Header Ads

Breaking News
recent

غار حرا پر ایک شام


میں پہلی بار 1988ء میں جبل نور اور غار حرا پر گیا ۔27سال بعد گزشتہ ہفتے جب دوبارہ گیا تو راستے کی صورتحال بہت مختلف تھی۔ 1988ء میں جبل نور کے آغاز سے غار حرا تک پہاڑ پر چڑھنے کیلئے نہ تو کوئی باقاعدہ راستہ اور نہ ہی کوئی پگڈنڈی، زیگ زیگ طریقہ سے با ہمت افراد ہی سنگریزوں اورچٹانی پتھروں پر قدم رکھ کر یہ مسافت طے کرسکتے تھے۔ راہنمائی کیلئے چٹانوں پر تیر کے نشان پینٹ کئے ہوئے تھے۔ اب صورتحال مختلف ہے زائرین کی آسانی کیلئے تقریباً 1300 سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔راستے میںنصف درجن مقامات پر سستانے کیلئے چھتریاں اور بینچ رکھے ہوئے ہیں۔دو جگہوں پر بقالوں (ٹک شاپس) سے مشروبات ،چائے بسکٹ اور پھل خریدے جا سکتے ہیں۔

جبل نور کے راستے میں بلیاں، بندر اور درجنوں فقیر زائرین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فقیروں میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ جن کا زیادہ تر تعلق صوبہ سندھ جنوبی پنجاب اور آزاد کشمیر سے ہے ۔ ان میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو یہاں کا اقامہ رکھتا ہو، ان فقیروں کا کہنا ہے کہ جب کبھی شرطے (سعودی پولیس)پکڑنے آتے ہیں تو ہم جبل حرا کی دوسری جانب بھاگ جاتے ہیں۔ غیر قانونی طور پر مقیم یہ لوگ دن رات جبل حرا پر ہی رہتے ہیں۔

یہی لوگ راستے کی مرمت اور صفائی کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ جبل نوربیت اللہ سے تین کلو میٹر شمال مشرق کی جانب ہے۔جبل نوربظاہر یہ ایک عام سا پہاڑ ہے لیکن اس پہاڑ کو وہ تقدس ملا کہ کوئی ثانی نہیں۔یہ سارا پہاڑ چٹیل ہے ۔ پتھر ہی پتھر ہیں۔نہ کوئی بوٹا نہ آبادی۔جبل نورپر چڑھنے کا راستہ صرف مشرقی سمت ہے باقی تمام اطراف سے یہ پہاڑ عمودی شکل کا ہے۔ ایک دشوار گزار اور کٹھن کوہ پیمائی کے بعدہی زائر غار حرا پر پہنچتا ہے۔ ایک نوجوان یہ مسافت تقریباً پون گھنٹے میں اور عمر رسیدہ افراد یہ مسافت سوا گھنٹے میں طے کرلیتے ہیں۔

زائرین کی سہولت کیلئے اب غار حرا کے راستے میں تقریباً تیر سو سیڑھیاں بنا دی گئی ہیں۔ زائرین غار حرا کو اس بات کا علم ہونا چاہئیے کہ جبل حرا کے کچھ حصے میں بندروں کی بڑی تعداد ہے۔زائرین انہیں پانی اور خوراک ڈالتے رہے ہیں اس وجہ سے وہ ہر زائر سے یہ توقع کرتے ہیں کہ انہیں کچھ کھانے کو ملے بعض اوقات یہ بندر زائرین پر حملہ کر کے انکے ہاتھوں سے موبائل فونز ، پرس وغیرہ چھین لیتے ہیں اس لیے ہاتھوں میں چھڑی ہو تو آپ اپنی حفاظت بہتر طور پر سکتے ہیں۔ سطح سمندر سے دو ہزار فٹ بلند جبل نور کے دامن میں پہلے آبادی نہ تھی۔ اب یہاں بستی بس چکی ہے۔ ماضی کا منظر اب تصوراتی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کا دامن پھیلا ہوا ہے لیکن اٹھان اونچائی کی طرف ہے۔
اس پہاڑ پر ایک تفکر کا سماں چھایا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ 

پیغمبران کرام کی زندگی میں پہاڑوں کی اہمیت بڑی نمایاں رہی ہے۔موسیٰ علیہ السلام کوہ طورپر اللہ تعالی سے ہمکلام ہوئے۔عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں کوہ زیتون اہم ہے۔ نوح علیہ السلام کا سفینہ کوہ جودی پر ٹھہرا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام کی ملاقا ت میدان عرفات کے پہاڑ جبل رحمت پر ہوئی۔کوہ صفا اور مروا حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ سے نسبت رکھتے ہیں۔ قرآن پاک نے ان پہاڑوں کو شعائر اللہ کے خطاب سے نوازہ ہے۔ 

جبل نورکی غار حرا میں محمدرسول اللہؐ کو نبوت عطا ہوئی ، جبل ثورنے رسول پاکؐ کو پناہ دی اور جبل احد سے حضورؐ کو خصوصی لگائو تھا۔ دنیا کے پہاڑوں میں اللہ کے نور کی تجلیوں کے دو ہی مقام ہیں۔ ایک جگہ پر اللہ کے نور کی تجلی لحظہ بھر کیلئے ہوئی حضرت موسیٰ بے ہوش ہو گئے اور پہاڑ سرمہ بن گیا۔ دوسری جگہ جبل نور کی غار حرا ہے جو اللہ کی تجلی سے سرمہ ہونے کی بجائے کندن بن گئی۔ توریت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سینا سے آیا۔ساعیر سے چمکا اور فاران سے سر بلند ہوا۔ سینا سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت ہے، ساعیر سے مراد دعوت عیسیٰ علیہ السلام ہے اور فاران سے مراد حضورؐ کی دعوت حق ہے۔

غار حراجبل نور کی چوٹی پر نہیں بلکہ جبل نور کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد مغرب کی جانب نیچے کی طرف ڈیڑھ سو قدم نیچے کی طرف سفر کرنا پڑتا ہے۔ غار حرا کے قریب راستے کو چٹانی تختوں نے قریباً بند کر رکھا ہے۔ یہاں پہاڑ 85 درجے کا زاویہ بناتا ہوا دیوار کی طرح عمودی بن جاتا ہے۔ غار حرا تک پہنچنے کیلئے اس تنگ راستے سے گزرنا لازم ہے۔ کوئی بھی شخص جسم کو سمیٹے اور سکیڑے اور گھسیٹے بغیر اندر نہیں جا سکتا۔ غار پہاڑ کی اندر نہیں بلکہ اسکے پہلو میں قریباً خیمے کی شکل میں ذرا باہر کو ہٹ کر ہے۔ غار کی لمبائی دو سوا دو میٹر ہے اور اونچائی آگے کو بتدریج کم ہوتی گئی ہے۔ پچھلے حصے کی طرح سامنے کا حصہ بھی کھلا ہے ۔ غار کا رخ ایسا ہے کہ تمام دن میں سورج کی دھوپ اندر نہیں آ سکتی۔غار حرا ایک عام غار کی مانند مکمل طور پر بند اور ہوا کے عاری مقام نہیں ہے بلکہ یہ غار کئی پتھروں کے باہم جڑنے سے بنی ہے۔ ان پتھروں کے درمیان میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے شگاف ہیں جن سے غار میں ہواآتی رہتی ہے۔غار کے اندر ذرہ سا جھک کر اپنے سر کو چٹان سے بچاتے ہوئے داخل ہونا پڑتا ہے

غار کے داخلے پر اب دو مصلٰوں کے بچھانے کی گنجائش ہے …البتہ دائیں ہاتھ پر فرش سے آٹھ انچ بلند تھوڑی سے ہموار جگہ ہے جس پر سنگ مرمر کی چند سلیں جڑی ہیں اور جب بہت زیادہ ہجوم ہو جاتا ہے توایک ہلکے جسم کا آدمی بیٹھ کر بمشکل نفل پڑھ سکتا ہے ورنہ گنجائش نہیں ہے۔ 

سرور منیر راؤ
"بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت

No comments:

Powered by Blogger.