Header Ads

Breaking News
recent

کیا سیاسی رہنمائوں کے ذاتی کردار پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟

پاکستانی سیاست گالم گلوچ سے آگے بڑھتے ہوئے اب مزید گندگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزام لگاتے ہوئے کہا عمران خان ایک بدکردار شخص ہے جس کے ہاتھوں پی ٹی آئی کی خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں۔ گلالئی نے اپنے ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت نہ دیے جبکہ عمران خان کی طرف سے ابھی تک اس معاملہ پر کوئی جواب نہیں آیا۔ گلالئی کی طرف سے الزامات کے جواب میں تحریک انصاف کی طرف سے بھی غیر مناسب انداز میں گلالئی کی بہن جو سکواش کی چیمپئن ہیں پر ذاتی نوعیت کے حملے کیے گئے۔

ایسا کرنے میں پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کے ساتھ ساتھ پارٹی کی کچھ خواتین رہنما بھی پیش پیش تھیں جو افسوس ناک بات ہے۔ جہاں تک عائشہ گلالئی کے الزامات کی بات ہے اُس نے پاکستانی سیاست میں اگرچہ وقتی طور پر ہلچل پیدا کر دی لیکن یہ وہ معاملہ ہے جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے جس کے لیے گلالئی کو ثبوت پیش کرنا پڑیں گے۔ اگرچہ عمران خان کی ذاتی زندگی کے بارے میں طرح طرح کی باتیں گاہے بگاہے اُن کے مخالفین کی طرف سے کی جاتی رہیں لیکن یہاں الزام لگانے والی خاتون کا تعلق کل تک نہ صرف پی ٹی آئی سے تھا بلکہ وہ قومی اسمبلی کی رکن بھی ہے ۔ اگر گلالئی کوئی ثبوت پیش نہیں کرتی تو پھر خان صاحب کو چاہیے کہ خود آگے بڑھ کر عدالت کے ذریعے ایک کمیشن بنانے کا مطالبہ کریں تا کہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کر سکیں۔ 

ماضی میں جب اس نوعیت کے الزامات خان صاحب پر لگائے گئے تو انہوں نے ہمیشہ ذاتی زندگی کے معاملات پر پردہ داری کی بات کی۔ خان صاحب نے میڈیا کو کبھی اپنی ذاتی زندگی کے متعلق بات کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی رہنما یا اہم ترین حکومتی ذمہ دار کے ذاتی کردار پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں تو آیا اُسے درگزر کرنا چاہیے یا نہیں۔ جہاں تک الزامات کی بات ہے تو ایک بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ خان صاحب نے بھی ہر اختلاف کرنے والے کی پگڑی اچھالی۔ کسی کو کرپٹ کہا تو کسی کو چور ڈاکو گردانا۔ کسی پر اپنے سیاسی مخالفین سے پیسہ کھانے کا الزام لگا دیا تو جب جی چاہا تو اختلاف کرنے والوں کو انڈین ایجنٹ بھی کہہ دیا ۔

بغیر ثبوت کے عائشہ گلالئی کی طرف سے عمران خان پر لگائے گئے الزامات اگر غلط بات ہے تو خان صاحب کی طرف سے دوسروں پر الزام تراشی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ کاش خان صاحب اس واقع سے سبق سیکھتے ہوئے اختلاف کرنے والوں کے متعلق بہتان تراشی اور غلط زبان استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ اس سے خان صاحب کی اپنی عزت میں اضافہ ہو گا اور سیاست میں شائستگی آئے گی۔ جہاں تک ذاتی زندگی اور کردار کے متعلق بحث کا تعلق ہے تو یہ بات درست ہے کہ ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں۔ غلطی، کوتاہی اور گناہ سے ہم میں سے کوئی پاک نہیں لیکن جہاں تک سیاسی رہنمائوں اور اعلیٰ ترین حکومتی ذمہ داروں کی بات ہے وہ رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اُن کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ کسی بڑے گناہ یا برائی کی وجہ سے مشہور نہ ہوں اور یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62-63 کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

آئین کے مطابق کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا اگر وہ ’’اچھے کردار کا حامل نہ ہوـ‘‘ اور ’’کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو‘‘ وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان آئینی شقوں پر عمل درآمد کے لیے میکنزم بنایا جائے تاکہ معاشرہ کے بہترین کردار کے افراد ہی اسمبلیوں اور ایوان اقتدار تک پہنچ پائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہر سیاسی پارٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رہنمائوں کے چنائو میں اُن کے کردار کو ضرور سامنے رکھیں۔ عائشہ گلالئی کے الزامات کی ابھی حیثیت نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت کا استحصال کیا جاتا ہے، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، انہیں وہ احترام نہیں دیا جاتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اس مسئلہ میں ہمیں زبانی جمع خرچ کرنے اور مغرب کی نقالی کی بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق ماحول تشکیل دینا چاہیے۔

انصار عباسی
 

No comments:

Powered by Blogger.