Header Ads

Breaking News
recent

فوجی عدالتیں قانونی ماہرین کی نظرمیں.....

انسداد دہشت گردی کے لیے ’قومی ایکشن پلان‘ کے جس نکتے کی گونج سب سے زیادہ سنائی دی وہ انسداد دہشت گردی کےلیے فوجی افسران کی نگرانی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز تھی لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون میں فوجی عدالتوں کے قیام کی کتنی گنجائش ہے۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم کے دوسرے دور حکومت میں بھی فوجی عدالتیں قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ آئین کے منافی متوازی نظام عدل قائم نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس سیعد الزمان صدیقی نے جو فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ سنانے والے بینچ کا حصہ تھے، کہا کہ :’محرم علی کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ عدالتیں آئین کے مطابق نہیں۔ عدالت نے شق وار بتایا تھا کہ فلاں فلاں شق آئین کے متصادم ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس عدالتی فیصلے میں دی گائیڈلائنز کو ذہن میں رکھے وگرنہ’سپریم کورٹ اسے دوبارہ کالعدم قرار دے دے گی۔‘
پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وجہیہ الدین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پورے ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام ناممکن دکھائی دیتا ہے تاہم حکومت آرٹیکل 245 کا سہارا لے سکتی ہے۔

جسٹس وجہیہ الدین کا کہنا ہے کہ ’فاٹا اور سرحدی علاقوں میں جہاں فوج ہے وہاں تو فوجی ٹرابیونلز قائم ہوسکتے ہیں لیکن قدرے پرامن علاقوں میں ایسا ممکن نہیں۔ وفاق اور پنجاب میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج موجود ہے اس لیے حکومت اب سندھ سمیت دیگر صوبوں سے ایسی ہی درخواست کر رہی ہے، جس کے بعد فوجی ٹرائبیونلز کو قانونی جواز فراہم کیا جاسکےگا۔‘

جسٹس سعید الزمان صدیقی کہتے ہیں پاکستان کے حالات کے پیش نظر اگر فوجی عدالتیں بنتی ہیں لیکن انہیں آئین سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس وجہیہ الدین کا خیال ہے کہ اے پی سی میں حمایت کے باوجود ہوسکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کو ان جماعتوں کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان جماعتوں کو اپنے حلقوں کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا ہے:’مجھے یقین ہے کہ اگر فوج کے ٹرائبیونل بنا بھی لیےگئے تو ان پر عمل نہیں ہوگا۔‘

پاکستانی فوج اپنے انتظامی امور کےعلاقوں میں فوجی عدالتیں قائم کرتی ہے۔ تاہم پورے ملک یا پھر چند مخصوص علاقوں کےلیے یہ کیسے ممکن ہوگا؟
متحدہ قومی مومنٹ سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون دان سینیٹر فروغ نسیم سمجھتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کا قیام غیر آئینی ہے۔’ہاں اگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کے قیام پر متفق ہوتی ہیں تو انہیں پھر آئین میں ترمیم کرنی ہوگی۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں فوجی عدالتوں کو کراچی میں قائم کیا تھا اور سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ’فوجی عدالتوں کا قیام اور ان میں فوجی افسران کی تعیناتیاں آئین کے آرٹیکل 173 کی خلاف ورزی ہے۔‘

لیکن فوجی عدالتوں کی حمایت کرنے والے دنیا کے دیگر ممالک کا حوالہ دیتے ہیں اور یہ جواز بھی کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور جنگ زدہ علاقوں میں بین الاقوامی قانون بھی خصوصی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔
قانونی ماہرین اور تجزیہ کار فوج کے ماتحت عدالتوں کو موجودہ عدالتی نظام کے متوازی کوشش قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ حالت جنگ میں غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہے لیکن یہ خدشہ اب بھی قائم ہے کہ دو سال کے عرصے کے لیے بنائی جانے والی فوجی عدالتیں کیا انصاف کی فراہمی میں آئین اور قانون کے تقاضے پورے کریں گی یا ان پر آنے والے عرصے میں سوالات اٹھائے جائیں گے۔

حمیرا کنول
 

No comments:

Powered by Blogger.