Header Ads

Breaking News
recent

یہ معاملہ محض وی آئی پی پروٹوکول کا نہیں ہے........




کراچی میں پرواز کی اڑھائی گھنٹے تاخیر کے پیچھے دو وی آئی پی تھے۔ ایک پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمن ملک دوسرے مسلم لیگ کے ایم این اے رمیش کمار۔ اصل میں پرواز رحمن ملک کے لئے لیٹ کی گئی، رمیش کمار نے فائدہ اٹھانا چاہا اور رحمن ملک کا ہمراہی بننے کی کوشش میں شریک رسوائی ہو گئے۔ دونوں کو پتہ نہیں تھا کہ طیارے کے مسافر معمول کے مسافر نہیں، کسی بااثر ادارے کے لوگ ہیں جو پرواز کی ’’وی آئی پی‘‘ تاخیر سے برہم ہوگئے اور دونوں کو جہا زپر سے اتار دیا۔

یہ معاملہ محض وی آئی پی پروٹوکول کا نہیں ہے۔ وی آئی پی پروٹوکول میں یہ کہاں لکھا ہے کہ طیارہ اڑھائی گھنٹے کے لئے روک کے رکھا جائے۔ وی آئی پی پروٹوکول ایک لعنت ہے، ایک ظلم ہے لیکن یہ تو بدانتظامی کا بھی کیس ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ پی آئی اے جیسا قومی ادارہ اب دیہاتی روٹوں پر چلنے والی ویگن سروس بن گیا ہے۔ بجا طور پر پی آئی اے کی تباہی کا ذمہ دار مشرّف ہے جس نے ہر دوسرے ادارے کی طرح اس ادارے کو بھی تباہ کیا۔ وہ اسی ایجنڈے پرتو آیا تھا۔ مشرف کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت آئی جو چاہتی تو اس ادارے کوبحران سے نکالنے کی کوشش کرتی لیکن اس نے تباہی میں اپنا حصّہ ڈالا تاکہ اسے اونے پونے بیچ کر اپنی پسندیدہ ایئر لائن کو اس کی جگہ دی جائے۔ اندھیر گردی یہ ہے کہ رحمن ملک کو جہاز رکوانے کی پرانی عادت ہے اور پی آئی اے میں اس کے کئی نیاز مند افسر اب بھی موجود ہیں، انہی میں ایک ڈائریکٹر ایئرپورٹ سروسز ہے جس کے حکم پر جہاز روکا گیا۔ اسے تو کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن دو غیر متعلّق جونیئر افسر معطل کر دیئے گئے۔

بعض صحافتی حلقے اور صورت حال سے بے خبر فیس بک پر تبصرے جڑنے والے کچھ افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جاگ اٹھے ہیں۔
’’لا علمی‘‘ کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے۔

عوام ہوائی جہازوں پر سفر نہیں کرتے اور یہ احتجاج کرنے والے مسافر تو معمول کے فضائی مسافر بھی نہیں تھے بلکہ ایلیٹ آف دی ایلیٹ کلاس کے لوگ تھے۔ انہوں نے احتجاج اس لئے نہیں کیا کہ یہ ان کا حق تھا۔ بلاشبہ حق تھا لیکن حق اور بات ہے‘ اختیار اور بات۔ حق تو عوام کو بھی ہے لیکن ان کے پاس اسے استعمال کرنے کااختیار نہیں ہے۔ ان بااثر افراد کے پاس حق استعمال کرنے کی طاقت تھی جو انہوں نے استعمال کر لی۔ رحمن ملک اور رمیش کمار سے جو ہوا‘ بالکل ٹھیک ہوا۔ وی آئی پی حضرات لاشعوری طور پر خود کو قانون اور ضابطے سے اونچا سمجھتے ہیں، نیچے رہنے والے لوگ انہیں قانون کی یاد نہیں دلا سکتے، رحمن ملک اوررمیش کمار کو یہ بات یاد دلانے والے خود انہی جیسے اونچے (یا شاید ان سے بھی اونچے) لوگ تھے۔ فیس بک کلب کی یہ خوش فہمی ہے کہ عوام جاگ اٹھے ہیں۔ پاکستان کے طاقتور حلقوں نے ایسے فول پروف بندوبست کر رکھے ہیں کہ عوام بیدار نہیں ہو سکتے۔ عوام کا واحد اختیار اس ملک میں الیکشن کے ذریعے اپنی پسند کے لوگوں کو جتوانا ہے اور سب دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور سکرپٹ رائٹر ان سے یہ حق چھیننے پر بھی تل گئے ہیں۔ بدقسمتی ان طاقتوروں کی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے پلان پر عمل کے لئے دو نالائق اور ہونّق جوکروں کا انتخاب کر ڈالا جو اپنی جگ ہنسائی اور اپنے آقاؤں کی ’’عزّت افزائی‘‘ کے سوا کچھ کمائی نہیں کر سکے۔
__________________________
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سیلاب زدگان کے حالات دیکھنیجہاں جہاں بھی جاتے ہیں۔ انہیں گو نواز گو، گو شہباز گو کے نعروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے جس کا تجربہ انہیں ہو رہا ہے۔

ضروری نہیں کہ سارے ہی متاثرین یہ نعرے لگاتے ہوں لیکن یہ سوچنا تو ضروری ہے کہ متاثرین کا ایک حلقہ یہ نعرے کیوں لگا رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی امداد ان لوگوں تک بروقت نہیں پہنچی، اس کا غصّہ ہے اور اس سے زیادہ غصّہ اس بات کا کہ سیلاب سے بچانے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔
پورا بندوبست تو کوئی بھی حکومت نہیں کر سکتی لیکن پنجاب میں معاملہ کچھ اور ہوا۔ پنجاب حکومت جتنا انتطام کر سکتی تھی، وہ بھی نہیں ہوا جس کی وجہ یہ ہے کہ خزانے کی بھاری رقوم میٹرو بس جیسے بے کار، بے فائدہ بلکہ نقصان دہ منصوبوں پر لگا دی گئیں، سیلاب سے بچانے کے لئے کوئی رقم بچی ہی نہیں۔ جیسے سکولوں اور ہسپتالوں کے لئے بھی نہیں بچی۔

اور وی آئی پی کلچر بھی ہے۔ وزیراعلیٰ کے ہاتھوں مدد ملے گی۔ یہ کہہ کر حکّام نے کئی جگہ پر لوگوں کو زبردستی صبح سے بٹھائے رکھا اور وزیراعلیٰ کئی گھنٹے بعد پہنچے۔ سیلاب سے تباہ حال لوگ پھر کیا کرتے اگر گو گو کے نعرے بھی نہ لگاتے۔ وزیراعلیٰ سچ کہتے ہیں کہ وہ سیلاب سے متأثر ہونے والوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے لیکن یہ بات وہ لاہور میں بھی بیٹھ کر کہہ سکتے تھے۔ ان کے دوروں پر جو رقم اٹھتی ہے‘ وہ متأثرین کی امداد پر کیوں نہیں لگ سکتی۔ فوٹو چھپوانے کے اور بہت سے معقول موقعے ملتے رہیں گے۔
سیلاب زدگان کی مدد پر سچ مچ توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی کمی ہے۔ وزیراعلیٰ کے دوروں کا کوئی فائدہ نہیں۔ نااہل یا ڈرے ہوئے افسر جعلی امدادی کیمپ لگاتے ہیں جو دورہ پورا ہوتے ہی اٹھا لئے جاتے ہیں۔ لاہور ہی میں بیٹھ کر انتظام بہتر کریں تو خرچہ بھی کم ہوگا اور انتظام بھی ٹھیک ہوگا۔ افسروں کو اس طرح ڈرا کر رکھیں گے تو وہ جعلی کیمپ نہیں لگائیں گے تو کیا کریں گے۔ نیز مناسب ہے کہ کسی ماہر روحانیات کی خدمات حاصل کی جائیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس کا ’’روحانی معائنہ‘‘ کر کے یہ معلوم کرے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس ہاؤس میں جو بھی آتا ہے‘ وہ باتصویر دوروں پر سارا زور لگا دیتا ہے ۔ ترکی کے وزیراعظم (اب صدر) اردگان نے اپنی حکومت کے15برسوں میں اتنی تصویریں نہیں چھپوائی ہوں گی جتنی پنجاب کا (کوئی بھی) وزیراعلیٰ ایک مہینے میں چھپوا دیتا ہے۔ پھر بھی ترکی کا بچّہ بچّہ اردگان کی تعریفیں کرتا ہے اور یہاں گو گو کے نعرے لگتے ہیں۔ روحانی تشخیص کے بعد اس ’’وجہ‘‘ کو دور کرنے کی تدبیر کی جائے۔ امید ہے فائدہ ہو گا۔
__________________________
ڈی چوک کے فیشن شو کا آرگنائزر‘ رنگیلا بڑے میاں عرف کپتان خان ’’امپائر‘‘ کی انگلی سے مایوس ہو چکا ہے‘ اسی لئے اب عدلیہ سے اپیلیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہی عدلیہ جسے وہ کسی کھاتے میں لکھتا ہی نہیں تھا‘ اب اس کی امیدوں کا مرکز بن گئی ہے لیکن عدلیہ امپائر والا کام تو کر ہی نہیں سکتی۔ امپائر کا کام کیا تھا‘ وہ کپتان اور جو کر مولوی دونوں بار بار بتا چکے کہ امپائر آئے گا اور دونوں کو بیک وقت وزارت عظمیٰ کی گدّی پر بٹھا دے گا۔ عدلیہ یہ کام کیسے کر سکتی ہے۔ بے کار اپیلوں کا کوئی فائدہ نہیں۔مولوی نے تو چیف جسٹس سے لے کر صوبائی وزیروں تک کی فہرست بنا لی تھی۔

کپتان نے عدلیہ سے اپیل بھی دھمکی کے انداز میں کی ہے۔ کہا ہے عدلیہ مداخلت کرے، ورنہ خانہ جنگی ہو جائے گی۔یہ دھمکی نہیں ’’کپتان بھبکی ‘‘ ہے۔ خانہ جنگی کا خطرہ تھا، اب نہیں رہا یا بہت کم ہوگیا۔ سکرپٹ رائٹرز ناکام ہوگئے اگرچہ کپتان اور مولوی اپنے خاص بلوائیوں کو رازداری سے اب بھی یہی بتاتے ہیں کہ مایوس نہیں ہونا‘ نومبر تک امید باقی ہے۔ نومبر آنے میں ایک ماہ بارہ دن ہیں اور 14 اگست کو گزرے ایک مہینہ سے زیادہ ہو گیا۔ یہ مہینہ خانہ جنگی کے بغیر گزر گیا، ستمبر کے باقی بارہ دن اور پھر اکتوبر بھی امن سے گزر جائے گا۔ خانہ جنگی کے لئے ان دونوں آلہ ہائے فساد نے سوادِاعظم کے جن علماء سے رابطہ کیا، سب نے کورا جواب دے دیا۔ خدا نے چاہا تو نہ خانہ جنگی ہوگی نہ چینی سرمایہ کاری رکے گی۔ بلوچستان پاکستان سے الگ ہوگا اور نہ صوبہ خیبر کا آدھا حصّہ براستہ افغانستان بھارت کو دینے کا خواب پورا ہو گا، جیسا کہ حافظ سعید کے بیان سے بھی اشارہ ملتا ہے۔
انقلاب ’’سرخی‘‘ مانگتا ہے کوئی مولوی اور کپتان کو بتا دے کہ انقلاب لپ سٹک کی لالی سے آتا ہے نہ بکرے کے خون کی سرخی سے۔

عبداللہ طارق سہیل
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

VIP Protocol in Pakistan

No comments:

Powered by Blogger.