Header Ads

Breaking News
recent

شہداء کے درمیان تو لکیر نہ کھینچیں

تقسیم ہند سے قبل شکار پور کا شمار برصغیر کے امیر ترین اضلاع میں ہوتا تھا۔یہاں کے تاجروں کی ساکھ وسط ایشیاء تک کام آتی اور محض ایک پرچی پر مطلوبہ سامان یا رقم مہیا کر دی جاتی۔آج سے سو سال قبل جب گھروں میں پانی کے ہینڈ پمپ کا تصور نہیں تھا،تب بھی شکار پور کے بیشتر گھروں میں سوئمنگ پولز ہوا کرتے تھے۔بلا ناغہ سڑکیں پانی سے دھوئی جاتیں ۔گھوڑا گاڑی جسے اس وقت کی شاہی سواری کا درجہ حاصل تھا،اس کے مالک پر لازم تھا کہ گھوڑا گاڑی کے پیچھے کوئی کپڑا باندھ کر چلے تاکہ سڑک پر گندگی نہ پھیلے ۔جو شخص اس ضابطے کی خلاف ورزی کرتا ،اسے جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔

حالانکہ اس وقت لالٹین بھی کم یاب ہوا کرتی تھیں مگر شکار پور میں بجلی کی فراہمی کےلئے ایک پاور ہائوس موجود تھا جو 60ء کی دہائی تک کام کرتا رہا۔صحت و تعلیم کی سہولیات کا یہ عالم تھا کہ رائے بہادر اودھے داس تارہ چند ہاسپٹل اور ہیرا نند گنگا بائی اسپتال میں بلا تخصیص مفت علاج ہوتا۔ وادی ء سندھ میں پہلے گرلز اسکول کا قیام ہو یا پھر پہلے کالج کی ابتداء ہو، شکار پور کی سرزمین کو ہی یہ اعزاز حاصل ہوا۔ جب پورے سندھ میں گنتی کے محض 7 گریجویٹ ہوا کرتے تھے تو شکار پور میں 70 گریجویٹ موجود تھے۔

سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر آغابدرالدین ہوں یا پھر پہلے وزیر اعلیٰ اللہ بخش سومرو،ان کا تعلق شکار پور سے تھا۔ اسی سرزمین نے سندھ دھرتی کے عظیم صوفی شعراء سچل سرمست ،سامی اور شیخ ایاز کو جنم دیا۔بھلے وقتوں میں شکارپور میںایک شاہی باغ ہوا کرتا تھا جس میں انواع و قسام کے پھول اور پودے آنکھوں کو خیرہ کرتے،اس باغ میں ایک چڑیا گھر بھی تھا جس میں چیتے، شیر اور ریچھ سمیت سینکڑوں جانور ہوا کرتے تھے مگر یہ جانور کراچی کے چڑیا گھر منتقل کر دیئے گئے اور آج باغ کا نام و نشان تک موجود نہیں۔ مگر آج شکار پور پسماندگی و غربت کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

سائیں آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے، ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے ، انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے ان کی بات درست ہو۔ عین ممکن ہے انہیں دھرنوں کے دوران جمہوریت کو بچانے کی سزا دی جا رہی ہو۔ مگر شکار پور جیسے ترقی یافتہ شہروں کو سخت جدوجہد کے بعد اس حالت تک پہنچانے کی سازش کس نے پروان چڑھائی؟ قائم علی شاہ جیسے قابل احترام بزرگ کے نازک کندھوں پر تیسری بار وزارت اعلیٰ کا بوجھ لا دنے کی سازش کس نے تیار کی؟ جب ہمایوں کی وفات کے بعد اکبر تخت نشین ہوا تو 13 سالہ اکبر کی رہنمائی کےلئے بیرم خان نے ریجنٹ کے فرائض سنبھاللئے۔

 مگر عدم بلوغت کا طعنہ دیئے بغیر ہی بیرم خان نے پانچ سال بعد اقتدار اکبر کے حوالے کیا اور خود حج کی نیت سے نکل پڑا۔اگر بیرم خان شریک بادشاہ کی حیثیت سے اقتدار سے چمٹا رہتا تو درباری سازشیں کیوں نہ جنم لیتیں؟سر تسلیم خم کہ رینجرز کو سیاستدانوں کا احتساب کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں اور بدعنوانی کی تحقیقات نیب ہی کر سکتا ہے مگر کیا اس بات کی تردید کی جا سکتی ہے کہ سندھ حکومت گردن تک کرپشن کی دلدل میں دھنس چکی ہے؟اگر آپ نے محض بھٹو کو زندہ رکھنے کے بجائے ،اس کے طرز سیاست کو زندہ رکھا ہوتا،روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا کیا ہوتا۔دودھ اور شہد کی نہریں نہ سہی محض پانی کی نہریں ہی بہا دی ہوتیں تو کیا کسی کو آپ کے خلاف سازش کا موقع میسر آتا؟

چند روز قبل سائیں قائم علی شاہ نے اسی شکار پور کے علاقے گڑھی یاسین میں موجود محکمہ جنگلات کی 9600 ایکڑاراضی افواج پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا۔پاک فوج نے 2001ء میں حکومت سے درخواست کی تھی کہ ’’گولو داڑو‘‘ میں موجود یہ 35521 ایکڑ زمین ہمیں دی جائے تاکہ اسے 500 شہداء کے خاندانوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ جب وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران یہ معاملہ زیر بحث آیا تو جنگلات کے صوبائی وزیر نے بتایا کہ ان کے پاس 9600 ایکڑ کے مالکانہ حقوق ہیں ،اگر یہ زمین پاک فوج کو الا ٹ کر دی جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ ہر قوم اور ملک اپنے شہداء کے ورثاء کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اوروطن کی آبرو کےلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کےلئے زمین کا یہ تحفہ بہت حقیر ہے مگر نہ جانے کیوں اس کی منظوری میں اس قدر تاخیر کی گئی۔

آپریشن ضرب عضب کے دوران 347 آفیسرز اور جوان شہید ہوئے، اس سے قبل آپریشن راہ حق،آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات میں بھی بیشمار جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ان تمام شہداء کے ورثاء کو باوقار زندگی مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران اس مٹی کو اپنے خون سے سینچنے والوں میں اور بھی نام شامل ہیں۔ بم دھماکوں میں مرنے والے سویلین تو کسی قطار شمار میں نہیں مگر پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جن ہزاروں اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ، کیا ان کے ورثاء کی طرف بھی کوئی نظر کرم ہو گی؟

جنوری 2004ء سے دسمبر 2014ء تک کے عرصہ میں صرف خیبر پختونخوا میں 15000کے لگ بھگ پولیس ،خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ان میں صرف پولیس کے 1100 آفیسرز اور اہلکار شامل ہیں۔عابد علی ،ملک سعد اور صفوت غیور جیسے بہادر و جری آفیسرز نے جام شہادت نوش کیا۔ان پولیس اہلکاروں کی جان اس قدر ارزاں تھی کہ انہیں محض پانچ لاکھ دیکر جان چھڑا لی جاتی ۔وہ تو بھلا ہو اے این پی کا جس نے شہید پولیس اہلکار کے ورثاء کو دیا جانے والا معاوضہ بڑھا کر 30 لاکھ کر دیا۔ کراچی میں بلا ناغہ پولیس والے مارے جاتے ہیں۔ 2013ء میں 171 جبکہ 2014ء میں 143 پولیس اہلکار مارے گئے مگر تاحال ان کے خاندانوں کو معاوضے کی رقم ہی ادا نہیں کی گئی۔کیا ان وردی والوں کے لہو کا رنگ سرخ نہیں ہوتا یا پھر ان کے ورثاء دوسرے درجے کے شہری ہیں ؟کیا ان شہداء کے ورثاء کو گھر مہیا کرنا ،زرعی زمین دینا اور دیگر سہولیات فراہم کرنا ریاست اور سماج کی ذمہ داری نہیں؟

یہ سیاستدان تو ہیں ہی بدعنوان اور نااہل مگر میرے ہم عصر کالم نگاروں اور بیشتر اینکرز کاخیال ہے کہ بہت عرصہ بعد پاکستان کو جنرل راحیل شریف کی صورت میں ایک مسیحا میسر آیا ہے جو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے بجائے راحیل شریف ملک سنوار سکتا ہے اور تین سال کے دوران اس نے تیس سال کا گند صاف کرنے کا عہد کر رکھا ہے تو سوچا کیوں نہ ان شہداء کے بارے میں راحیل شریف سے ہی اپیل کر لی جائے۔حضور والا! آپ تو شہداء کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ سمجھنا کتنا مشکل ہے کہ بیٹا کسی بھی وردی میں وطن کی آبرو پر قربان ہو ،اس کی جدائی کا دکھ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں زندہ انسانوں کے درمیان تقسیم کی لکیریں بہت گہری ہیں،شہداء کے درمیان تو لکیر نہ کھینچیں ، جنرل صاحب !ان شہداء کی کفالت کا بیڑہ بھی آپ ہی اٹھالیں۔

محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ  جنگ

No comments:

Powered by Blogger.