Header Ads

Breaking News
recent

بھارت کا المیہ

یہ بات نہ کوئی سیکریٹ ہے نہ ڈھکی چھپی کہ بی جے پی ہندوستان کو ایک کٹر مذہبی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ اس بڑے کام کے لیے جہلا کی ایک ٹیم اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک منظم پارٹی کی ضرورت ہے یہ دونوں عناصر موجود ہیں۔ اس پر سہاگہ یہ ہے کہ اس نیک کام کے لیے جس اختیار کی ضرورت ہے وہ اقتدار کی شکل میں بی جے پی کو حاصل ہے اور اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ بھارتی عوام نے بی جے پی کے منشور کو جانتے ہوئے الیکشن میں اسے مینڈیٹ دیا۔ ہو سکتا ہے بھارتی عوام اپنے مسائل کے حل سے مایوس ہو کر مجبوراً بی جے پی کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہو لیکن وجہ کچھ بھی ہو بی جے پی یہ حق جتانے میں حق بجانب ہے کہ عوام نے اسے پانچ سال بھارت پر حکمرانی کا حق دیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی اس حق کو کس طرح استعمال کرتی ہے؟ پچھلے کچھ عرصے سے کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر الزام لگا رہی ہیں کہ ایل او سی کی خلاف ورزی ہم نہیں تم کر رہے ہو۔ پاکستان بھارتی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور مالی نقصانات کی تفصیل میڈیا میں پیش کر رہا ہے جواباً بھارت بھی پاکستان پر ایل او سی کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا رہا ہے سرحدی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے سرحدوں پر اقوام متحدہ کے آبزرور موجود ہیں لیکن ان کا ہونا نہ ہونا اس لیے بے معنی ہے کہ ان کی رپورٹوں پر دونوں متحارب ملک غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ایل او سی پر ہونے والی مسلسل فائرنگ کو روکنے کے لیے پاکستان رینجرز کا ایک وفد بھارت کے دورے پر گیا تھا۔ اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتوں کے علاوہ اس وفد نے بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سے بھی ملاقات کی۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے پاکستانی وفد کو یقین دلایا کہ ایل او سی کی خلاف ورزیوں میں بھارت پہل نہیں کرے گا۔ لیکن موصوف کے بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہونے پائی تھی کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں جانی نقصان بھی ہوا جس کے خلاف پاکستان نے بھارت سے سرکاری سطح پر باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرا دیا۔ اگرچہ متحارب ملکوں کی سرحدوں پر اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن بروقت ان کی سختی سے روک تھام نہ کی گئی تو یہ واقعات بعض وقت جنگوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک پچھلے کالم میں اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کی نشان دہی کی تھی کہ سرحدی کشیدگی کو اگر سختی سے روکا نہ جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی وارداتیں بعض وقت بڑی بڑی جنگوں کا سبب بن جاتی ہیں اور جب دو متحارب ملک ایٹمی طاقت بھی ہوں تو پھر جنگوں کی ممکنہ ہولناکی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ عام سرحدی خلاف ورزیاں ہیں یا اس کے پیچھے کوئی نظریاتی طاقت کام کر رہی ہے؟ بھارتی جنتا پارٹی کے منشور میں بھارت کو ایک مذہبی ریاست بنانا ہے۔ ہو سکتا ہے جس وقت بی جے پی وجود میں آئی اس وقت کی قیادت کو یہ احساس نہ ہو کہ جدید گلوبل ویلج دنیا میں مذہبی شدت پسندی اور مذہبی ریاستوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی لیکن بی جے پی کی قیادت خواہ وہ اپنے نظریات میں کتنی ہی شدت پسند کیوں نہ ہو اس بات کا ادراک ضرور رکھتی ہوگی کہ اکیسویں صدی اور اس کے بعد کی صدیوں میں ایک ایسا سیکولر کلچر متعارف اور مستحکم ہونے والا ہے جس میں انسانوں کے درمیان سب سے بڑا رشتہ انسانیت ہو گا۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ آنے والی دنیا کی مجبوری ہے۔

جنگوں، نفرتوں، رنگ و نسل، زبان، فرقوں، قومیتوں میں بٹی ہوئی اس دنیا نے اس کرہ ارض کے انسانوں کو جو زخم لگائے ہیں اور ان کی زندگی کو جن عذابوں سے دوچار کر دیا ہے، اس کا فطری تقاضا یہی ہے کہ انسانوں کے درمیان جنگوں، نفرتوں کا سبب بننے والے ہر عنصر کو امن کے راستے سے ہٹا دیا جائے اسے ہم دنیا کے انسانوں کی بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں ہونے والے خون خرابے کا ایک بڑا سبب مذہب بھی رہا ہے، صلیبی جنگوں سے لے کر فلسطین اور کشمیر تک جو لہو بہہ رہا ہے اس کا اصل سبب مذہبی منافرت ہے۔ اس کلچر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے المیوں کو سمجھنے والے دانشوروں، اہل فکر، فلسفیوں اور قلم کاروں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بنی رہی۔

اس المناک کلچر کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کے روپ میں موجود بھیڑیوں نے ہتھیاروں کی صنعت میں کھربوں ڈالر لگا کر اسے اس قدر پھیلا دیا ہے اور اس صنعت کو اس قدر منافع بخش بنا دیا ہے کہ اس صنعت کو پسند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صنعت کے نظریاتی محافظوں نے دنیا کو اور دنیا میں بسنے والے انسانوں کو مختلف حوالوں سے تقسیم کر کے اور سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ قومی ریاستوں کے تصور کو مضبوط کر کے اور علاقائی تنازعات پیدا کر کے جنگوں اور ہتھیاروں کو ملکوں اور ریاستوں کے لیے اس قدر ناگزیر بنا دیا ہے کہ آج کی مہذب اور ترقی یافتہ دنیا جنگوں اور ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت سے نجات نہیں پا سکتی۔

 یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں، کوریا اور ویت نام کی جنگوں میں ہونے والے ناقابل یقین جانی اور مالی نقصانات نے بھی کرہ ارض کے انسانوں کو اس قابل نہیں بنایا کہ وہ جنگوں اور ہتھیاروں سے نجات حاصل کرنے کو دنیا کا مرکزی مسئلہ بنائیں۔ اس کے برخلاف ہمارا حکمران طبقہ جدید سے جدید ہتھیاروں کی تیاری اور خریداری میں مصروف ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہتھیاروں کی صنعت کے مالکان اس قدر مضبوط اور اپنی صنعت کے تحفظ کے لیے اس قدر فعال ہیں کہ وہ دنیا کو ہتھیاروں کی ضرورت سے آزادی نہیں دلانا چاہتے۔

بھارت میں ایک چائے فروش کو بھارت کا وزیر اعظم بنتا دیکھ کر جمہوریت کا گن گانے والوں کو کیا یہ احساس ہے کہ اس جمہوریت نے ایک ایسا سنپولیا بھی پیدا کر دیا ہے جو اس خطے کے امن اور جنوبی ایشیا کے عوام کی آسودہ زندگی کے راستے میں آہنی دیوار بن گیا ہے۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ سیکولر بھارت کے دو ارب کے لگ بھگ عوام نے بھارت کی حکمرانی کے لیے ایک ایسے شخص ایک ایسی جماعت کو منتخب کیا ہے جو اپنی مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے نہ صرف اس خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے بلکہ ساری دنیا کے عوام کے مستقبل سیکولرزم کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ہمیں حیرت ہے کہ دو ارب کے لگ بھگ آبادی والے اس ملک میں کیا ایسے اہل علم، اہل دانش، اہل قلم نہیں کہ نریندر مودی کو تباہی کے راستے پر جانے سے روکیں؟

ظہیر اختر بیدری

No comments:

Powered by Blogger.