جو فارم یا گوشوارے ان سے مکمل کرائے جاتے ہیں ان میں کتنے تضادات ہیں۔ یہ تو ارکان اسمبلی ہیں جن کے گوشوارے کچھ نہ کچھ حد تک ظاہر ہو گئے ہیں مگر لاکھو ں ایسے افراد ہیں جو اپنے گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے میں ٹیکس جمع نہیں ہوتے اس کی وجہ صرف گوشواروں میں پائے جانے والے تضادات ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک شخص کے پاس اگر ایک سو تولے سونا ہے ، اس نے یہ ایک ہزار روپے تولہ کے حساب سے خریدا ہوا ہے تو وہ اس کی کل مالیت ایک لاکھ ہی ظاہر کرے گا۔ ایک شخص نے کوئی بنگلہ 20 سال پہلے دس لاکھ کا لیا ہے تو آج اس کی مالیت دس کروڑ ہوگئی لیکن وہ رجسٹری کے مطابق ہی اس کی مالیت ظاہر کرے گا۔اب فرض کریں کہ صرف وزیراعظم نے جو اثاثے ظاہر کئے ہیں ان کا موجودہ مارکیٹ کے حساب سے دیکھا جائے تو ہوسکتا ہے یہ 20 ارب روپے سے بھی زائد ہوں ۔اس لئے ہمیں ان وجوہات کو تلاش کرنا چاہئے جو جھوٹ بولنے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں اور اس کے تدارک کے لئے کوئی بہتر نظام وضع کرنا چاہئے تاکہ سچائی اور حقیقت سامنے آسکے۔ اس حوالے سے درج ذیل چند اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔

  ۔ شناختی کارڈ بننے کے بعد اگر اس شخص نے نوکری حاصل کر لی ہے یا کوئی کاروبار شروع کرلیا ہے تو فوری طور پر نادرا میں یہ اندراج کرائے اور نادرا ایف بی آر سے کو آرڈینیٹ کرکے اسے این ٹی این جاری کرے جو اس کے شناختی کارڈ پہ بھی درج ہو۔

  ۔ نوکری حاصل کرنے اور کاروبار شروع کرنے سے پہلے این ٹی این نمبر کا حصول قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے بے شک یہ چھوٹا سا کاروبار ہی کیوں نہ ہو۔

  ۔ کوئی شخص اگر الیکشن لڑنا چاہتا ہے، اس کے پاس کوئی اثاثہ نہیں مگر پھر بھی اسے گوشوارے جمع کرانے چاہئیں اور اس وقت تک الیکشن کے لئے اہل نہیں ہونا چاہئے جب تک اس کے پاس این ٹی این نمبر نہ ہو۔

  ۔ ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں ہم آہنگی پیدا کرنی چاہئے   عام طور پر ان دونوں اداروں میں دی گئی معلومات میں تضاد کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنا بزنس بڑی مالیت کا رکھتے ہیں مگر ایف بی آر میں اپنے اثاثے کم ظاہر کرتے ہیں تاکہ ٹیکس سے بچا جاسکے مگر الیکشن کمیشن میں اثاثے زیادہ بتائے جاتے ہیں تاکہ کل اگر کرپشن کی جاتی ہے تو اسے تحفظ مل سکے۔

  ۔ گوشواروں میں عام طور پر پراپرٹی وغیرہ کی مالیت وہ بتائی جاتی ہے جس کے مطابق رجسٹری ہوتی ہے یا جائیداد خریدی جاتی ہے ۔ یہ کئی سال پرانی بھی ہوسکتی ہے اس لئے گوشواروں میں ڈی سی ریٹ اور موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق جو ویلیو ہو وہ درج ہونی چاہئے ۔اس سے ایک تو کالے دھن میں کمی آئے گی ، وائٹ منی میں اضافہ ہوگا اور ایف بی آر صحیح assessment کرسکے گا۔ ایسی صحیح معلومات فراہم کرنے والوں کو ٹیکس میں زیادہ چھوٹ دینی چاہئے ۔

  ۔ جو لوگ الیکشن میں حصہ لینا چاہیں انہیں اپنے تمام اثاثے اور ذرائع آمدنی مشتہر کرنے چاہئیں اور عوام کو اجازت ہونی چاہئے کہ وہ ان پر اعتراضات اٹھاسکیں۔ صرف ایسے افراد کو الیکشن کے لئے اہل قرار دینا چاہئے جنہیں عوام نے کلیئر کردیا ہو۔

 ۔ ایسے ممبران جو اپنے اثاثے گوشواروں میں غلط ظاہر کریں ان کی جائیدادیں نیلام کرکے ظاہر کئے گئے اثاثوں سے زیادہ قومی تحویل میں لے لینا چاہئے ...جب تک ہم سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرتے رہیں گے کبھی بھی سدھار نہیں آئے گا، سدھار لانا چاہتے ہیں تو سچ اور جھوٹ کی تمیز کو پہچاننا ہوگا!

عابد تہامی

بشکریہ روزنامہ جنگ

Pakistan Political Corruption

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.