پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل کشمکش کی وجوہات بھی بڑی طویل ہیں۔ جہاں دونوں ممالک میں متعدد جنگیں لڑی گئیں اور نفرتوں کی دیوار وقت کے ساتھ بلند ہوتی گئی۔ وہاں یہی کشمکش کھیل اور دوسرے میدانوں میں بھی واضح طور پر دیکھی جاتی رہی ہے۔ ہاکی کا میدان ہو یا کرکٹ کا کھیل۔ جب پاکستان اور بھارت کا میچ ہو گا تو جذبات الگ ہوں گے۔ منفرد ہوں گے۔ اگر پاکستان کی ٹیمیں مختلف کھیلوں کے سلسلے میں دنیا بھر کی ٹیموں کے ساتھ مقابلے میں آتی رہتی ہیں لیکن بھارت کے ساتھ میچ اور مقابلوں میں قوم کے جذبات خصوصی رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر جیت کا مزہ عجیب مزا بن جاتا ہے اور خدانخواستہ شکست تو بڑی ہی دلخراش صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔

یہی کیفیت بھارت کی طرف بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اگر یہ بات جذبات کی حد تک رہے تو سب ٹھیک ہے۔ آخر کھلاڑی بھی ملک وقوم کا حصہ ہوتے ہیں اور اپنے اپنے میدان میں ملک وقوم کے جذبات کے ساتھ ہی میدان میں اترتے ہیں۔ جیت ہار کو بھی کھیل کا بالآخر حصہ سمجھ لیا جاتا ہے لیکن اس بار کرکٹ کے میچ میں پاکستان کی جیت نے نہ صرف بھارتی عوام بلکہ سیاسی رہنماؤں اور حکومت کو بھی ایسے جذبات کی لپیٹ میں لے لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوریت کا غوغا کرنے والے اس ملک میں جمہوری قدروں کی کوئی قدر نہیں۔ کوئی برداشت نہیں اور کمزور کو دبانا بھارتی حکومت کا شیوہ ہے۔ کھیل جیسے میدان میں بھی وہ اس قدر متعصب ہو سکتے ہیں۔ یہ پہلی دفعہ پوری دنیا میں آشکارا ہوا ہے۔

واقعات کچھ اس طرح سے ہیں کہ پچھلے اتوار کو پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ تھا۔ پاکستان کی ٹیم نے کرکٹ میچ جیت لیا۔ میرٹھ کی پرائیویٹ یونیورسٹی ’’سوامی ووک آنند سو بھارتی یونیورسٹی‘‘ میں پڑھنے والے 67 کشمیری طالب علموں نے جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے حق میں نعرے لگا کر خوشی کا اظہار کیا۔ اس پر باقی طلباء ناراض ہو گئے۔ انہوں نے لڑائی کی اور کشمیری طالب علموں پر پتھراؤ کیا اور کشمیری طالب علم اپنی جان بچا کر مشکل سے اپنے کمروں میں مقید ہو گئے۔ یورنیورسٹی کی انتظامیہ اور سیاسی قائدین ان بے چارے طالب علموں کی جان کے دشمن بن گئے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے رکن دستور ساز اسمبلی سیتا پرکاش کی قیادت میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کے دفتر کا گھیراؤ کیا گیا۔ اور پولیس نے بلیک میل ہو کر ان 67 طالب علموں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے کے تحت درج کر لیا۔ یونیورسٹی نے بھی ان طالب علموں کو اپنے کورسز سے معطل کر دیا۔

یوں اس جمہوریت کے دعویدار ملک میں عدم برداشت کی مثال قائم کرتے ہوئے ان طالب علموں کے ساتھ نا انصافی کی گئی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں مقدمات انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے درج کیے جاتے ہیں۔ مخالفین کو ریاستی تلوار سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ خاص طور پر بی جے پی کو اس میں کمال حاصل ہے۔ جب یہ خبر پوری دنیا میں پھیلی تو بھارت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا تو بوکھلا کر بھارتی حکومت نے ان طالب علموں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ تو واپس لے لیا لیکن یونیورسٹی نے ان طالب علموں کو واپس کورسز میں شمولیت کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ یہ طالب علم اب واپس سری نگر پہنچ گئے ہیں۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں اس کے خلاف شدید غم و غصہ ہے اور بھارت کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی الگ ہوئی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا بغاوت کا یہ مقدمہ جو طالب علموں کے خلاف درج ہوا ہے۔ قانون کی نظر میں اس کی کیا حقیقت ہے۔ یہ مقدمہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124اے کے تحت درج ہوا ہے۔ یہ دفعہ اس طرح سے ہے ’’جو کوئی تحریری یا زبانی طور پر، اشاروں سے یا واضح طور پر یا کسی اور طریقے سے، قانون کے مطابق بھارت میں قائم حکومت کے بارے میں نفرت کا اظہار کرتا ہے یا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہے یا دوسروں کو ایسا کرنے پر اکساتا ہے تو وہ پانچ سال قید کا مستوجب ہو گا اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا یا تین سال کا مستوجب اور اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، یا جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ (وضاحت1) نفرت کے اظہار میں عدم وفاداری، دشمنی کے جذبات شامل ہیں لیکن نفرت کے اظہار میں حکومتی اقدامات کے خلاف قانونی طریقے سے تبدیلی لانے کا عمل جس میں نفرت پھیلانے کا عنصر شامل نہ ہو تو اس دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا (وضاحت2) نفرت کا اظہار جو کہ حکومت کے انتظامی و دوسرے اقدامات کے خلاف ہو اور نفرت پھیلانے کے زمرے میں نہ آتاہو تو بھی اس دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا‘‘۔

اس دفعہ کی تفصیلات دیکھنے کے بعد کوئی بھی ذی شعور اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ کھیل میں جیتنے والی ٹیم کے بارے میں اچھے جذبات کا اظہار، اس کے حق میں نعرے لگانا، خوشی کا اظہار کرنا کسی طرح سے بھی بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی کے رہنما جو کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ نفرت پھیلاتے ہیں وہ دراصل اس دفعہ کے تحت بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان کے خلاف نہ تو ریاست کوئی کارروائی کرتی ہے۔ نہ ان کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ ان معصوم کشمیریوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ صرف اس لیے درج کیا گیا کہ انہوں نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا۔

پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق بھی جرم ہے۔ چاہے اس کی ٹیم کی جیت پر خوشی ہی کیوں نہ منائی جائے۔ یہ ہے ریاستی انصاف، یہ ہے بھارتی جمہوریت۔ اس مقدمہ نے بھارت کے اندرونی حالات کی قلعی کھول دی ہے۔ خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے نہ صرف بی جے پی کے رہنماؤں کے جذبات سامنے آ گئے ہیں بلکہ بھارتی حکومت کا رویہ بھی واضح ہو گیا ہے۔ اگر کھیل کی جیت پر داد دینا برداشت نہیں تو کشمیریوں کے حقوق کو بحالی کرنے پر کیسے رضامندی ظاہر کی جائے گی۔ یہی حقیقت ہے جو کہ نہ صرف تعصب پر مبنی ہے بلکہ لاقانونیت اور منفی رویوں کی انتہا ہے۔

عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو بھارت کی اس ریاستی ہٹ دھرمی کا نوٹس لینا چاہیے۔ اگرچہ بھارتی حکومت نے مقدمہ تو واپس لے لیا ہے لیکن یونیورسٹی نے طالب علموں کو ابھی تک بحال نہیں کیا۔ یونیورسٹی کو بھی ان طالب علموں کو واپس لینا چاہیے تا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور آئندہ کے لیے ایسے واقعات کا سدباب کرنا چاہیے۔


بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '