Header Ads

Breaking News
recent

وادئ سندھ اور تہذیبیں

یہ قیاس ہوتا ہے کہ سندھ کی ’’سلطنت‘‘ (اگر اس کی وسعت کی وجہ سے اسے یہ
نام دینا جائز ہے) کے خاتمے کے بعد تمدنی انتشار کا ایک لمبا دور گزرا۔ کچھ اسی طرح کے حالات نے سندھ کی تہذیب کو جنم دیا تھا مگر اب ان حالات میں کچھ دُور افتادہ بیرونی عناصر بھی شامل ہو گئے تھے۔ ہڑپہ میں تہذیبِ سندھ والے شہر کی جگہ شاید خاصی مدت گزر جانے کے بعد ’’قبرستان ایچ‘‘ کا تمدن وجود میں آیا۔ یہ نام اسے ایک قبرستان کی وجہ سے دیا گیا ہے جو حقیقی ہڑپہ تمدن کے کھنڈرات کے ساتھ پایا گیا ہے۔ قبرستان ایچ والے لوگ بھدی اور بے ڈھنگی عمارتیں اور اچھی نقاشی والے مٹی کے برتن بناتے تھے۔

ان میں کچھ نیم ہڑپہ عناصر موجود ہیں مگر بنیادی طور پر وہ اپنی مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمدن وسطی سندھ کے ایک ٹکڑے تک محدود تھا لیکن اس کی کافی کھوج ابھی نہیں ہوئی ہے۔ موہنجو داڑو کے 80 میل جنوب میں سندھ کی تہذیب کے چھوٹے قصبے چاہنو داڑو کی جگہ پر نچلے درجے کے ایک کے بعد ایک کر کے دو غاصب تمدن قائم ہوئے۔ انہیں مقامی ناموں ’’جُھکر‘‘ اور ’’جھنگر‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تیس میل دور آمری میں بھی یہی ہوا۔ جُھکر والے دیہاتی مٹی کے برتن بناتے تھے اور گول بٹن جیسی مہریں استعمال کرتے تھے جن پر عموماً گول یا چوکور خانے دار نمونے بنے ہوئے تھے۔ یہ شمالی ایران اور کاکیشیا میں دوسرے ہزار سالہ قبل مسیح قرن میں پائے جانے والے نمونوں کے مشابہہ ہیں۔
شمالی بلوچستان کی ژوب وادی میں مغل فنڈی مقام پر قبروسائی نشاندہی کرنے والے ڈھیروں سے ایک تین پایوں والا مرتبان‘ گھوڑے کی گھنٹیاں‘ انگوٹھیاں اور چوڑیاں پائی گئی ہیں۔ ان کا موازنہ وسطی ایران میں سیالک کے مقام پر ’’قبرستان بی‘‘ سے برآمد ہونے والے سامان سے کیا گیا ہے۔ یہ سامان لگ بھگ ایک ہزار سال قبل مسیح کا ہے‘ لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کا ہی ہو۔ کچھ اِکادُکا چیزیں دریافت ہوئی ہیں‘ جو اسی طرح مغرب میں ایران اور کاکیشیا کی طرف اشارہ کرتی ہیں‘ ان کی مثالیں ہیں۔ لگ بھگ بارہویں صدی قبل مسیح کا کانسے کا مشہور چُھدا جو سندھ کے مغرب میں کوہ سلیمان میں واقع فورٹ مندو سے ملا ہے اور تانبے کا ایسا محور والا کلہاڑا جو افغانستان کی سرحد پر قدم وادی میں پایا گیا ہے۔

اس تھوڑے سے سامان سے مجموعی طور پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی کم مایہ تمدنوں کو کچھ تو اپنی نیم سندھی وراثت سے ملاتی اور کچھ عناصر انہوں نے شمالی مغرب سے حاصل کرکے اپنے اندر سمو لئے تھے۔ حسب سمت سے درحقیقت آریوں کے حملے ہوئے تھے۔ مادی طور پر وادئ سندھ میں عظیم تہذیبِ سندھ اور اس کے بعد وجود میں آنے والے کم مایہ تمدنوں کے درمیان کوئی حقیقی تسلسل نہیں تھا۔ اس تسلسل کی غیرموجودگی غور طلب ہے۔

زبیر رضوی

No comments:

Powered by Blogger.