Saturday, December 19, 2015

KHAWAJA UMER FAROOQ

مجبوراً نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں اپنے آبائی ممالک سے زبردستی نقل مکانے کرنے پر مجبور لوگوں کی تعداد چھ کروڑ سے ’کہیں زیادہ‘ بڑھ جائے گی۔
  
پناہ گزین کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق ’ہر 122 افراد میں سے ایک کو اپنے ملک سے زبر دستی منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔ 

یو این ایچ سی آر نے مزید کہا ہے کہ ان پناہ گزینوں کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ ہے جو کہ سنہ 1992 کے بعد سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کی وجوہات شام اور یوکرائن میں جنگ اور دیگر تنازعات ہیں۔
یہ اعداد و شمار 2015 کے ابتدائی چھ مہینوں میں لیے گئے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والے پناہ گزین زیادہ تر اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سفر کر کے وہاں پر رہتے ہیں

افغانستان، صومالیہ اور جنوبی سوڈان میں بھی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے نقل مکانی کی ہے۔
اس کے علاوہ برنڈی، جمہوریہ وسطیٰ افریقہ، کونگو اور عراق میں بھی شدید تنازعات پیش آنے کی وجہ سے کئی افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی۔
سنہ 2014 میں پناہ گزینوں کی جانب سے دیگر ممالک میں پناہ لینے کی درخواستوں میں 78 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ڈی پیز کی تعداد تین کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ آنٹونیو گٹریز نے ایک بیان میں کہا:  زبردستی کروائی جانے والی نقل مکانی ہماری دنیا کو بہت متاثر کر رہی ہے۔ اپنا سب کچھ کھو دینے والے لوگوں کو اس سے پہلے رواداری، ہمدردی اور یکجہتی کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔ 
رپورٹ کا مزید کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے متصل ترقی پذیر ممالک کو پناہ گزینوں کا بوجھ زیادہ اٹھانا پڑتا ہے۔
رواں سال یورپ میں سب سے زیادہ پناہ لینے کی درخواستیں جرمنی میں دی گئیں جو کہ اب تک ایک لاکھ 59 ہزار تک پہنچ چکی ہیں۔

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :