Header Ads

Breaking News
recent

کھیل ختم ہونے کو ہے......


اس سے پہلے کہ یہ بحران حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو سکے، اسے دار الحکومت سے نکل کر پورے ملک تک پھیلنا ہو گا۔ اسلام آباد کے شہری بھلے ہی ایک ہجوم کے ہاتھوں اپنے پیارے شہر کو یرغمال بنا دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے ہوں، لیکن ملک کے باقی حصوں کے لوگ بیتابی سے انتظار میں مصروف ہیں۔ کیوںکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے، کہ اسلام آباد کے حالات بالآخر ہم پر بھی اثر انداز ہوتے ہی ہیں۔

اخبارات میں چھپنے والے کئی مضامین اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں، کہ ان دھرنوں کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ "اب تک" ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ "اب تک" اس لیے، کہ ایسا ہو ضرور سکتا ہے۔
ایک مشہور کاروباری اخبار اپنے اداریے میں کہتا ہے کہ، "صنعتی سرگرمیاں رک چکی ہیں، اور ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن سیکٹر کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ ملک سے سرمائے کے باہر جانے کے اشارے بھی موجود ہیں"۔
یہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی بات ہے۔ اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے، تو فیکٹریاں کہاں بند ہیں؟ فیصل آباد کے بزنس اگست کے مہینے کی برآمدات میں 8 فیصد کی کمی رپورٹ کر رہے ہیں، جو کہ واپس بڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن کہیں بھی فیکٹریاں بند ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نقصان ان دنوں میں پہنچا، جب جگہ جگہ کنٹینر لگائے گئے تھے، لیکن اب حالات کافی بہتر ہوگئے ہیں۔ کمیونیکیشن کو کس طرح نقصان پہنچا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ اور ملک سے سرمائے کی باہر منتقلی کے اشارے کون سے اور کہاں ہیں؟

زر مبادلہ کے ذخائر واضح طور پر کم نہیں ہوئے ہیں، نا ہی اخبارات میں روزانہ کی بنیاد پر دبئی کی پراپرٹی میں انویسٹ کرنے کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں، اور نا ہی ایئر پورٹس پر ایکسچینج کمپنیوں کے ایجنٹوں کو ملک سے غیر قانونی طور پر زر مبادلہ باہر اسمگل کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ملکی سرمائے کی باہر منتقلی کے یہی اشارے تو ہوتے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ کئی پراڈکٹس کی لانچ رک گئی ہیں۔ کئی کمپنیوں کی بورڈ میٹنگز جو اگست میں ہونی تھیں، وہ ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئیں، کیوںکہ بیرون ممالک سے بورڈ ممبران شرکت نہیں کر پائے۔ ٹرانسپورٹرز اب بھی اگست کے شروع کے دنوں میں پنجاب میں لگائے گئے کنٹینرز پر غصے میں ہیں، جب کہ کئی جگہوں پر کنٹینر اب بھی لگے ہوئے ہیں۔
سٹاک مارکیٹ کے چھوٹے کھلاڑی اعصابی تناؤ کا شکار ہیں، کیوںکہ مارکیٹ آج گرتی ہے، تو کل پوائنٹس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ روپے نے گراوٹ دیکھی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کہ یہ لگ رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ روپے کو سبق سکھا دیا جائے گا۔ روپے کی مزید گرواٹ کے پیش نظر ڈالر میں سرمایہ کاری جاری ہے۔ بڑی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔

یہ تمام حقائق ہیں، جبکہ معیشت کے ٹاپ لیول پر نقصان اور شدید ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ پوری معیشت ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، صرف مبالغہ ہے۔
ایک اور مثال۔ مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے ایک کار ڈیلر کا کہنا ہے کہ اس کے کاروبار میں 90 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ 'اس کے مطابق' لوگوں نے گاڑیاں اور کپڑے خریدنا، اور سنیما جانا چھوڑ دیا ہے۔
واقعی؟ میں نے تمام کمپنیوں کے اعداد و شمار چیک کیے، لیکن کسی کی بھی سیلز اگست میں غیر معمولی طور پر کم نہیں ہوئی ہیں۔ ہاں ایسا ضرور ہے کہ جنوری سے گاڑیوں کی سیلز میں کمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن اگست میں ہونے والی کمی اسی ٹرینڈ کے مطابق ہے جو سال کے آغاز سے جاری ہے۔ اتنا ہو سکتا ہے، کہ اگست کی کمی مارکیٹنگ پلان ٹھیک سے پورا نا کر پانے کے باعث ہوئی ہو۔ اور اگر لوگ کپڑے نہیں خرید رہے، یا سنیما نہیں جا رہے، تو یہ اسلام آباد کی صورت حال ہے، کیوںکہ کراچی میں تو شاپنگ مال اور بازار کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔

اور یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ اس پورے معاملے کے "روح رواں" لوگوں نے اسلام آباد کو چند ہزار لوگوں کی مدد سے یرغمال بنا رکھا ہے، لیکن یہ حکومت کو گرا دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اور ایسا ہو بھی کیوں؟ وکلاء نے کراچی، لاہور، اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ایک مشکل لڑائی لڑی تھی، کئی مہیںوں تک آنسو گیس، لاٹھی چارج، اور واٹر کینن جھیلے تھے، تب جا کر انکے مطالبے کی تکمیل ہوئی تھی، اور ان کا مطالبہ بہرحال وزیر اعظم کو ہٹانے کے اس مطالبے سے زیادہ نرم تھا۔
حقیقت یہ ہے، کہ اگر آپ حکومت گرانا چاہتے ہیں، تو آپ کو جان لینا چاہیے، کہ یہ ایک مشکل جنگ ہے، جس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ اتنا پریشر بنانا پڑتا ہے، جو یہ دوںوں جماعتیں اب تک نہیں بنا پائی ہیں۔ اس لیے یہ کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔

ختم ہونے کا مطلب ہے، کہ ریلیاں کراچی منتقل ہو جائیں گی۔ اور صرف ایک ہی جماعت ہے، جو کراچی کو بند کرا سکتی ہے، وہ ہے متحدہ قومی موومنٹ۔ اگر معاملے کو بڑھانا ہے، تو اسکرپٹ لکھنے والوں کو اس میں ایم کیو ایم کو شامل کرنا ہو گا۔ لاہور ایک مکمل طور پر مختلف جگہ ہے۔ خود سے پوچھیں۔ لاہور آخری دفعہ کب پورا شٹ ڈاؤن ہوا تھا؟ یاد نہیں آرہا نا؟

اسلام آباد کا یرغمال ہونا، جبکہ پورے ملک میں چیزوں کا بھلے ٹینشن کے ساتھ ہی، پر جاری رہنا ان لوگوں کے لیے پرابلم ہے، جو نواز شریف حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جب تک سپریم کورٹ یا کسی اور طرف سے کوئی ٹوئسٹ نہیں آتا، تب تک انقلابیوں کا راستہ پورے ملک پر محیط ایک لمبا راستہ ہے، اور یہ بیوقوفی ہو گی کہ اگر کوئی اس راستے پر چلنے کا عزم ظاہر کرے۔

خرم حسین

No comments:

Powered by Blogger.