Header Ads

Breaking News
recent

خود سوزی، عدل اور انصاف


مظفر گڑھ میں زیادتی اور خود سوزی کے دل خر اش واقعے نے ہمارے سوئے ضمیر کو پھر سے جگا دیا ہے۔ اگرچہ یہ جاگنا بھی وقتی ہے مگر پھر بھی سوئے رہنے سے بہتر ہے۔ اس واقعے کو دوسرے واقعے سے جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو اصل قصہ سمجھ آئے گا۔ پاکستان کے ایک اور شہر میں والد کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر دو بچوں نے خود کو جلا ڈالا۔ لڑکی جانبر نہ ہو پائی۔ اس طرح کے تمام اندوہناک اور روح تڑپا دینے والی خبروں کے پیچھے ایک ہی عنصر کارفرما ہے اور وہ ہے انصاف کی عدم دستیابی۔ پاکستان میں سب سے بڑے مظالم کا گڑھ ہے تھانہ اور کچہری۔ شہر ہو یا مضافات شہریوں کے حقوق کی پامالی اور تذلیل کے بڑے بڑے واقعات اسی نظام کے ذریعے ہوتے ہیں۔ جن ممالک میں پولیس مستعد اور جرائم پیشہ یا طاقت ور حلقوں کے تابع نہیں ہوتی وہاں پر مظلوم کو انصاف کی امید اور ظالم کو سزا کا خوف ہوتا ہے۔ برطانوی راج کے تحت چلنے والے تھانے تمام تر استحصال اور انتظامی سختی کے باوجود اس طرز میں جمہوری یقیناً تھے کہ ان کو ظالم اور مظلوم دونوں کے ساتھ نپٹنے کا انداز آتا تھا۔ ان کو ظالم اور مظلوم کا فرق بھی پتہ تھا۔ اوپر سے یہ زمین گورے نے اپنے قبضے میں کی ہوئی تھی اور یہاں کی آبادی کو غلام بنایا ہوا تھا۔ مگر غلاموں کو مطمئن رکھنے کے لیے اس نے ایسا تھانہ سسٹم تیار کر دیا تھا جو ڈاکوؤں، چوروں اور بدمعاش عناصر قلع قمع کرنے کی صلاحیت اور قانونی جواز رکھتا تھا۔

ہم نے آزادی کے بعد سب سے پہلے انسانوں کا ستیاناس کیا اور ان کو مختلف خواہ مخواہ کے تجربات میں سے گزار کر طرح طرح کے حیلے بہانے استعمال کرتے ہوئے آزاد ریاست کے نئے مالکان کے گھر کی لونڈی بنا دیا۔ 2014ء میں حال یہ ہے کہ پولیس یا حکومت کے لیے کام کرتی ہے یا نہیں کرتی۔ عوام کو ظالموں کی پہنچ سے دور رکھنے کی جو بنیادی ذمے داری پولیس کو سونپی گئی تھی اس کا نشان تک نہیں ملتا۔ جمہوری حکمرانوں نے فوجی طالع آزماؤں سے بڑھ کر تھانوں پر قبضہ کیا ہے۔ آج بھی کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے رکن کے گھر چلے جائیں 50 فیصد معاملات کا تعلق تھانوں سے ہی ہو گا۔ وزیر ِاعلی اپنے کام کے بہترین گھنٹے افسران اور تھانوں کے سربراہان کی پوسٹنگ اور تبادلوں پر صرف کرتے ہیں۔ ان کو علم ہے ان کی طاقت کی بنیاد عوام کے ووٹ نہیں بلکہ عوام کا گلا گھونٹنے کا وہ نظام ہے جو تھانوں کے قبضے پر بنیاد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے تھانوں میں بالخصوص اور پولیس کے نظام میں بالعموم کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ حقیقی تبدیلی لانے کے بجائے بحث کو دھڑوں کی سیاست میں الجھا دیا جاتا ہے۔ ایک طرف پولیس والوں کا دھڑا ہے اور دوسری طرف نام نہاد DMG گروپ بھی پولیس کو انتظامیہ کے تابع کرنے کے نام پر تاخیر کی جاتی ہے۔ اور کبھی انتظامیہ سے جان چھڑانے کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

جنرل مشرف کے دور میں شروع ہونے والی بحث ابھی تک جاری ہے مگر تھانے ویسے کے ویسے ہی ہیں جن کے اہلکار خود سوزی کر نے والوں پر مٹی ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے۔ پنجاب میں شہباز شریف میلوں ٹھیلوں کے ذریعے دوسری مسلسل پانچ سالہ مدت پوری کر رہے ہیں۔ پنجاب میں مختصر وقفوں کے علا وہ میاں صاحبان نے طویل حکومت کی ہے۔ میں پرویز الٰہی کے دور کو بھی میاں صاحبان کا دور ہی کہوں گا۔ صرف وزیر اعلیٰ کا چہرہ مختلف تھا، افسران اور نظام وہی تھا جو شریف برادران چھوڑ کر گئے تھے۔ ایک صدی کے ایک چوتھائی عرصے میں ہمارے انقلابی حکمرانوں نے کیا تبدیل کیا ہر دوسرے روز بدقسمت خاندانوں کے گھروں میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ بازو ہلا ہلا کر احتساب کی باتیں کرتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں اور خود کو پسندیدہ کالم کاروں کے ذریعے افلاطون اور ارسطو کے درجے پر فائز کرتے ہیں مگر بدلتے کچھ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2014ء میں ٖغریبوں کی بیٹیاں ظلم کا شکار ہونے کے بعد سڑکوں پر جل مر رہی ہیں۔ پاکستان میں اصلاحات اور انقلابی تبدیلی کے نام سے جس قسم کے دھوکے ہوتے ہیں اُن کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ مگر اس سے بڑا دھوکہ اُن سیاسی جماعتوں نے دیا ہے جو خود کو حزب اختلاف قرار دیتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف آخری الیکشن میں انقلاب کا نعرہ لے کر آئی تھی۔ مگر جب سے عمران خان شریف ہوئے ہیں تب سے تھانوں کی اصطلاحات کا معاملہ دور ٹھنڈے اسٹور میں ڈال دیا گیا ہے۔ بڑی بڑی باتیں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھاتی ہیں۔ امریکا، ڈرون، دہشت گردی کے خلاف (یا اس کے حق میں جنگ) وہ شہ سرخیاں ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مزید اہم بناتی ہے۔

مظفر گڑھ، ملتان، تھر میں غریبوں کی اموات مٹی سے اٹے ہوئے دیہات اور گوٹھوں میں تھانوں کا ظلم یہ سب معاملے چھو ٹے ہیں۔ اِ ن کو موخر کیا جا سکتا ہے۔ غریب کی اولاد مرنے اور لٹنے کے لیے ہی پیدا ہوتی ہے۔ امیر لیڈران ان بیکار لوگوں کے دیرینہ مسائل کو اپنے سر پر سوار کر کے اپنی توجہ مسائل سے نہیں ہٹانا چاہتے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت نظام عدل کی بھی ہے۔ نچلے درجے کا انصاف کا نظام ویسا ہی ہے جیسے نچلے طبقے کی زندگیاں جمود کا شکار، تحریک سے عاری، ذمے داری سے خالی۔ ہمارے یہاں انصاف بڑے بڑے مقدمات پر ہو تا ہے۔ جتنی قانونی بحث جنرل مشرف کے مقدمے پر ہوتی ہے اگر تمام عدالتی نظام کو درست کر نے پر صرف کی جاتی تو اس قوم کا اصل میں کچھ بھلا ہو جاتا ہے مگر چھوٹے مقدمات طویل قومی بحث کا موضوع نہیں بنتے اور پھر جہاں تک ہمارا عدالتی نظام پہنچ چکا ہے وہاں سے نچلی سطح کے مقدمات اُن لوگوں کی طرح ہی نظر آتے ہیں جن کا وجود طاقت کے کھیل میں غیر ضروری ہے۔ جنرل مشرف کو سزا دلوانے پر تمام نظام تلا ہوا ہے سزا ملنی چاہیے مگر روزانہ انصاف کے متلاشی لوگ خود کشیاں کرتے پھر رہے ہیں۔ اُن کی حالت زار پر اگر تھوڑی سی توجہ دے دی جاتی تو کوئی حرج نہیں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم طاقتور طبقوں سے برابری اور اچھائی کی توقع کر رہے ہیں۔ یہ تمام طبقات لوگوں کی پسی ہوئی ہڈیوں کے انباروں پر رہتے ہیں۔ یہ وقتی طور پر تو نیچے نظر دوڑا کر خود سوزی کے واقعات پر افسوس کا اظہار بھی کر تے ہیں۔ مگر حقیقت میں ان کے پا س عام لوگوں کے لیے کوئی وقت نہیں ہے۔ اُن کا مرنا اور جینا اِن کے لیے بے معنی ہے۔

طلعت حسین

No comments:

Powered by Blogger.