Header Ads

Breaking News
recent

شاہینوں کا شہر سرگودھا...

سرگودھا کا مقام: سرگودھا پاکستان کے منصوبہ کے تحت آباد یا تیار ہونے والے
تین شہروں (باقی دو اسلام آباد اور فیصل آباد) میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ہندو سادھو کے نام پر ہے جو کہ گول کھوہ (کنواں) پر رہتا تھا۔ جہاں دوسرے مسافر بھی آرام کرتے تھے۔ آج وہاں پر ایک خوبصورت سفید مسجد ہے جسکا نام گول مسجد ہے اور اسکے نیچے گول مارکیٹ ہے۔ انگریز راج میں یہ ایک چھوٹا قصبہ تھا لیکن اسکی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ایک فوجی ائرپورٹ بنایا گیا۔ جو آزادی کے بعد پاکستانی فضائیہ کے لیے مزید اہمیت اختیار کر گیا۔ سرگودھا پہلے شاہپور کی ایک تحصیل تھی لیکن اب شاہپور سرگودھا کی تحصیل ہے۔

اور سرگودھا سے 7 کلو میٹر دور ایک قدیم گاؤں ہے جو کہ چک نمبر 101 شمالی کے نام سے مشہور ہے وہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کے 65 کی جنگ میں دشمن نے بم گرایا تھا جو کے چھپڑ (گندے پانی کی نکاسی کی جگہ ) میں گرا جس کی وجہ سے جانی نقصان بہت کم ہوا لیکن مالی نقصان بہت زیادہ تھا لوگوں کی بھیڑ بکریاں سب مر گئی تھی بس ایک بکری زندہ بچی تھی اور وہ میزائل آج بھی چک نمبر 101 کے چوک میں نصب ہے جس کی وجہ سے 101 بہت مشہور ہے۔

ہلال استقلال
پاکستان کے تین شہروں لاہور، سرگودھا اور سیالکوٹ کے شہریوں کو 1965ء کے پاک بھارت جنگ میں بہادری کے لیے ھلال استقلال سے نوازا گیا جو کہ ان کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ اسی طرح سرگودھا کے لوگ بھی اس پر فخر کرتے ہیں۔ جو کہ انہیں پاکستان کے باقی شہروں سے نمایاں کرتا ہے۔ سرگودھا ہمیشہ سے ہی بہادروں کی سرزمین رہی ہے۔ اورپاکستان فضائیہ کے پائیلٹ ان بہادروں میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔

شاہینوں کا شہر
1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کی پاک فضائیہ نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے سرگودھا کے پاک فضائیہ طیاروں نے بہت جواں مردی کے ساتھ دشمن کا منہ توڑ جواب دیا اور سرگودھا سے پرواز کر کے دشمن کی زمین پر جا کر اسکے اہم ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا دشمن کی طرف سے سرگودھا پہ ہونے والے اک حملے میں پاک فضائیہ نے نہ صرف حیران کن دفاع کیا بلکہ پاک فضائیہ کے ایک پائلٹ ایم ایم عالم نے محض تین یا چار سیکنڈ میں دشمن کے 4 طیارے مار گرائے جو کہ اک عالمی ریکاڑ ہے انہوں نے مجموعی طور پر 9 طیارے مار گرائے اور دو کو نقصان پہنچایا ہے اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے اک یاد گار دفاع کیا اسی مناسبت سے سرگودھا کو "شاھینوں کا شہر" کہتے ہیں. 

(پھل مالٹے) کنو سنگترے
ضلع سرگودھا کے علاقوں میں پیدا ہونے والے خوشبودار اور لزیذ ترش پھل مالٹے سنگترے اور کنو معیار اور ذائقے کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں یہ پوری دنیا میں بے حد پسند کیے جاتے ہیں اس وجہ سے بھی سرگودھا بے حد شہرت کا حامل شہر ہے۔ یہاں پر ترش پھلوں کے سینکڑوں مربع پھیلے باغات سے حاصل ہونے والا پھل بیرون ملک بھی برآمد کیے جائے ہیں۔ 

یونیورسٹی آف سرگودھا

سرگودھا میں موجود یونیورسٹی کا شمار پنجاب کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے جس نے کم عرصے میں بہترین خدمات سر انجام دیں ہیں یونیورسٹی کے قیام کی وجہ سے بھی سرگودھا شہر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ 

(رانجھا)تخت ہزارہ
 تخت ہزارہ کا تذکرہ ابوالفل نے اپنی کتاب آئینِ اکبری میں کیا ہے جو کہ اکبر بادشاہ کا مشہور تھا اس کے علاوہ تخت ہزارہ کی وجہ شہرت مشہور پنجانی داستان ہیر رانجھا کا کردار ہے جسے تاریخ رانجھا کے نام سے یاد کرتی ہے رانجھا کا تعلق اِسی تخت ہزارہ سے تھا۔ 

(مغل شہزارہ) شاہ شجاع
سرگودھا شہر سے چند کلو میڑ کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ دھریمہ ہے تاریخ میں ملتا ہے کہ اک مغل شہزادہ شاہ شجاع جو کہ شاہجہان کا بیٹا تھا اِس نے اپنے سوتیلے بھائی اورنگ زیب کے ہاتھوں شکت کھانے کے بعد اس قصبے دھریمہ میں آ کر پناہ لی اوراِس جگہ موجود اک بزرگ جن کا نام حبیب سلطان ناگہ تھا اْن کے ساتھ اپنی بقیہ عمر گزاری دی اسی جگہ پہ شاہ شجاع کی قبر بھی موجود ہے. 

ریلوے
سرگودھا ریلوے اسٹیشن پاکستان ریلویز کی لالہ موسیٰ - شور کوٹ برانچ ریلوے لائن پر سرگودھا کے درمیان واقع ہے۔ یہاں تمام ایکسپریس ٹرینیں رکتی ہیں۔ یہ سرگودھا - خوشاب برانچ ریلوے لائن کا جنکشن بھی ہے۔ 

مشہور شخصیات
ادب کے حوالے سے ضلع سرگودھا میں بہت مشہور شخصیات قابل ذکر ہیں جن میں ڈاکٹر وزیر آغا کا نام سر فہرست ہے ، احمد ندیم قاسمی بھی سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے ان کے علاوہ ادبی شخصیات میں سید قاسم شاہ ،سید شاہد محسن، افضل گوہر راؤ، ارشد محمود ارشد ،سید عقیل شاہ اور شاکر کنڈان کا نام سر فہرست ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.