Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کا دل… اسلام آباد

پاکستان کا نیا دارالحکومت اسلام آباد خوبصورت علاقہ میں واقع ہے۔ ہمالیہ کی سی
چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے گھرا ہوا اسلام آباد ایسے ابتدائی کیمپ کی طرح ہے جو ہمالیہ کی کسی چوٹی کی تسخیر کے لیے لگایا گیا ہو۔ نئے دارالحکومت کا علاقہ سطح مرتفع پوٹھوار میں واقع ہے جہاں انسانی زندگی کے آثار آج سے پانچ لاکھ سال پہلے نمودار ہوئے۔ یہ منصوبہ جون 1959 ء میں وجود میں آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس طرح کراچی پر بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ کراچی میں صنعت، سیّاحت، تجارت اور بیشمار دوسری چیزیں اس طرح گڈ مڈ ہو گئی تھیں کہ جگہ بالکل باقی نہ رہی تھی۔ 

صدر ایوب نے کہا:۔ ’’دارالحکومت کو تجارتی یا صنعتی مرکز نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو صرف دارالحکومت ہونا چاہیے جہاں عوام کی بہبود کے لیے ملک کی انتظامیہ کام سنبھالے۔‘‘ اس بات پر پوری طرح عمل ہوا ہے۔ کام شروع ہونے کے بعد چار سال سے کم عرصہ میں مری کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک نیا شہر ابھر آیا ہے آج اسلام آباد زندگی سے بھرپور ہے۔ جہاں تعمیر کا کام زورشور سے جاری ہے اور یہ شہر اس ترقی پذیر ملک کے نئے دارالحکومت کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ کسی بھی نظریہ سے جانچئے، جتنا ترقیاتی کام ہو چکا ہے حیران کن ہے۔ خوبصورت نئی سڑکیں بچھائی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کے لیے مکانات بنائے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے نئے ماحول میں گھر بسا لیا ہے بیشتر دفاتر کی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں اور باقی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ 

ان میں قابلِ ذکر پاکستان ہائوس ہے۔ اس عظیم الشان سہ منزلہ عمارت کے آگے وسیع میدان پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ سیّاحوں کے لیے جدید طرز کا ہوٹل ہے جہاں اس کے لیے تمام آسائشیں اور سہولتیں موجود ہیں۔ پاکستان ہائوس سے وسیع میدانی علاقہ راول جھیل اور راول ڈیم کا دلفریب نظارہ دکھائی دیتا ہے یہ ہوٹل ائرکنڈیشنڈ ہے اور ہر کمرہ میں ریڈیو اور ٹیلیفون موجود ہے۔ اسلام آباد میں پارک ، تفریح گاہیں ، سکول، لائبریریاں، مساجد ، بازار اور نئی شاہراہیں بن چکی ہیں اور پنڈی سے دارالحکومت تک لمبا راستہ بے حد خوشگوار ہے پہاڑیوں کے پس منظر نے اس نئے شہر کو ملکوتی حسن بخش دیا ہے۔ خوبصورت ترین عمارات میں سے ایک ایٹمی سائنس کا مرکز (Nuclear Science Centre) ہے جو امریکی امداد سے تعمیر کیا گیا ہے یہ عمارت ہر دور میں قومی افتخار، اتحاد اور انسانیت کی خدمت کا مظہر رہے گی۔ 

نئے دارالحکومت کا پلان یونان کی مشہور فرم ڈوکیا ڈیز نے تیار کیا ہے جنہوں نے کراچی میں بنجر زمین پر کورنگی تعمیر کی ہے۔ راولپنڈی کے لوگوں کو اپنے گرد ابھرتا ہوا یہ علاقہ پریوں کی کہانی کی طرح معلوم ہوتا ہے اور ابتدائی رسمی باتوں کی جگہ اب ان جملوں نے لے لی ہے ’’ہماری عزت کتنی بڑھ گئی ہے؟‘‘کیا یہ اعزاز نہیں ہے؟ ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں۔ جس روز پاکستان کے صدر سرکاری طور پر کراچی (وہاں وہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے رہتے تھے) سے واپس لوٹے تو سڑکوں کو جھنڈیوں، پھولوں اور رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا، فضا پر تہوار کا رنگ چھایا ہوا تھا۔ شہر میں اس وقت پہنچنے والے مسافر بھی خوشی کی رو میں بہہ رہے تھے۔ سیّاح ہر حال میں ایک مہمان ہے اور لوگ اسے دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ ریلوے سٹیشن ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور آدمی سوچتا ہے ’’کیا یہ سب لوگ مجھے خوش آمدید کہنے آئے ہیں؟‘‘

کیمی میرپوا

No comments:

Powered by Blogger.