Header Ads

Breaking News
recent

براہ راست جمہوریت کی طرف ایک قدم


قومی قیادت کی کوششوں کے نتیجے میں ہم آہستہ آہستہ براہ راست جمہوریت کی طرف گامزن ہو چکے ہیں۔ یہ طرز حکومت ہے تو کافی پرانا لیکن اس کی گوناگوں خصوصیات زمانے کی نذر ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے بالواسطہ جمہوریت کے طور طریقے اپنانے پڑے۔ یونانی ریاستوں میں براہ راست جمہوریت رائج تھی۔ یہ ایک زبردست نظارہ ہوا کرتا تھا، جمہور یعنی عوام چھوٹے چھوٹے میدانوں میں اپنے قائدین سے آمنے سامنے رابطہ کیا کرتے تھے۔ سوال و جواب، احتساب اور ضروریات سب کے اظہا ر کے لیے یہ پلیٹ فارم موثر کردار ادا کرتا تھا۔ جو لوگ عوام اور قیادت کے درمیان خلاء پیدا کر کے جمہوریت کی نفی کرتے تھے اُن کا کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا۔ انتخاب کا طریقہ کار سیدھا سادا اور انتہائی جاندار تھا۔ جو عوام کے مسائل حل کر سکتا تھا وہ منتخب ہو جاتا۔

جو چالاکیوں سے عوام کو لبھانے کی کوشش کرتا اُس پر سے بھی پردہ اُٹھ جاتا مگر پھر آبادیاں بڑھ گئیں، شہر بن گئے، نظام بڑے اور میدان چھوٹے ہو گئے۔ ریاستی امور کو چلانے کے لیے بالواسطہ نظام کا سہارہ لینا پڑا جس میں منتخب قیادت دور دور سے پرچی کے ذریعے عوام کی قیادت کا بِیڑا اُٹھا لیتی ہے اور اُس کے بعد ایک خاص مدت تک خوف کے بغیر سیاسی طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ منتخب ہونے کا عمل بالواسطہ ہو چکا ہے۔ قیادت اور انتخاب کرنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے اس نظام کی خامیاں دور کرنے کی کوشش کی ہیں۔ مگر وہ یونانی ماڈل جو ایک مثالی جمہوریت کی تعبیر مانا جاتا ہے اب بھی بہت دور ہے۔

ہم اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود اپنے تجربات سے اس آئیڈیل کو حاصل کرنے کی جستجو شروع کر چکے ہیں۔ ہمیں شاید خود بھی معلوم نہیں کہ ہماری یہ سعی جمہوری تاریخ میں کتنا بڑا انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ براہ راست جمہوریت کی ایک مثال سندھ ثقافتی میلہ تھا جس کے بعد اب بسنت کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے براہ راست خطاب کرنے کی پرانی روایت کو دوبارہ سے زندہ کیا ہے۔ اگرچہ فی الحال وہ ٹوئٹر پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور مکمل طور پر عوام کے بیچ ہونے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ سندھ ثقافتی میلے کے حیران کن رنگ براہ راست دکھائے گئے۔ بختاور بھٹو نے ایک گانا بھی نذر کیا۔ بے نظیر بھٹو کے بچے جو اب آصف علی زرداری بطور باپ پال رہے ہیں، اپنے پیارے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک نجی محفل کی صورت میں سندھ کی بُھولی بِسری ثقافت کو نئے انداز سے زندہ کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ محترم الطاف حسین کے براہ راست خطاب اُسی ماڈل کا ایک عکس ہے جو زمانہ قدیم میں رائج تھا۔ جمہوری محققین کا پسندیدہ تھا مگر تبدیلیوں کی دھند میں گم ہو گیا تھا۔ آج کل ان خطابات میں کچھ تعطل آیا ہوا ہے جو دور ہو جانے کے بعد ویسا ہی ماحول پیدا کر دے گا جیسا آج سے چند ماہ پہلے تھا۔

اس ضمن میں حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان بات چیت کے ماڈل کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔ اگرچہ فی الحال کمیٹیاں اپنا کام کر رہی ہیں۔ اس بارے میں مثبت یا منفی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔ فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسائل کو براہ راست حل کرنے کے لیے یہ طریقہ کار انتہائی کارآمد ہے۔ پاکستان کے اُن کروڑوں ووٹروں کے لیے بھی اس ماڈل میں پر مسرت خبریں چھپی ہوئی ہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں انھوں نے جماعتوں کو منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجا۔ اِن میں سے کچھ جماعتیں لبرل اور کچھ نسبتاً روایتی نظریات رکھتی تھیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام س اور ف اُن نظریات کے قریب تر تھیں جو ضیاء الحق کے دور میں مشہور و معروف ہوئے۔ اور جن کی کوکھ سے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ صحافت میں بھی ایک ایسی نسل نے جنم لیا جو اس ملک کو سعودی عرب کا پرتو دیکھنا چاہتی ہے۔

مذاکرات کے عمل کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے کروڑوں ووٹروں کے لیے براہ راست جمہوریت کی روح کے مطابق رائے کے اظہار کے مو اقعے حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد تحریک طالبان پاکستان سیاسی طور پر ایک باقاعدہ جماعت کے طور پر رجسٹر کروائی جا سکتی ہے۔ جو اُن تمام خیالات اور نظریات کو خالص انداز سے پھیلانے کا مکمل ارادہ رکھتی ہو جو آج کل مختلف جماعتوں مثلا نواز لیگ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی وغیرہ میں بٹے ہوئے ہیں۔ جو کوئی طالبان کے نظریات کا اطلاق چاہتا ہے وہ رنگ رنگ کی جماعتوں کو ووٹ دینے کے بجائے ایک ہی پارٹی کو ووٹ دے کر اپنے جمہوری حق کی تسکین کر پائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب جماعتیں مل کر ایک جمہوری محاذ بنالیں جس میں شاہد اللہ شاہد، پرویز رشید، عمران خان ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں۔ یہ ایک زبردست قدم ہو گا اس ملک کی جمہوری روایات کو مضبوط بنانے کے لیے اور براہ راست جمہوریت کی منزل حاصل کرنے کے لیے۔


بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

Democracy in Pakistan
Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.