Sunday, October 18, 2015

KHAWAJA UMER FAROOQ

بھارتی سیکولرازم کی شکست مبارک ہو

بھارت میں گائے کے معاملے پر مسلمانوں کو انتہا پسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں زندہ درگور ہوتے دیکھ کر ہم کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ جو کھچ بھارت میں ہو رہا ہے اس پر تو پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہئے کہ بالآخر بھارتیوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ سیکولرازم کوئی چیز نہیں ہوتی، ریاست وہی ہوتی ہے جو اکثریتی مذہب والوں کی ہو ، اس میں باقی مذاہب کے ماننے والوں کے لئے جگہ نہیں ہوتی۔ اگر ہوتی ہے تو انہیں اکثریت کی شرائط کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ اگر وہ ان شرائط پر زندگی نہیں گزار سکتے تو کسی دوسرے ملک میں پناہ لے لیں یا اپنا مذہب تبدیل کر لیں یعنی مسلمانوں پر دباؤ ہے کہ یا تو وہ پاکستان چلے جائیں یا پھر ہندو بن جائیں۔ ہمارے ہاں بھی مسیحیوں نے جانیں بچانے کے لیے اپنے نام مسلمانوں والے رکھ لیے ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کا جینا حرام ہورہا ہے۔ بھارت کی جو طاقت تھی وہ کمزوری مٰن بدل رہی ہے۔ اس کی طاقت اور خوبصورتی سیکولرازم میں تھی۔ ایک سیکولر ریاست میں ہی سیکڑوں نسلوں، زبانوں اور مذاہب کے انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ پہلے بھارتی دانشوروں اور سیاستدانوں کو اور کوئی بات نہ ملتی تو ہم پاکستانیوں کو یہ طعنے دیتے تھے کہ دیکھو ہندوستان کا آئین سیکولر ہے۔ یہاں سکھ، مسلمان، شودر، چائے بیچنے والا، ہندو کوئی بھی ملک کا وزیر اعظم یا صدر بن سکتا ہے، ملک کے کسی بھی عہدے پر تعینات ہوسکتا ہے، پاکستان کے آئین میں یہ گنجائش موجود نہیں ہے۔ ہم کرپٹ ترین سیاستدان کو وزیر اعظم یا صدر بنا لیں گے، چاہے اس پر نیب کے مقدمات ہوں، لیکن آئین میں ایک ہندو ، مسیحی یا سکھ کو یہ حق نہیں دیا گیا۔

ہمیں ایک اچھے ، ایماندار ، محب وطن ہندو، مسیحی یا سکھ سے زیادہ وہ کرپٹ مسلمان سیاستدان عزیز ہے جو مسلمان گھر میں پیدا ہوا ہے، چاہے وہ پورا ملک لوٹ کر سوئش ، لندن یا دبئی کے بینکوں میں لے جائی، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔ چیف جسٹس کارنیلیس، جسٹس بھگوان داس اور سیسل چوہدری جیسے کئی پاکستانی ثابت کر چکے ہیں کہ ان سے اچھے اور ملک سے محبت کرنے والے شاید کوئی اور ہوں۔
انہیں موقع ملا تو ثابت کیا کہ انہیں مذہب سے زیادہ اپنے وطن سے محبت تھی۔ مجھے کمینی سی خوشی ہورہیی ہے کہ بھارت بھی دھیرے دھیرے ہندو ریاست بننے کی جانب گامزن ہے۔ کمازکم میرے جیسے لوگوں کی اپنے بھارتی دوستوں کے طعنوں اور طنزیہ ہنسی سے جان چھوٹ جائے گی لیکن لگتا ہے انتہا پسند ہندوؤں کے لیے یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا۔ راکھ میں دبی ہوئی چنگاری بھڑک سکتی ہے۔

جہاں مودی پوری کوشش کر رہے ہیں، ہندوستان کا آئین بدل دیا جائے ، ہندوستان کا صدیوں پرانا کلچر تبدیل کر دیا جائے وہاں ایسی طاقتیں بھی موجود ہیں جو شدت پسند بھارتیوں سے لڑ رہی ہیں، جو بھارت کو سیکولر چاہتی ہے۔ تین بہادر اور انسان دوست ہندو لڑکوں کی کہانی پاکستانی میڈیا کو پسند نہیں آئی کہ کیسے انہوں نے اپنی جان خطرے مٰں ڈال کر ستر مسلمان ہمسایوں کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مرنے سے بچایا۔ شاید ہم ڈر گئے کہ کہیں پاکستانی ان ہندو لڑکوں کو اچھا نہ سمجھ بیٹھیں۔

ہمارے میڈیا میں یہ خبر بھی جگہ نہ بنا سکی اور نہ ہی اس پر کوئی ٹاک شو ہوا کہ اکتالیس ادیبوں اور شاعروں نے بھارتی حکومت کو وہ تمام سرکاری ایوارڈ احتجاج واپس کر دیے ہیں جو انکی ادبی خدمات کے صلے میں دیے گئے تھے۔ یہ سارے ادیب احتجاج کر رہے ہیں کہ مودی کے بھارت میں جس طرح عدم برداشت اور سیکولرازم کا جنازہ نکالا جا رہا ہے، وہ سرکار کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن وہ ایوارڈ واپس کر سکتے ہیں جو انکے گلے میں بھارتی سرکار نے ڈالے تھے۔ ہمارے دانشوروں، ادیبوں اور کالم نگاروں کے نزدیک شادی یہ بھی 41 بھارتی ادیبوں اور شاعروں کا ڈرامہ ہوگا۔ سب کہیں گے اس سے کیا فرق پڑے گا۔ ویسے جب کوٹ رادھاکشن میں ایک مسیحی جوڑے کو جلایا گیا تو کتنے ادیبوں یا شاعروں نے احتجاجا اپنے ایوارڈ واپس کیے تھے؟

ہمارے ہاں سیکولرازم کو گالیاں دینا فیشن ہے۔ ہمارے نزدیک جو بھی واقعات ہوتے ہیں وہ بھارتی سیکولرازم کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ مجھے ایک بات کی کبھی سمجھ نہیں آٗی ہم بھارتی سیکولرازم سے نفرت کرتے ہیں چڑتے ہیں اور اسے بھارت کا ڈرامہ سمجھتے ہیں، لیکن شاید جب بھارتی سیکولرازم سے ہماری نفرت سے متاثر ہو کر خود کو ہندو ریاست بنانے کا سفر شروع کرتے ہین یعنی یہ کہ بھارت کو ایک ایسی مذہبی ریاست بنایا جائے جس مٰں صرف ہندو رہ سکیں تو بھی ہم اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ ہندو ہمیشہ سے ہندو ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ہم بھارت کو ہندو ریاست بنتے دیکھ کر ناراض ہو جاتے ہیں۔

سیکولر انڈیا بھی ہمیں پسند نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہندو بھی ہماری طرح ایک مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتراض کیوں ہو رہا؟ ہو سکتا ہے کہ ہندوؤں کو اب احساس ہوا ہو کہ انکا سیکولرازم کی طرف جھکاؤ غلط تھا، انہیں بھی پہلے دن سے ایک ہندو مذہبی ریاست کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ چلیں دیر آید درست آید۔ وہ اگر آج گاندھی اور نہرو کو غلط ثابت کر رہے ہیں تو ہمیں کیوں تکلیف ہے؟ ہم کیوں ان سے ناراض ہیں؟ حالانکہ وہ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں اور کہتے ہیں وہ سیکولرازم کا ڈرامہ بند کرے دنیا کو بتائے کہ وہ ہندو ریاست ہے، جیسے ہم مسلمان ریاست ہیں ، یا اسرائیل یہودی ریاست ہے۔ اب وہ اپنا ڈرامہ بند کر رہے ہیں۔

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اگر ہمیں سیکولرازم پسند نہیں ہے، ہندو ریاست بھی پسند نہیں ہے تو پھر ہندوستان کو اپنے لیے کونسا نظام اپنانا چاہیے جس میں سیکڑوں مذاہب، زبانیں ، ثقافتیں اور قومیں ایک دوسرے کا خون بہائے بغیر آرام سے رہ سکیں، جیسے اللہ کے فضل سے ہم پاکستان مٰں رہتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں نہ تو عیسائی جوڑے کو جلایا جاتا ہے نہ لاڑکانہ میں ہندوؤں کے مندروں کو جلایا جاتا ہے، نہ گوجرہ مٰن نومسیحیوں کو جلایا جاتا ہے ۔ لاہور کی جوزف کالونی مٰں بھی کوئی غلط نہیں ہوتا۔ ہزارہ شیعوں کا قتل عام نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سے ہزاروں کی تعداد میں اقلیتوں کے کؤلوگ دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں لیکن ہم پھر بھی خوش ہیں کہ ہمارے ریاست مٰں اقلیتوں کا وہ حشر نہیں ہورہا جو بھارت میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔

ویسے کبھی ہم نے سوچا، ہندوستان میں رہنے والے بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کی زندگیاں آسان بنانے اور انہیں بھارت مٰں سر اٹھا کر جینے کے لیے ہم نے کیا آسانیاں فرہم کی ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنے کچھ مفادات ققربان کر کے ان مسلمانوں کو ہندوستان میں آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے؟ 2004ء میں پاکستانی صحافیوں کا ایک گروپ ہندوستان گیا تو ایک مسلمان رکن پارلیمنٹ نے جو بات کہی وہ آج تک میرے ذہن میں ہوں گے کیونکہ آپ کو پانی وہیں سے ملتا ہے، لیکن کبھی ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کے لیے بھی ہندوستان سے لڑائی کی ہے؟ تینوں لڑائیاں کشمیر کے لیے لڑی گئیں۔

کبھی ہمارے لیے بھی لڑائی نہ سہی، ہندوستان سے کوئی کمپرومائز کیا ہے جس سے ہماری زندگیاں آسان ہو سکتیں؟ کیا ساٹھ لاکھ کی اہمیت ہم بیس کروڑ سے زیادہ ہے؟ آپ کو ملک مل گیا، اسکے بعد آ پ لوگوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا کک جو رہے گئے تھے انکا کیا ہوا۔ اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا تو ہندوستان سے ایسے تعلقات رکھتے کہ ہماری زندگیاں محفوظ رہتیں۔ الٹا نہر ولیاقت معاہدے میں پابند کر دیا گیا کہ دونوں ملکوں کے شہری اب واپس نہیں لوٹ سکتے۔ میں نے جواب دیا تھا کہ یہ سب باتیں میرے جیسوں کے بس سے باہر ہیں۔ اس پر اس مسلمان رکن پارلیمنٹ تلخ انداز میں کہا تھا کہ پھر آپ دانشوری کرنا بند کر دیں، ایسے سوالات نہ پوچھیں اور نہ ہم سے ملا کریں، ہم جانیں اور ہندوستان جانے ہمارا رونامت روئیں اور مگرمچھ کے آنسو نہ بہایا کریں۔

میرا خیال ہے کہ پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہیے کہ بھارت کے سیکولرازم کا جنازہ نکل رہا ہے۔ بھارتی وہی کر رہے ہیں جو ہم چاہتے تھے۔ وہ سیکولرازم سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ہمیں ان انتہا پسندوں کو گاندھی اور نہرو کو غلط ثابت کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کر کے ایک شدت پسند ہندو ریاست بنانے میں مدد کرنی چاہیے نہ کہ دن رات مذمت! اب ماشاءاللہ نیوکلیئر بموں سے لیس اور صدیوں کی نفرت سے سرشار مسلمان اور ہندو ریاستیں ایک دوسرے کی ہمسایہ ہوں گی۔ اب خطے مین تاریخی امن قائم ہوگا۔ فتح ہماری ہوئی ہے۔ بھارت ایک شدت پسند ہندو ریاست بن رہا ہے۔ بھارت سیکولرازم شکست کھا گیا، جو ہم چاہتے تھے۔ سب کو مبارک ہو!-

رؤف کلاسرا
بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :