Wednesday, February 17, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

امری نل تہذیب

محققین کا خیال ہے کہ امرنل تہذیب پانچ ہزار برس پرانی ہے۔ تہذیب کے آثار وسطی بلوچستان جنوبی بلوچستان کے اکثر علاقوں اور بالائی سندھ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ امری صوبہ سندھ میں ضلع دادو کا ایک گائوں ہے، جو دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر قریباً ایک میل دور واقع ہے۔ امری دو ٹیلوں پر مشتمل ہے، ایک ٹیلہ چالیس فٹ اور دوسرا ٹیلہ تیرہ فٹ بلند ہے۔ 

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیلہ پانچ مرتبہ آباد رہا۔ یہاں پر سب سے قدیم آبادی ڈاکٹر محمد رفیق مغل کی تحقیق کے مطابق 3540 ق م سے لے کر 3440 ق م کے دوران آباد رہی۔ نل صوبہ بلوچستان میں خضدار شہر سے قریباً4 کلو میٹر کے فاصلہ پر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔ امری اور نل کی درمیانی فضائی مسافت قریباً ڈھائی سو کلو میٹر ہے۔ دونوں مقامات کی کھدائی سے جو تہذیبی آثار و باقیات دریافت ہوئے ہیں انہیں ’’امری نل تہذیب‘‘ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ 

اس تہذیب کادائرہ وسعت کوئٹہ تہذیب کے مقابلہ میں زیادہ وسیع ہے۔ ان کے برتنوں کا رنگ بادامی ہے اور ان پر آرائشی تصاویر جانوروں کی بنائی گئی ہیں۔ مثلاً :شیر، مچھلی، بیل اور دیگر پرندوں کے علاوہ پیپل کے پتے کی تصویر بھی موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برتنوں پر یہی آرائشی نقوش یا تصاویر بعد کے دور میں ہڑپہ تہذیب نے ظروف پر ترقی یافتہ شکل میں نمودار ہوئے۔ اس دور میں تدفین کے دو طریقے رائج تھے۔ پہلا طریقہ تو یہ تھا کہ وہ لوگ مردوں کو دفن کرتے تھے اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ وہ مردوں کو کھلی جگہ پر رکھ دیتے تھے جب ان کا گوشت پرندے وغیرہ نوچ لیتے، تو باقی ہڈیاں دفن کر دی جاتیں۔

 لاشوں کے ساتھ مٹی کے ظروف اور دیگر سامان ِحیات رکھ دیا جاتا تھا۔ مثلاً  مردوں کے ساتھ مالائیں ،چوڑیاں اور کڑے وغیرہ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ مردوں کے ساتھ منقش برتنوں کے علاوہ تانبے کے اوزار بھی رکھ دیئے جاتے تھے ۔ بعد میں یہ طریقہ تدفین ہڑپہ تہذیب میں بھی تبدیل ہوا۔ یہاں سے تانبے کے کلہاڑے ،آرے اور چوڑیاں بھی دریافت ہوئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ لوگ تانبے کے استعمال سے بھی آشنا تھے۔

 (پاکستان کے آثارِ قدیمہ )

شیخ نوید اسلم

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :