Header Ads

Breaking News
recent

افواہوں کا بازار.......اسلام آباد.



 سلام آباد کے ڈی چوک میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف پولیس کے تشدد اور آنسو گیس کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہچا تو وہاں چند مخصوص کردار نظر آئے۔
ایک نیلی جینز جیکٹ اور شرٹ میں ملبوس صاحب نے مجھے سوال جواب کرتے ہوئے دیکھا تو میرے پاس آئے اور اندازہ لگایا کہ میں شاید میڈیا سے ہوں تو انھوں نے مجھے بہت رازداری اور ذمہ داری سے ’کچھ اہم معلومات‘ پہنچانا شروع کر دیں۔
 
ساری رات اس طرح کے کئی کردار آتے اور جاتے رہے جن کا مقصد مجھے اور میڈیا کے بعض دوسرے افراد کو ’اہم معلومات‘ فراہم کرنا تھا۔
اسی دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک رکنِ پارلیمان تشریف لائے جنہوں نے اپنا استعفیٰ دے رکھا ہے اور انھوں نے ہسپتال کا دورہ کرنے سے پہلے ہی میڈیا کے سامنے دھواں دار بیانات دینے شروع کیے۔ اُن کی باتوں کی بنیاد اسی طرح کے لوگوں کی ’اہم معلومات‘ تھی۔
جب یہ بیانات میڈیا کے سامنے دیے جا رہے تھے تو میں جونیئر ڈاکٹروں کے ساتھ ایک کمرے میں سب سن رہا تھا اور وہ سب بیک زبان کہہ رہے تھے ’یہ سب بالکل غلط ہے۔‘
ان جونئیر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال کی انتظامیہ نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا اور لاشوں کے غائب کیے جانے اور ہسپتال نہ پہنچنے دینے کی باتیں بالکل درست نہیں ہیں۔‘

ایک اور رکن قومی اسمبلی کچھ دیر میں تشریف لائے جب ان سے بات کی تو ان کی گفتگو، باتوں اور انداز سے اندازہ ہوا کہ وہ کس طرح کی مجلس سے اٹھ کر آ رہے تھے کیونکہ ان سے جو بو آ رہی تھی وہ کم از کم آنسو گیس کی نہیں تھی۔
ان رکن قومی اسمبلی نے ٹی وی چینلوں پر چلنے والی افواہوں اور ہسپتال میں پہنچتے ہی سرگوشیاں کرنے والے ’مخصوص کرداروں‘ کی باتوں میں آکر ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹرعائشہ عیسانی سے کہا کہ مریضوں کی دیکھ بھال نہیں ہو رہی۔ اس پر ڈاکٹر عائشہ نے انھیں ہسپتال کے اُن وارڈوں کا دورہ کروایا جہاں مریض پہنچے اور انھیں سب کچھ دکھایا، جس کے بعد اُن کے پاس کہنے کو کچھ ہیں تھا۔

ہسپتال کے مختلف وارڈوں میں دیکھا کہ بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں پر آنسو گیس کے اثرات تھے۔
زخمی ہونے والے افراد میں سے غالب اکثریت کا تعلق پاکستان عوامی تحریک سے تھا جن کے سروں یا گردنوں پر چوٹیں آئی تھیں، جن میں سے بعض کا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔

ڈیوٹی پر موجود دو ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ دو مختلف افراد کی موت اُن کے سامنے ہوئی مگر نہ ہی ان ڈاکٹروں نے مجھے لاشیں دکھائیں اور نہ ہی مجھے اپنی ساری رات کی تلاش میں کوئی ایسی لاشیں ملیں یا ان ہلاکتوں کے کوئی اور گواہ۔
دو افراد آئی سی یو میں داخل تھے جنھیں بہت ہی بری حالت میں ہسپتال میں لایا گیا جن میں سے ایک کے پیٹ جب کہ دوسرے کے سر میں چوٹیں لگیں تھیں۔


 بغیر ثبوت، بغیر شواہد کے خبریں سُن سُن کر سوشل میڈیا پر ساری رات لوگ ایک کی دو اور دو کی چار بنا کر آگے بڑھاتے رہے۔"

ہسپتال کے ایک ذمہ دار افسر نے مجھے بتایا کہ ان دونوں افراد کی حالت تو رات کو ہی خطرناک سے بھی بری تھی مگر اُن کی ’طبی موت‘ ابھی واقع نہیں ہوئی‘ تھی جو اتوار کو صبح ہو واقع گئی۔
سب سے اہم بات یہ دیکھی کہ بہت زیادہ جھوٹی اور بے بنیاد باتیں ایسے لوگ کر رہے تھے جن کے پاس نہ تو کوئی شواہد تھے اور نہ معلومات اور نہ ہی اُن کا اس سارے معاملے سے تعلق تھا، مگر سنی سنائی بغیر دیکھی باتیں ایک سے دوسرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔
میرے سامنے ایک نجی چینل کے رپورٹر نے کہا کہ ایک شخص ہلاک ہو چکا ہے جب اُن سے ثبوت کا پوچھا تو اُن کا جواب تھا کہ ’میں نے ٹی وی کی فوٹیج دیکھی ہے جس میں نظر آ رہا ہے۔‘

بغیر ثبوت، بغیر شواہد کے خبریں سُن سُن کر سوشل میڈیا پر ساری رات لوگ ایک کی دو اور دو کی چار بنا کر آگے بڑھاتے رہے جس سے ابھرنے والی نفرت اور غصے کی لہر وقت کے ساتھ شاید تھم جائے گی مگر پاکستان میں کون ہے جو وقت گزرنے کے بعد ثبوت مانگے گا؟

طاہر عمران

No comments:

Powered by Blogger.