Header Ads

Breaking News
recent

کامیابی کی شرائط.....



 محنت میں عظمت پنہاں ہے، مگر محنت تب ہی رنگ لاتی ہے جب اس کے پیچھے حتمی فیصلے کی قوت ہو اور اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کی صلاحیت ہو۔‘‘ یہ الفاظ ہیں جاپان سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف بزنس ٹائیکون سویشیرو ہنڈا کے، جن کی شخصیت سے کوئی واقف ہو نہ ہو مگران کے نام سے ضرور دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے۔ جی ہاں ایک سروے کے مطابق سویشیرو ہنڈا کے انتقال کے بیس سال کے بعد بھی دنیا بھر میں ان کا نام ہر سیکنڈ میں دس بار لیا جاتا ہے کیوں کہ انھوں نے اپنی مصنوعات کا نام اپنے نام پر رکھا تھا… ہنڈا۔
سویشیرو ہنڈا کی کہانی جہد مسلسل اور عزم و حوصلہ کی ایک لازوال داستان ہے۔ وہ جاپان کے ایک دور افتادہ دیہات میں ایک لوہار کے گھر پیدا ہوئے، غربت میں پرورش پائی اور تعلیمی میدان میں بھی اسکول سے آگے نہ بڑھ سکے۔ گھریلو اور ملکی حالات ایسے تھے کہ اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ممکن بھی نہیں تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی جنگ کی وجہ سے جاپان اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار تھا۔ 
تباہی کے عفریت نے گو ایٹمی حملے سے پہلے ہی جاپان کو اپنے حصار میں لے لیا تھا، مگر اگست کے ایک بھیانک دن جب جاپان پر ایٹمی حملہ ہوا تو گویا ہر طرف موت کے بادل چھاگئے، ہر چیز تباہ ہو گئی۔

ان بدترین حالات، غربت، مروجہ نصابی تعلیم کے نہ ہونے کے باوجودایک عام سے موٹر مکینک سویشیرو ہنڈا نے جان توڑ محنت، صحیح فیصلے اور عزم و حوصلے کی قوت سے بالآخر آٹو موبائل انڈسٹری کی تاریخ بدل دی۔ اس کی بنائی گئی ہلکی، دلکش، اعلیٰ معیار اور قیمت میں کم موٹرسائیکلز پوری دنیا پر چھا گئیں۔ ایک دیہات میں واقع بوسیدہ سے گیراج سے شروع ہونے والا سفر ہنڈا کارپوریشن کے قیام پر ختم ہوا، جو نہ صرف جاپان کی صف اول کی کمپنی بنی بلکہ آج دنیا کی چند بڑی آٹو موبائل کمپنیوں میں سے ایک ہے، جس میں ایک لاکھ سے اوپر ملازم ہیں۔

سویشیرو ہنڈا کی کامیابی کی مکمل داستان نہایت دلچسپ اور سبق آموز ہے جو ہمارے ان نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی خداداد ذہانت، دیانت اور ملک کے لیے کچھ کرنے کی لگن کے باوجود سسٹم میں موجود چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے بہت جلد مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ جب مسٹر ہنڈا کی کہانی پڑھیں گے (جو تفصیل سے وکی پیڈیا پر پڑھی جاسکتی ہے) توکبھی مایوس نہیں ہوں گے۔ وہ جان جائیں گے کہ حتمی فیصلہ، لگن ، محنت اور حوصلے سے ہر کام کیا جاسکتا ہے۔ وہ سویشیرو کی داستان سے نفرت کے بجائے مثبت سوچ کے ثمرات بھی سیکھیں گے۔ مسٹر ہنڈا کی ہی زندگی سے مثبت و تعمیری سوچ کے ثمرات کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔

جب سویشیرو کی ہنڈا موٹر سائیکل پوری دنیا میں مشہور ہوگئی تو ایک دن ایسا بھی آیا کہ امریکا کے چند صنعت کاروں نے ان کی موٹر سائیکل امریکا میں لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جاپانی میڈیا میں اس خبر پر گرماگرم بحث چھڑ گئی کہ جس ملک نے جاپان کے ہزاروں شہریوں پر آگ و خون کی بارش کردی، کیا اس کے ساتھ بزنس کیا جاسکتا ہے؟ کئی اخبارات نے اسے ملکی سلامتی کا مسئلہ قرار دے دیا، کئی ملکی دانشوروں نے یہاں تک کہا کہ سویشیرو امریکا کو انکار کرکے جنگ عظیم کا بدلہ لے سکتا ہے۔ صورت حال بے حد جذباتی اور حساس ہوگئی، مگر ہنڈا نے بالآخر ہر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جو ایک مثبت سوچ رکھنے والا ہی کرسکتا ہے۔

انھوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا: ہم نے دشمن سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا ہے مگر ہم جنگ کے ذریعے بدلہ نہیں لیں گے، کیوں کہ جنگیں یاسیت لے کر آتی ہیں، ہم بدلہ لیں گے معاشی ہتھیار سے، جو دور جدید کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس فیصلے کے بعد انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگر امریکا میں ڈیلرشپ شروع کرنے کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہنڈا موٹر سائیکلیں اور پھر ہنڈا کاریں پوری دنیا میں چھا گئیں اور اس کے بعد جاپان کی مصنوعات کو عالمی سطح پر قبول عام حاصل ہوا۔

مسٹر ہنڈا کی زندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ان کی ایک اور خوبی کا ادراک ہوتا ہے، وہ ہے ان کی دوسروں کے ساتھ خیر خواہی۔ خود بے حد مقبولیت اور دولت حاصل کرنے کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزاری اور کئی فلاحی منصوبے شروع کیے، یقیناً ان کی کامیابی کے پیچھے قوت فیصلہ اورمستقل محنت کے ساتھ ان کی فلاحی سوچ بھی تھی۔

میدان کوئی بھی ہو، مایوس ہوئے بغیر درست سمت میں مستقل مزاجی سے محنت اور درد انسانیت دو ایسی کنجیاں ہیں، جو ساتھ ہوں تو گویا تدبیر اور تقدیر ایک نکتے پر جمع ہو کر انسان پر کامیابی کے در وا کردیتی ہیں۔ انسانیت پر اپنی محنت کی کمائی خرچ کرنے سے نہ صرف آنے والی بلائیں ٹلتی ہیں بلکہ ازروئے حدیث اﷲ پاک کم ازکم دس گنا کرکے واپس بھی لوٹاتے ہیں۔ گویا یہ سراسر نفع کا سودا ہے۔
صرف ہنڈا ہی نہیں بلکہ دنیا کی کئی شخصیات ایسی ہیں، جنھوں نے خالی ہاتھ کام شروع کیا، کئی بار ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا مگر انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا، مسلسل محنت کرتے رہے اور بالآخر اپنا آپ منوا کر رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کامیابیوں کو انسانیت پر خرچ کے ذریعے سے ضرب دینا شروع کیا تو آج وہ خود بھی اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے درد کا درماں بھی ہو رہا ہے۔

خود ہمارے احباب میں ایسے دو دوست ہیں، ان دونوں نے انتہائی غربت سے سفر شروع کیا مگر صحیح فیصلہ اور پھر مسلسل محنت نے انتہائی حیرت انگیز طور پر ایک عشرے میں انھیں اپنے میدان میں قابل رشک کامیابی سے نواز دیا۔ ان میں سے ایک ہمارے کلاس فیلو ہیں جن کا نام سفیان احمد علوی ہے۔ سفیان نے ہر طرح کی نہایت غربت کے باوجود نہایت ثابت قدمی سے تعلیم جاری رکھی اور آخر اپنے ادارے سے گولڈ میڈل لے کر کینیڈا میں بہترین جاب حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ آج اس کے پاس بہترین مستقبل ہے مگر اس نے اپنے چھوٹے سے شہر اور وہاں کے غریب باسیوں کو نہیں بھلایا، جس کا نتیجہ ٹنڈوآدم جیسے پسماندہ شہر میں بچوں کے ایک بہترین فری کلینک کی صورت ظاہر ہے، جہاں غرباء کے لیے علاج اور دوائیں بالکل مفت ہیں۔

ہمارے دوسرے دوست ارشد حسین قاضی نے بھی انتہائی غربت اور مشکل حالات میں جدوجہد شروع کی۔ اس نے پان کا کیبن بھی چلایا، ریڑھی بھی لگائی مگر ذہن کو وسیع رکھا۔ مارکیٹنگ کے شعبے میں دس برس تک شدید محنت کی، کئی بار شدید نقصان بھی اٹھایا مگر بالآخر قدرت مہربان ہوئی اور اس کی محنت کا پھل انھیں یوں ملا کہ آج وہ اندرون سندھ میں اپنے شعبے کی مارکیٹنگ کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اس کی بھی اہم خوبی صدقے کی عادت تھی۔ ہم نے ہمیشہ دیکھا کہ اس نے کبھی کسی کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا، شاید یہی وجہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے بھی اسے بہت نوازا۔

ان باتوں کو اپنی گرہ سے باندھ لیں تو انشاء اﷲ تعالیٰ کامیابی ضرور قدم چومے گی۔ ایک خوب غوروفکر کے بعد درست میدان کا انتخاب، پھر اپنے فیصلے پر جم جانا، اس کے بعد اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے شدید اور مسلسل محنت، اور ان تمام تدابیر کے ساتھ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور خیرخواہی کی عادت۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص ان صفات کو زادِ راہ بنالے گا، اﷲ کے فضل سے ضرور پھل پائے گا۔

محمد فیصل شہزاد

No comments:

Powered by Blogger.