Header Ads

Breaking News
recent

ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے تعلیم کے حق سے محروم........


پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم الف اعلان نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں جن میں 50 فیصد سے زیادہ کا تعلق پنجاب سے ہے۔
الف اعلان کی تعلیم کے لیے مہم کے سربراہ مشرف زیدی نے ہمارے ساتھی ظہیرالدین بابر سے اپنی تازہ رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں پانچ سے 16 سال عمر کے بچوں میں سے صرف دو کروڑ 70 لاکھ بچے سکول جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سکول جانے والے بچوں میں زیادہ تر ریاستی اداروں میں پڑھ رہے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی تعداد نجی اداروں میں پڑھ رہی ہے اور اس میں وہ بچے بھی شمار کیے گئے ہیں جو مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں۔‘
مشرف زیدی نے سکول نہ جانے والے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔
’ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں اور سکول نہیں جاتے وہ تقربیاً ڈھائی کروڑ بچے ہیں۔‘

ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں اور سکول نہیں جاتے وہ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے ہیں۔ یہ بچے کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔ نہ وہ مدرسے میں ہیں، نہ سرکاری سکول میں اور نہ نجی سکول۔ وہ کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔مشرف زیدی

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بچے کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔ نہ وہ مدرسے میں ہیں، نہ سرکاری سکول میں اور نہ نجی سکول۔ وہ کسی طرح کے سکول میں نہیں جا رہے۔ یہ بچے سکول سے باہر ہیں۔‘
انھوں نے پنجاب میں تعلیم کی صورتِ حال کے بارے میں کہا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے یہاں پالیسی، فنڈز اور توجہ کا فقدان رہا ہے۔ اب حالات قدرے بہتر ہیں۔

مشرف زیدی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’جس ملک میں پانچ سے 16 کے درمیان کے بچے سکول نہ جا رہے ہوں تو آج سے دس سے کے بعد کا سوچیے کہ آج جو دس سال کا بچہ ہو وہ دس سال بعد 20 سال کا ہوگا اور وہ سکول نہ گیا ہو اس کے پاس کوئی تعلیم نہ ہو اس کا مستقبل ہوگا۔

’جو بچے سکول نہ گئے ہوں اور پڑھ لکھ نہ پائے ہوں تو ان کا کیا چانس ہے کہ وہ زندگی میں کسی کے ساتھ مقابلہ کر پائیں گے اور اس ملک کا کیا چانس ہے بین الاقوامی طور پر جس ملک نے اتنے سارے بچوں کو اس طرح پالا ہو جو پڑھ لکھ نہ پائیں؟ 

No comments:

Powered by Blogger.