Saturday, July 2, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

وطن سے یا ڈالر سے پیار؟

’امریکی حب الوطنی‘ بڑے زور و شور سے ٹرینڈ کر رہی ہے۔ ٹوئٹرڑ، فیس بک اور گوگل پر ہی نہیں بلکہ پوری فضا ہی حب الوطنی کے تین رنگوں یعنی سرخ، نیلے اور سفید کی آغوش میں ہے۔ چار جولائی جو ہے، کوئی مذاق تھوڑی ہے۔ دنیا کا سب سے طاقتور ملک اپنی آزادی کا جشن منا رہا ہے اور اس بار تو انتخابی سال ہے یعنی سونے پر سہاگا۔ یہ امریکہ کو پھر سے عظیم تر طاقت بنانے کا سال ہے، امریکی سرحدوں کو پختہ کرنے کا سال ہے، حب الوطنی کو اجاگر کرنے کا سال ہے، باہر سے آنے والے لوگوں کو بھگانے کا سال ہے اور ان کے نام پر امریکیوں کو ڈرانے کا سال ہے۔

 دکانوں میں تو حب الوطنی کی جیسے آگ برس رہی ہے۔ چین، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تیار ہونے والی اشیا امریکی رنگوں میں لپیٹ کر دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہیں۔ چپّل ہو یا چشمہ ہر چیز پر حب الوطنی کی چھاپ ہے۔ ملبوسات سے بھی حب الوطنی کا اظہار کیا جا رہا ہے. اندازہ ہے کہ چار جولائی کو 50 کروڑ بیئر کی بوتلیں پی جائیں گی، 15 کروڑ ہاٹ ڈاگ کھائے جائیں گے، گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرچم بھی خریدے جائیں گے۔
بیئر بنانےوالي کمپنی بڈوائزر نے تو اپنا نام ہی تبدیل کر لیا ہے اور بوتلوں پر صرف ’امریکہ‘ لکھا جائے گا۔ حب الوطنی اور ڈالر سے پیار دونوں ہی ایک ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔ لیکن بحر اوقیانوس کے اس پار یہی حب الوطنی قہر برپا کر رہی ہے۔ جس تیزی سے حب الوطنی عروج پر جا رہی ہے اسی تیزی سے برطانوی پاؤنڈ زمین پر گر رہا ہے۔ یہ گڑ بڑ کیسے ہو گئی؟ آزادی کا جشن تو غلام رہنے والے ممالک بھی مناتے ہیں۔ جس نے برسوں تک صرف راج کیا ہو اسے آزادی منانے کی کیا ضرورت تھی؟ جس نے ہم ان پڑھ گنواروں کو انگریزی بولنا سکھایا، ’ڈیوائیڈ اینڈ رول‘ کی تعلیم دی، ایک کام کو روکنے کے لیے سو طریقوں والی نوکر شاہی کو جنم دیا اس ملک سے ایسی غلطی کیسے ہوگئی؟ انتخابات میں کیے گئے وعدوں کو سنجیدگی سے تو لیا نہیں جاتا، آخر یہ بات ڈیوڈ کیمرون صاحب کیسے بھول گئے؟
  
انتخابات کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ یورپ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کروائیں گے لیکن اس پر عمل کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی۔ اب جب کہ آزادی کا نعرہ لگانے والے دیش بھکتوں کے پاس کچھ بھی کرنے کو نہیں بچا ہے تو وہ آنے جانے والوں پر ملبہ پھینک رہے ہیں۔ اپنی پرانی کالونیوں کو ہی دیکھ لیتے۔ انتخابات کے دوران کوئی متحدہ بھارت کی بات کرتا ہے تو کوئی پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی بات کرتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا کوئی کرتا ہے کیا؟ دکان بھی تو چلانی ہوتی ہے! موسم گرما کے دن ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے سیاستدان ان دنوں ضروری کام سے لندن میں ہی ہوتے ہیں۔ کوئی دل کے علاج کے لیے، کوئی پرانی بیوی کے بھائی کے انتخابات میں مہم چلانے کے لیے تو کوئی دریائے ٹیمز کی صفائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے۔
  
کیمرون صاحب، ان دیسی ماہر لوگوں میں سے کسی ایک سے تو مل لیتے۔ نہاری بھی ملتی اور مشورہ بھی۔ اب بھگتو۔ سنا ہے پیٹھ پیچھے سبھی ہنس رہے ہیں۔ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ نے ٹرمپ کا مذاق اڑانے کا حق بھی کھو دیا۔ کہیں آپ کو تو یہ نہیں لگا کہ امریکہ میں بھی جو عظیم طاقت بننے کی مہم چل رہی ہے وہ حقیقت میں ہونے جا رہی ہے اور لوگ آپ پر انگلياں اٹھائیں گے کہ انھیں موقع نہیں دیا گیا؟ ارے سر کہاں ہو آپ؟ حب الوطنی تو کرکٹ اور فٹ بال کے میدانوں پر یا انتخابی وعدوں میں ہی فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔ امریکہ میں بھی وہ جب تک ڈالر برساتی ہے، تبھی تک اچھی لگتی ہے۔ آپ کے محب وطن بھی نعرے لگاتے، پھر اپنے کام میں لگ جاتے۔ کس کے چکر میں پھنس گئے آپ؟
  
 خیر، جس عمارت میں میں رہتا ہوں وہاں نوٹس لگا ہوا ہے کہ اس بار چار جولائی کی شام کو بیئر اور کھانا مفت ملےگا لیکن ساتھ میں حب الوطنی پر مبنی ایک گیت بھی گانا ہوگا۔ جاکر پوچھتا ہوں کہ اقبال کا لکھا ہوا ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں۔۔۔‘ کا راگ الاپوں تو چلے گا کیا؟

برجیش اُپادھیائے
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :