Header Ads

Breaking News
recent

یوکرین ۔ افغانستان اور سرد جنگ؟


لیجئے! ابھی ایشیاء کے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مکمل نہیں ہوا کہ روس نے اپنے پڑوسی یورپی ملک اور یوکرین میں اپنے مفادات کیلئے روسی فوج کو بھیج کر یورپ اور امریکہ پر ایک بار پھر واضح کردیا کہ دو عالمی جنگوں اور سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد یورپ سرد جنگ اور تصادم کے خطرات سے پاک نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ یوکرین میں فوج بھیجنے والا روس اور اس اقدام کی مذمت کرنے والا امریکہ دونوں ہی اپنے اپنے موقف کا جواز دیتے ہوئے جمہوریت ، آزادی، انسانی حقوق، عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کا سہارا لے رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروو نے 3؍مارچ کو جنیوا میں جو بیان دیا اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسی 3 مارچ کو جو بیان دیا ہے دونوں کا موازنہ کیجئے تو دونوں عالمی قوتوں کے متضاد موقف میں اعلیٰ انسانی اقدار، یوکرین کے عوام کی بھلائی ، اقوام متحدہ یوکرین کی سلامتی اور عالمی قانون کا یکساں طور پر احترام کے ساتھ ذکر ملے گا جبکہ دونوں عالمی طاقتوں کے مفادات میں ٹکرائو اور محاذآرائی تلخ زمینی حقائق ہیں۔

اس تمہید کا مقصد اس حقیقت کی نشاندہی کرنا ہے کہ عالمی یا علاقائی طاقتور اقوام ہمیشہ عالمی اصولوں، جمہوریت، آزادی، دہشت گردی، امن، استحکام اور سلامتی کی عملی تعریف اور اقدامات کا تعین اپنے مفادات کے مطابق کرتی ہیں۔ امریکہ افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجی لمبی مدت کیلئے افغان ، امریکہ دو طرفہ معاہدہ کے تحت مقیم رکھنا چاہتا ہے مگر گزشتہ بارہ سال سے امریکی سرپرستی، حمایت اور امداد سے افغانستان کے سربراہ مملکت حامد کرزئی معاہدہ پر دستخط سے انکاری ہیں۔ کرزئی کو اس انکار کے باعث صدر اوباما نے ناپسندیدہ قرار دے دیا اب چند دنوں میں وہ افغان صدارت سے بھی رخصت ہونے والے ہیں۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ بیرونی طاقتوں کی سرپرستی سے اپنے ملکوں پر حکومت کرنے والے قائدین کی جب افادیت ختم ہوجاتی ہے تو بڑی طاقتیں انہیں ’’ٹشوپیپر‘‘ کی طرح نکال پھینکنے میں بھی دیر نہیں لگاتیں۔ گلوبلائزیشن کے جدید دور میں یہ عمل اب زیادہ واضح ہو گیا ہے۔

یہ نظریہ سازش نہیں ایک عالمی حقیقت ہے کہ عالمی اور علاقائی قوتیں کمزور اقوام اور ان کے قائدین کا رول اور عالمی امن کی تعریف اپنے مفادات کے تقاضوں کے مطابق متعین کر رہی ہیں۔ امریکہ استحکام، امن، ترقی اور جمہوریت کا حوالہ دیکر افغانستان میں اپنی فوج رکھنا چاہتا ہے لیکن انہی مقاصد کے نام پر یوکرین میں روسی فوج مداخلت کو خطرناک قرار دے کر مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے روس کو اس اقدام کی سزا دینے اور ایک نئی سرد جنگ شروع کرنے کا خطرہ بھی مول لے رہا ہے جبکہ روس نے یوکرین میں فوج بھیجنے کے اقدام کو وہاں کے عوام کی بھلائی ،انہیں فاشسٹوں سے نجات دلانے میں مدد اور امن کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ یہی عالمی طاقتوں کی عالمی حقیقت ہے کہ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔

موسم سرما کے اولمپکس گیمز کا زورشور ختم ہونے سے قبل ہی یوکرین میں عوامی مظاہروں اور حکومتی بحران نے یوکرین کے روس نواز صدر ینکووچ کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تو سب کو یقین تھا کہ روس لازماً اپنے مفادات کیلئے اقدام کرے گا اور اب یہ واضح بھی ہوگیا کہ امریکہ اور یورپ کی پروا نہ کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے یوکرین میں روسی آبادی کے اکثریتی علاقے کریمیا میں روسی فوجی دستے بھیج دیئے تاکہ بحران زدہ یوکرین میں روسی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ روس آج بھی ایک عالمی طاقت اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والا ملک ہے اور صدر پیوٹن ٹوٹے ہوئے سوویت یونین میں سے ایک گرینڈ روسی فیڈریشن کی تعمیر چاہتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد کی سابقہ سوویت یونین کے نو آزاد ممالک کو اپنے دائرہ اثر میں رکھنا چاہتے ہیں۔

اسی لئے وہ پہلے جارجیا میں بھی روسی فوج بھیج چکے ہیں اور دو علاقے عملاً جارجیا سے آزاد کرائے، اس وقت بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نےاحتجاج کیا روس کو تنہا کرنے اور رابطے منقطع کرنے کے اقدامات کئے لیکن حالات و واقعات اور اپنے اردگرد کے ممالک میں اپنی مضبوط گرفت کے باعث روس ڈٹا رہا اور اس نے جارجیا کے ساتھ جنگ بندی کی شرائط پر بھی عمل نہیں کیا اور صرف ایک سال بعد ہی 2009ء میں نیٹو ممالک نے روس سے ملٹری رابطے بحال کرلئے جبکہ 2010ء میں صدر اوباما نے روس کے ساتھ سویلین نیوکلیئر سمجھوتے پر دستخط کرکے تعلقات کو بہتر بنا لیا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس روس کے خلاف جوابی عملی اقدام کرنے کے آپشن بہت محدود تھے اس کے برعکس یورپ کو روسی گیس کی سپلائی کی بڑی لازمی ضرورت بھی بے بس کردیتی ہے۔

اب تو امریکہ کو بھی ایران اور شام کے معاملات میں روسی تعاون کی بڑی ضرورت ہے لہٰذا امریکہ اور یورپی طاقتیں یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے باوجود تصادم نہیں چاہتیں بلکہ وقتی طور پر معاشی تعاون کی معطلی، مذمتی بیانات، یورپ کی جانب سے روسیوں پر ویزا کی پابندیاں عالمی دبائو اور حدود سے تجاوز نہ کرنے کی وارننگ تک ہی معاملات محدود رہیں گے۔ صدر پیوٹن یہ سمجھتے ہیں امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس بڑے محدود آپشن ہیں لہٰذا وہ کچھ زیادہ نہیں کرسکیں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، یوکرین اور دیگر رکن ممالک نے اپنی تقاریر میں روس کو عالمی قانون، معاہدہ ہلسنکی اور دیگر معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے یوکرین میں فوج بھیجنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن روس نے بھی کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی یاد تازہ کرتے ہوئے یوکرین کے معزول صدر یوکونوچ کے دستخط سے روسی صدر کے نام ایک خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا ہے جس میں یوکرین کے صدر نے یوکرین سے فرار ہونے سے قبل روس سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یوکرین انتہا پسندوں اور فاشسٹوں کے ہاتھ خانہ جنگی کی حالت میں ہے لہٰذا صدر پیوٹن یوکرین میں امن و امان کے قیام میں تعاون کریں۔

روس کی جانب سے بلائے جانے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی سفیر کی جانب سے معزول صدر یوکونوچ کا یہ خط یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس یوکرین کے منتخب صدر کی درخواست پر یوکرین میں فوجی مداخلت کر رہا ہے جبکہ امریکہ روس کو عالمی قانون ، معاہدہ ہلسنکی، معاہدہ بڈاپسٹ اور پڑوسی ملک یوکرین کی آزادی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے رہا ہے۔ گویا اقوام متحدہ کے محاذ پر امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کا محاذ ایک بار پھر کھل گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے لہٰذا روس کی مرضی کے بغیر سلامتی کونسل کوئی قرارداد بھی منظور نہیں کرسکتی۔ روس کو عالمی حالات کے بہائو سے علیحدہ کرنا بھی اتنا آسان نہیں۔ روسی زبان بولنے والے مشرقی یوکرین کے تقسیم ہوجانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ شام ، عراق ، لیبیا ، افغانستان اور دیگر ممالک پر بآسانی اقتصادی اور دیگر پابندیاں عائد کر ڈالنے والی سلامتی کونسل ویٹو کے حامل روس کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور نہیں کرواسکتی مگر سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ان کے حامی ممالک کی مختلف دھمکیوں پر مبنی تقاریر کا زور ہے۔ پابندیوں اور اس کی قیمت ادا کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں مگر صدر پیوٹن کے رویہ اور موقف میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

روس اپنی فوجی مداخلت کو باہمی معاہدوں اور عالمی قانون کے تقاضوں کے مطابق یوکرین کی مدد کرنے کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکی سفیر سمنتھا پاورز، برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ روسی سفیر ویٹالی چرکن زبردست شعلہ بیانی اور سفارت کاری میں مصروف ہیں۔ چین کے سفیر غیر جانبدارانہ اور ڈائیلاگ سے مسئلہ حل کرنے کے اصولی موقف پر زور دے رہے ہیں۔ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کے ایام کی طرح محاذ آرائی اور مذمت کرنے کا ماحول قائم ہے اور بقیہ چھوٹے بڑے ممالک عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی میں مشکلات سے دوچار ہیں یوکرین ہو یا افغانستان، وینزویلا ہو یا شام، لیبیا ہو یا جارجیا جیسے ممالک ہوں انہیں تو بڑی عالمی طاقتوں کے ایجنڈے اور مفادات کا حصہ بننا پڑ رہا ہے۔ نئی صدی میں گلوبلائزیشن کے تقاضے، چھوٹی یا کمزور اقوام کے حق میں نظر نہیں آتے۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد سبھی ہمارے قائدین نے امریکہ اور سوویت یونین میں جاری سرد جنگ میں دھکیل دیا تھا، جس کی قیمت پاکستان کو آج بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ روس کی دشمنی اور دھمکیاں امریکہ کی امداد اور پابندیاں، خطے میں ہماری علاقائی تنہائی اور دہشت گردی کے دور کے بعد ہماری عالمی تنہائی یہ سب کچھ ہمارے قائدین کی عاقبت نااندیشی اور عالمی طاقتوں کی سرد جنگ اور رسہ کشی میں خود کو پھنسانے کا نتیجہ بھی ہے۔


بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

Russia in Ukraine

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.