Header Ads

Breaking News
recent

سقوط ڈھاکہ : دشمن عناصر کی سازشوں کا شاخسانہ....

وطنِ عزیز کو اپنے قیام کے فوری بعد سے ہی سازشوں کا سامنا ہے۔ تقسیم کے وقت بھارت نے انگریزوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو اُس کے حصے میں آنے والے علاقوں ہی سے محروم نہیں کیا بلکہ تقسیم ہونے والے فوجی اورمالیاتی اثاثوں کا بھی پورا حصہ نہیں دیا گیا۔ پاکستان کو اپنے قیام کے صرف ایک برس بعد بھارت کے ساتھ کشمیر کے محاذ پر نبرد آزما ہونا پڑا اور پھر1965ء میں بھارت کی کھلم کھلا جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ 

پاکستان نے اس کا منہ توڑ جواب دیا، جس سے دشمن کو اندازہ ہو گیا کہ وہ جنگ کے ذریعے پاکستان کو زیر نہیں کرسکتا ۔سو اُس نے سازشوں کی راہ اپناتے ہوئے پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی ٹھان لی۔ یہ سازشیں تو خیر سے پہلے ہی سے جاری تھیں۔ یوں بھارت مکتی باہنی اور شیخ مجیب الرحمن کو استعمال کرکے اور پھر خود اپنی افواج مشرقی پاکستان میں داخل کرکے سقوطِ ڈھاکہ کا موجب بنا۔ اس طرح پاکستانی قوم کے حوالے سے دسمبر کی 16 تاریخ ہر سال ایک تلخ یاد کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ 16دسمبرکوئی ایک دن نہیں تھا وہ درد و الم کا اک پہاڑ تھا، جو اس قوم پرگرا اور پھر وہ لوگ جو اپنے خاندان کے آٹھ آٹھ دس دس افراد شہید کروا کر اپنے دیس پاکستان پہنچے تھے ،وہ تو پاکستان کو ایک عظیم تر سلطنت کی صورت میںدیکھنا چاہتے تھے، لیکن اُن کا وطن دو لخت ہو جاتا ہے۔ اس کی سیاسی و عسکری وجوہات کیا تھیں؟ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کیا ہوئی۔ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ بعض سیاسی رہنمائوں نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے صرف ایک خاص شعبے کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔آج پھر16 دسمبرہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کو43 برس ہوگئے، لیکن زخم آج بھی تازہ ہیں۔

ایک وہ وقت تھا کہ جب یہ قوم1971 ء کی جنگ میں امریکی بحری بیڑے کے انتظار میں تھی، لیکن وہ نہیں پہنچا۔ آج خود امریکہ بہ نفسِ نفیس افغانستان میں پہنچا ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت افغانستان میں سرگرم ہے۔ آج بھارت مشرقی پاکستان نہیں بلکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو تباہ کرنے کا خواہاں ہے۔ بہرکیف بھارتی فوج نے جس طرح سے بھارت اور مشرقی پاکستان میں قائم تربیت گاہوں میں مکتی باہنیوں کی تربیت کی اور پاک فوج کی وردیوں میںملبوس بھارتی فوجی جس طرح سے ذلت آمیز کارروائیاں کرکے مشرقی پاکستان کے عوام کو پاک فوج کے خلاف ابھارنے میں مگن رہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ بھارت نے کبھی بھی قابلِ اعتبار پڑوسی ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔1962ء میں بھارت اور چین کی جنگ ہوئی تو پاکستان نے بھارت پر حملہ نہیں کیا جبکہ 1971 ء میں مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے تو بھارت نے نہ صرف یہ کہ وہاں قبیح پروپیگنڈہ جاری رکھا بلکہ باقاعدہ فوج کشی کرکے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ 

گویا بھارت کبھی پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم ہی نہیں کرسکا اور ہمیشہ ان مواقع کی تلاش میں رہاجن کی بدولت پاکستان کو کمزور سے کمزورتر کیا جائے۔ ایسے میں پاکستانی قوم کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ قوم16 دسمبر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آئندہ کبھی ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دے۔ اچھی قومیں اپنا احتساب کرتی ہیںٍ۔ ہمیں ذہن نشین رہنا چاہئے کہ بنگلہ دیش آج بھارت کی بتلائی ہوئی فارن پالیسی پر گامزن ہے۔ اسی لئے اُس نے بنگلہ دیش میں جما عتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے عبدالقادر ملا کو اس وجہ سے پھانسی پر لٹکا دیا گیا کہ اُنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مخالفت کی تھی۔بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے مزید کارکنوں کو بھی سزائیں دلوانے کا کام جاری ہے جو ایک پریشان کن امر ہے۔

 پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے والے اس پردل گرفتہ ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ16 دسمبر کو صرف مغربی پاکستان ہی میں نہیں مشرقی پاکستان میں بھی بہت سے محب وطن خاندان دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ سرمیلا بوس کی کتاب Dead Reckoning اور دسمبر 1971میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے آخری پاکستانی وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب The Wastes of Time جو اُردو میں ’’شکست آرزو‘‘ کے نام سے شائع ہوئی، بہت واضح انداز میں ان سازشوں اور توضیحات کا احاطہ کرتی ہے، جن کی بدولت مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں بھارت نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور ایسا وار کیا، جس کے زخم آج 43برس گزرنے کے بعدبھی مندمل نہیں ہوئے۔’’شکستِ آرزو‘‘ کا صفحہ 328 کا درج ذیل اقتباس ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، جو سُنی سنائی داستانوں پر یقین کرتے ہوئے اپنے ہی ملک اور اداروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جبکہ حقائق کچھ اور تھے: ’’بنگلہ دیش کی جو نئی نسل اسکولوں کالجوں اور جامعات میں پڑھ رہی ہے اُن کے ذہن میں یہ بات انڈیلی جا چکی ہے کہ پاکستان ایک بھیانک خواب تھا، جن لوگوں نے آخری دم تک پاکستان کا ساتھ دیا اور1972ء سے1975 ء کے دوران شیخ مجیب کے بے رحمانہ کریک ڈائون سے کسی نہ کسی طور بچ گئے، اُنہیں معاشرے میں اچھوت کا سا درجہ دے دیا گیا، جس پر وطن کے معاملات میں بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ میجر جلیل نے1971 ء میںعوامی لیگ کا ساتھ دیا ،مگر جب اُس نے دیکھا کہ پاکستان کا تقریباً تمام فوجی سازو سامان ٹرکوں میں لاد کر بھارت بھیج دیاگیا ہے ،تو اُس نے صدائے احتجاج بلند کی ،مگر ایسا کرنا اُس کا جُرم ہوگیا۔

 بھارتی سازش بے نقاب کرنے کی پاداش میں اُسے غدار قرار دیاگیا۔ آزادی کے حقیقی سپاہیوں کی فہرست سے میجر جلیل کا نام خارج کردیا گیا ہے۔‘‘ ’’شکستِ آرزو‘‘ میں دیئے گئے حقائق سے بخوبی آگاہی ہوتی ہے کہ کس طرح سے بھارتی عناصر کو شیخ مجیب اینڈ پارٹی پر غلبہ حاصل تھا۔ پاکستان کے خلاف ایک ہرزہ سرائی یہ بھی کی جاتی ہے کہ 9 ماہ جاری رہنے والے کریک ڈائون میں پاکستانی فوج نے30 لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔یہ الزام کتنامضحکہ خیز ہے‘ اس کا اندازہ کتاب کے صفحہ نمبر333 پر دیئے گئی ان سطروں سے ہوتا ہے۔ڈھاکہ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار’ مارننگ سن‘ کے ایڈیٹر نور الاسلام جو پاکستان کے حمایتی نہیں تھے ،مگر انہیں بھی کہنا پڑا کہ ’’ 3 ماہ میں 30 لاکھ افرادکی ہلاکت کو یقینی بنانے کے لئے روزانہ گیارہ ہزار افراد کو کو موت کے گھاٹ اُتارنا پڑے گا۔‘‘ اس صفحے پر آگے چل کر ڈاکٹر سجاد حسین لکھتے ہیں ’’بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمن کے دور میں اس نوعیت کا ایک سروے کیا گیا تھا ،مگرابتدائی نتائج ’’حوصلہ افزا‘‘ برآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ سروے ترک کردیا گیا۔‘‘ گویا 30 لاکھ افراد کی ہلاکت کے الزام کو شیخ مجیب الرحمن بنگلہ دیش کا حکمران بن کر بھی ثابت نہیں کرسکا۔

 پاکستان دشمن عناصر آج بھی سرگرم ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے کہ جب پاکستان مغربی محاذ اور اندرونی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے عوام اور افواج اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہیں جبکہ پاکستان دشمن عناصر مختلف انداز سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان عناصر کی بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں، لیکن آج الحمدﷲ قوم میں شعور اور بیداری پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور قوم یہ سمجھ سکتی ہے کہ اندرونی مسائل اور معاملات کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک کے اندر ہی حل کرنا ہے اور حالات کو اس نہج پر لے کر نہیں جانا کہ جہاں خدانخواستہ دشمن مشرقی پاکستان جیسی مزید کسی سازش میں کامیاب ہو سکے۔  ٭

یوسف عالمگیرین

No comments:

Powered by Blogger.