Sunday, February 14, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

پی آئی اے کو منافع بخش کیسے بنایا جائے؟

پاکستان میں بہت سی غلط فہمیاں لوگوں میں ہر وقت موجود رہتی ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کی غالب اکثریت کسی بھی ایشو پر تحقیق کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں اور مفروضوں پر یقین کر تی ہے۔ پی آئی اے کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے، جب بھی پی آئی اے کی نجکاری کی بات ہوتی ہے، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قومی پرچم بردار ائر لائین   کو پرائیویٹائز کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہرگز درست نہیں ہے کیونکہ پچھلے بیس پچیس سالوں میں بہت سے ملکوں کی قومی ائرلائینوں کی نجکاری ہو چکی ہے اور آہستہ آہستہ ان میں اضافہ ہورہا ہے۔

 ہمارے ملک میں لوگ چونکہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے عادی ہیں اس لئے سادہ لوحی میں سمجھتے ہیں کہ قومی ائرلائین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ سرکاری تحویل میں رہے۔ آج سے بیس تیس یا چالیس سال پہلے سرکاری شعبہ میں ائرلائین چلانا آج کے مقابلہ میں انتہائی آسان تھا کیونکہ پرائیویٹ ائرلائینز بہت کم ملکوں میں تھیں ، اس وجہ سے سرکاری ائرلائینیں چلانے میں کسی مسابقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا لیکن آج کی کارپوریٹ دنیا بہت مختلف ہے۔
یہ مارکیٹ کی حرکیات کی بنیاد پر چلتی ہے جس میں سب سے اہم وہ سینکڑوں ائرلائینیں ہیں جو پچھلے پندرہ بیس سالوں میں معرضِ وجود میں آ چکی ہیں اور مارکیٹ شیئر کا بڑا حصہ حاصل کر چکی ہیں۔ ان میں سروس کا اعلیٰ ترین معیار، وقت کی پابندی، پروفیشنل عملہ، نئے جہازوں کا فلیٹ اور مناسب کرائے وغیرہ شامل ہیں جن میں سے کسی بھی ایک عنصر کے بغیر مسابقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جس زمانے کی لوگ مثالیں دیتے ہیں اس زمانے میں امارات، قطر اور ٹرکش ائرویز یا اتحاد ائرلائینز وغیرہ نہیں ہوتی تھیں، اب تقریباً ہر ملک میں سرکاری ائرلائینوں کا پرائیویٹ ائر لائینوں سے انتہائی سخت مقابلہ ہوتا ہے جس میں زیادہ پریشر سرکاری ائرلائین پر ہی ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ایک کرکے بہت سارے ممالک کی حکومتوں نے ائرلائین بزنس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ جن ممالک میں سرکاری ائرلائینز ہیں وہ بھی انہیں کارپوریٹ سٹائل میں چلا رہی ہیں اور سرکاری طور طریقوں سے گریز کر رہی ہیں۔

 ایک اور مفروضہ کہ ہر ملک کی قومی پرچم بردار ائرلائین ضروری ہوتی ہے، اگر ایسا ہے تو جن صاحب کو بھی دنیا کی واحد سپر پاورامریکہ کی قومی پرچم بردار ائرلائن کا پتہ ہو وہ ہمیں بھی اس سے ضرورمطلع کرے اور دعائیں لے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مفروضوں سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں بسیرا کیا جائے۔

پاکستان بننے کے بعد ملک کی پہلی قومی ائر لائین اورینٹ ائرویز تھی جسے آٹھ سال بعد 10 جنوری 1955ء کوپاکستان انٹرنیشنل ائرلائین کارپوریشن میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ قومی ائرلائین پی آئی اے کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے اور شروع سے ہی سرکاری ائرلائین کا درجہ رکھتی ہے۔دو ماہ قبل 4دسمبر 2015ء کو اسے لمیٹڈ کمپنی کا درجہ دے دیا گیا لیکن ساتھ ہی اس کی ممکنہ نجکاری کی چہ میگویاں بھی شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے پی آئی اے ملازمین میں بے چینی پھیلنا قدرتی امر تھا۔ 1955ء میں بھی اس وقت کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا کی حکومت نے قومی ائرلائین اورینٹ ائرویز کو ختم کرکے پی آئی اے شروع کی تھی۔ 

اگر محمد علی بوگرا کوئی کام کر سکتے ہیں تو وہی کام میاں نواز شریف کیوں نہیں کر سکتے؟برطانیہ میں برٹش ائرویز شروع کی گئی۔ پانچ سال قبل 2011ء میں بھارت میں انڈین ایرلائینز کو ختم کرکے ائر انڈیا میں ضم کردیا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ فہرست بہت طویل ہے، میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں ٹھپ ہوئی ائرلائین کو پرائیویٹائز یا ختم کرکے نئی ائرلائین شروع کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں جو معمولی سی تحقیق سے کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے۔

جہاں تک نجکاری کا تعلق ہے تو 1987ء میں جب برطانیہ نے برٹش ائرویز کی نجکاری کی تو اس کے بعد سے درجنوں ممالک اب اپنی اپنی ائرلائین کی نجکاری انتہائی کامیابی سے کرنے کے بعداس لئے چین کی بانسری بجا رہے ہیں کہ یہ کاروبار اب حکومتوں کی بجائے کارپوریٹ سیکٹر کے کرنے کا ہے۔ برطانیہ کے صرف ایک ماہ بعد اسی سال جاپان نے بھی اپنی ائرلائین پرائیویٹائز کر دی تھی۔ 

یہاں تفصیل میں جائے بغیر مختصراً صرف اتنا عرض ہے کہ کینیڈا اور چلی نے 1989ء میں، جرمنی نے 1994ء ، اسرائیل اور سوشلزم کے ایک بڑے سابق سرخیل عوامی جمہوریہ چین نے 2004ء ، آئرلینڈ نے 2006 ء، میکسیکو نے 2007ء ، اٹلی نے 2008ء میں اپنی اپنی ائرلائینز کی پرائیویٹائزیشن کر دی تھیں۔ البتہ ایک واحد استثنا نیوزی لینڈ کی رہی جب اس نے 1989ء میں اپنی ائرلائین کی نجکاری کی لیکن بعد میں 2001 ئمیں اسے دوبارہ قومی تحویل میں لے لیا۔

 بات صرف یہیں پر نہیں ختم ہوتی کیونکہ بہت سے ایسے ممالک میں جہاں ائرلائینز کی نجکاری ابھی تک نہیں کی گئی ہے ان کی ری سٹرکچرنگ اس طرح سے کردی گئی ہے کہ ایک پروفیشنل مینجمنٹ کو کارپوریٹ سیکٹر سے لیا گیا ہے یا اس کی مینجمنٹ کی نجکاری کر دی گئی ہے۔ میرے خیال میں حکومتِ پاکستان کے پاس تینوں آپشن کھلے ہیں، وہ پی آئی اے کی نجکاری بھی کر سکتی ہے یا اس کی مینجمنٹ اور آپریشنز کو کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کر سکتی ہے یا پھر پی آئی اے ختم کرکے نئے کارپوریٹ انداز میں ایک نئی ائرلائین بھی شروع کر سکتی ہے۔ ان تینوں میں سے جو بھی فیصلہ کیا جائے وہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بہتر ثابت ہو گا۔

اب جہاں تک پی آئی اے میں احتجاج یا ہڑتال کا تعلق ہے ، آٹھ دن کی اعصاب شکن ہڑتال کے بعد بالآخر پی آئی اے ایکشن کمیٹی نے اپنا احتجاج کوئی بھی مطالبہ منوائے بغیرختم کردیا اور قومی ائرلائین دوبارہ سے محو پرواز ہو گئی ہے۔ میں ابھی تک یہ نہیں سمجھ پایا ہوں کہ ہڑتال کا فیصلہ کیوں کیا گیا کیونکہ پی آئی اے کوئی ایسا مسئلہ تو تھا نہیں کہ پبلک سڑکوں پر آتی۔ 

کچھ نا دیدہ عناصر نے انسانی جانیں لے کر کوشش بھی کہ اسے قومی بحران بنا دیا جائے لیکن ظاہر ہے عوامی مسئلہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا،اس ناکام کوشش کے بعد بھی جب ہڑتال کامیاب ہوتی نظر نہ آئی تو اسے ختم کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ انسانی جانوں اور قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصان کا حساب بہر حال ان عناصر کو دینا پڑے گا جنہوں نے ملازمین کو اکسا کر پی آئی اے کے آپریشن بند کروائے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو روزانہ انتہائی تکلیف اور کاروباری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اگر عالمی یا علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو پی آئی اے کا شمار درمیانے سے بھی کچھ چھوٹی ائر لائینوں میں کیا جا سکتا ہے کیونکہ چھوٹے بڑے تمام جہاز ملا کر اس کے فلیٹ میں محض 38 جہاز ہیں۔ پی آئی اے کو اگر عالمی یا علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے یہ درمیانی بھی نہیں بلکہ واقعی ایک چھوٹی ائرلائین ہے۔ پی آئی اے کے 38 جہازوں کے لئے 19 ہزار ملازم ہیں جبکہ ٹرکش ائرلائین کے 300سے زائد جہازوں کے لئے 18 ہزار۔ عوام خود فیصلہ کرے کہ پی آئی اے منافع میں جائے تو کیسے جائے؟

ناصر چوھدری

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :