Header Ads

Breaking News
recent

عدم مساوات - پاکستان کی صورت حال....

اگر ہم اپنے ملک کا جائزہ لیں تو حالات کی خرابی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ پاکستان میں چند ہزار لوگ ایسے ہیں جو دولت کو تیزی سے اپنی طرف کھینچتے نظر آتے ہیں۔پیسے سے پیسہ تیزی سے کمایا جارہا ہے۔کرپشن کے بڑے سکینڈل کچھ کم رپورٹ ہورہے ہیں۔لیکن نچلی سطح پر یہ کام اب بھی کھلم کھلا جاری ہے۔پاکستان میں دس امیر ترین لوگ ایسے ہیں جن کی دولت اب ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ان میں سے چند کا ذکر اب عالمی امراء کی لسٹ میں ہوتا ہے۔ان دس میں سے ایسے لوگ زیادہ ہیں جنہوں نے یہ دولت ناجائز طریقے سے سمیٹی ہے۔ان دس میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جس نے محنت کرکے کوئی تخلیق کی ہو۔کوئی نئی شے بنائی ہو۔یا ایجاد کرنے والوں کی فہرست میں اس کا نام آیا ہو۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بل گیٹس نہیں ہے۔

دس امیر ترین لوگوں کی فہرست جو میرے سامنے پڑی ہے ان میں رئیل اسٹیٹ سے پیسہ کمانے والے زیادہ نظر آتے ہیں۔کچھ معروف سیاستدانوں کے نام بھی10بڑوں میں شامل ہیں۔اگر کوئی صنعت کار ہے بھی تو یہ روٹین کے کاروباری لوگ ہیں۔پاکستان میں دولت کمانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بڑے بڑے پلازے ہوٹل اور بلڈنگیں بناؤ اور کرایہ سے دولت کماؤ۔پاکستانی معاشرے میں اب دولت کمانے کا ایک اور طریقہ جس کی طرف کافی لوگ جارہے ہیں وہ نئے ٹی وی چینل کھولنے کا بھی ہے۔ایسے ہی دس کی فہرست میں یہ پہلے ہی شامل ہوچکے ہیں۔ایسا ملک جہاں اشیاء سازی اور چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرنا ضروری تھا اور ایسا ملک جہاں بے آبادزمینوں کو آباد کرنا ضروری تھا وہاں دولت کمانے کے لئے T.V چینلز کی لائن لگائی جارہی ہے۔یہ کام یورپ اور امریکہ میں اس وقت شروع ہوا تھا جب تمام لوگ تعلیم یافتہ ہوگئے تھے۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام بڑے پیمانے پر شروع ہوگیاتھا۔انہوں نے اپنی بے کار زمینوں کو گل وگلزار بنالیاتھا۔لوگ برسرروزگار ہوگئے تھے۔پاکستان میں غیر پیداآور کام کرکے دولت کمانے کا رجحان اب بہت بڑھ گیاہے۔سمگلنگ بھی پاکستان میں لوگ بڑے پیمانے پر کرتے ہیں اور راتوں رات امیر ہورہے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے عدم مساوات(Inequality) پرجائزہ رپورٹ ایک سال پہلے انہی دنوں میں شائع کی تھی۔یہ اب بھی لاگو ہوتی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ شہروں میں رہائش پزیر اوپر والے20فیصد لوگ60فیصد آمدنی حاصل کرلیتے ہیں۔نیچے والے20 فیصد لوگوں کی آمدنیاں کل کا صرف 5 فیصد ہیں۔جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں چھوٹے شہروں اور گاؤں سے لوگ تیزی سے بڑے شہروں کا رخ کررہے ہیں۔

بڑے شہروں کی آبادیاں اب ملکوں کے برابر ہورہی ہیں۔ان زیادہ آبادیوں کی وجہ سے ہی اب شہروں میں رہائش پزیر سفید پوش زیادہ مشکل میں ہیں۔ان کی مشکلات اب دن بدن بڑھ رہی ہیں۔گزشتہ 10سالوں میں صرفی اور خاص طورپر غذائی اشیاء کے نرخ بہت بڑھے ہیں۔لہذا اشیاء بنانے والے اور بڑے خوراک پیدا کرنے والوں کے منافع میں تیزی سے اضافہ ہوا۔صنعت کار اور زمیندار فائدہ میں رہے۔مڈل کلاس اور غریب کے لئے اب خوراک جیسی بنیادی شے کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔تعلیم اور صحت کی سہولیات بھی شہروں میں بڑی مہنگی ہیں۔مڈل کلاس شہری جو کچھ کماتا ہے وہ تمام کا تمام ماہانہ اخراجات پر لگ جاتا ہے۔بچتیں سرے سے نہیں ہورہیں۔گزشتہ چند سالوں میں حکومت کی طرف سے مختلف زرعی پیداواروں کی خریداری کے نرخوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔گندم کا خریداری نرخ ابھی چند سال پہلے صرف450 روپے فی40کلوگرام تھا اور اب1250روپے ہوگیا ہے۔

حکومت نے کوئی ایسی پالیسی نہیں بنائی کہ شہروں میں رہنے والے مڈل کلاس اور غریبوں کو سستا آٹا مل سکے۔زرعی پیداواروں کے خریداری نرخ بڑھانا غلط تو نہ تھا۔ لیکن حکومت نے شعبہ صر ف کی طرف توجہ نہ دے کر بڑے پیمانے پر عدم مساوات پیدا کی۔اگر آٹا50 روپے کلو فروخت ہوگا تو ایک اوسط درجے کے خاندان کوماہانہ 2000روپے صرف آٹے پر خرچ کرنے پڑیں گے۔باقی غذائی اشیاء کے اخراجات علیحدہ ہیں۔گندم اور دوسرے اجناس کے خریداری نرخ بڑھا کر حکومت نے زمینداروں کی آمدنیوں میں اضافہ کیا اور غریبوں کے لئے کوئی رعایت نہ دے کر ان کو مزید غریب کیا۔پاکستان کی سٹاک مارکیٹ بہتر کارکردگی دکھاتی نظر آتی ہے۔لیکن یہاں اس Activityمیں حصہ لینے والے چند ہزار لوگ ہی تو ہیں۔مڈل کلاس اور غریب آدمی کا اس بہتر کاروبار سے کوئی تعلق نہ ہے۔

جب سے ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی ہے بے شمار لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔ان کے لئے اپنے کاروبار کے اخراجات پورا کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔کئی سالوں سے لوکل سطح پر انتخابات کے نہ ہونے سے معاشرے میں یہ محسوس کیاجارہا ہے کہ عام آدمی کا اختیارات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان کے روزمرہ کے معاملات کا تعلق ضلعی اور تحصیل حکومتوں سے ہوتا ہے۔مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ تو پہلے ہی امیر ہوتے ہیں۔وہ حکومتوں سے ملنے والے فنڈز سے بھی کما لیتے ہیں۔پورے ملک میں دولت چند لاکھ کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔

اشیاء بنانے والے کارخانہ دار ،اشیاء پیداکرنے والے بڑے زمیندار بینکوں کے مالک اور حصہ دار اور ایسے ہی بڑی کمپنیوں کے حصہ دار۔سمگلنگ میں جو تیر رہے ہیں ان کے بھی وارے نیارے ہیں۔ڈاکٹر اور وکلاء بھی دولت سمیٹنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔اگر ہم پاکستانی معاشرے کو دولت کے لحاظ سے مجموعی تقسیم کریں تو اوپر والے20 فیصد بہت خوشحال ہیں۔30 فیصد درمیانے طبقے والے بس گزارہ کررہے ہیں۔اور نیچے والے30 فیصد کے لئے جینا مشکل ہے۔مارکیٹ اکانومی نے تمام دنیا میں ایسی ہی صورت حال پیدا کردی ہے۔جب تک حکومت پاکستان میں کوئی بڑا کام نہیں کرے گی عدم مساوات بڑھتی چلی جائیگی۔اگر حکمران سوچیں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ عمران خان اور طاہر القادری کی طرف لوگوں کا رجحان کیوں ہے۔لوگ موجودہ صورت حال سے انتہائی مایوس ہیں۔صرف بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے پورے معاشرے میں پھیلے کروڑوں غریبوں کو سکون میسر نہیں آسکتا۔امیر اور غریب کا فرق تمام صوبوں میں برابر بھی نہیں ہے۔بلوچستان میں یہ فرق کم ہے۔پنجاب،سندھ میں بہت زیادہ ہے۔

فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی معیشتیں تودہشت گردوں نے ویسے ہی برباد کردی ہیں۔کراچی میں ہڑ تالوں کی وجہ سے بے چار ے غریب ہی متاثر ہوتے ہیں۔امارت اور غربت کا فرق ہمارے معاشرے میں دہشت گردی نے بھی پیدا کیا ہے۔حکومت کو موجودہ معاشی نظام میں بڑے پیمانے پر مداخلت کرنی چاہیے۔Indirect taxesاب بھی مڈل کلاس اور غریب آدمی کے لئے بوجھ ہیں۔ضروریات زندگی پر ٹیکس ختم کرنا ضروری ہے۔اگر غریب اور امیر بازار سے کوئی ٹیکس شدہ ضروری شے ایک ہی نرخ پر خریدتا ہے تو بوجھ تو غریب نے ہی محسوس کرنا ہے۔حکومت اپنی آمدنی ملک میں موجود دولت مندوں پرProgressive Taxationسے پوری کرے۔دولت مندوں اور خاص طورپر دس بڑوں سے آمدنی حاصل کرنی چاہیے۔

کالم کے آخر میں یہی کہاجا سکتا ہے کہ حکومت صرفی اشیاء اور خاص طورپر غذائی اشیاء کے نرخ غریبوں اور مڈل کلا س کی قوت خرید کو سامنے رکھ کر وضع کرنے کا نظام بنائے۔پٹرول اور ڈیزل کے نرخ کافی کم ہوچکے ہیں۔لیکن غذائی اور دیگر صرفی اشیاء کے نرخ میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی۔سستے ڈیزل سے پانی نکالنا اور اپنی پیداوار کو سستے ڈیزل والی ٹرالی اور ٹرک سے مارکیٹ لانے کا فائدہ شہروں میں آباد غریبوں کو حاصل نہیں ہورہا۔اگر پٹرول اور ڈیزل کے سستا ہونے کا فائدہ صرف بڑے کارخانہ داروں اور زمینداروں کو ہی ملتا رہے گاتو امیر اور غریب کے درمیان دولت کے تفاوت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے بڑی سڑکوں کے منصوبوں کی بجائے ملک میں کارخانے اور فیکٹریاں لگنا ضروری ہیں۔موٹر ویز اور ہائی ویز کی باری بہت بعد میں آتی ہے۔عدم مساوات کے درجے میں کمی کے لئے مزید کیا کرنا چاہیے یہ آئندہ کالم کے لئے رکھ لیتے ہیں۔

پروفیسر جمیل چودھری

No comments:

Powered by Blogger.