Header Ads

Breaking News
recent

ہمارا سب سے کار آمد ہتھیار


دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے پاس اپنے دفاع کے لیے بھاری بھر کم ہتھیار موجود ہیں۔ امریکا فوجی قوت پر ناز کرتا ہے، روس کا دعویٰ ہے کہ اس کو مسخر کرنے والا پیدا نہیں ہوا۔ ہندوستان جیسے ممالک بھی دیکھا دیکھی جنگی ساز و سامان کا ڈھیر لگا رہے ہیں۔ جاپان معاشی طاقت کو آزمودہ دفاعی نظام سمجھتا ہے۔ اس کے خیال میں بہترین معیشت قومی مفادات کے تحفظ کا بہترین راستہ ہے۔ ناروے، ڈنمارک، انڈونیشیا، ملائشیا مختلف حوالوں سے جمہوریت کو اپنا آزمودہ آلہ سمجھتے ہیں۔ یورپ کے کنارے پر واقع ممالک جمہوری رستوں کو بہت عرصے سے اپنائے ہوئے ہیں۔ جب کہ ہمارے مسلمان ممالک اس کام میں نئے ہیں۔ مگر پھر بھی اس نظام کے ذریعے خود کو محفوظ بنانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ممالک خاموشی سے گزارہ کرتے ہیں اور خود کو مسائل سے بچانے کے عمل کو ہی پالیسی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔

ہمارے پاس جوہری ہتھیار ہیں، میزائل اور جہاز بھی ہیں۔ جمہوریت بھی موجود ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں اپنی عزت بچانے اور مسائل کے دانت کھٹے کرنے کے لیے اس سے بہتر ہتھیار اور بنایا جا نہیں سکتا۔ طویل مشاہدے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے پاس ان تمام ہتھیاروں اور داؤ پیچوں کا باپ موجود ہے۔ جو ہمارے مرکزی قومی مفادات کا اصل محافظ ہے اور جس کی موجودگی میں ہمیں کسی قسم کا غم یا پریشانی نہیں آ سکتی۔ آپ یقینا اس ہتھیار کا نام جاننے کے لیے بیتاب ہوں گے۔ تو سنیے اس بڑھیا اور موثر ترین ہتھیار کا نام ’’ تعاون کی اپیل‘‘ جی ہاں! آپ نے صحیح پڑھا۔ تعاون کی اپیل۔ ہر اہم اور نازک موڑ پر ہم اس ہتھیار کے ذریعے حملہ آوروں کو شکست دیتے ہیں۔ اپنا بال بیکا ہونے سے بچاتے ہیں، ہمارے بارے میں منحوس پیشین گوئیاں کرنے والوں کو شرمندہ کرتے ہیں۔ یعنی ہر وہ کام کر دکھاتے ہیں جو دنیا کے بیشتر ممالک سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس ہتھیار کو بنانے میں زیادہ پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ چند ایک لوازمات ہیں جن کو ملا کر آپ اس کو گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔ نہ بین الاقوامی قوانین توڑنے پڑتے ہیں اور نہ اربوں ڈالر لگتے ہیں۔ کسی سائنسدان اور تحقیقی اداروں کی لمبی فہرست کی ضرورت نہیں۔ دہائیوں اور سالوں کو صرف کرنے کی مشقت بھی نہیں کرنی پڑتی۔ آسانی سے بن جاتا ہے یہ جادوئی آلہ۔ آپ کو خود پر تھوڑی سے بیچارگی طاری کرنی پڑتی ہے، کف افسوس ملنا پڑتا ہے۔ اپنی تباہی اور بربادی کے امکانات کو اجاگر کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کو یہ بتلانا پڑتا ہے کہ ہمارے ساتھ اگر ہاتھ ہوا تو دو ہاتھ ان کے ساتھ بھی ہو جائیں گے۔ اس کے بعد تعاون کی اپیل تیار ہو جاتی ہے۔ جو ہم دنیا بھر میں اپنی بیوروکریسی، نمایندگان،تجزیہ نگاروں اور دوسرے اداروں کے سربراہان کے ذریعے جلدی جلدی پھیلا دیتے ہیں۔ ہمارا کام جھٹ سے ہو جاتا ہے۔ دشمن حیران ہو جاتے ہیں۔

میں آپ کو کئی مثالیں گنوا سکتا ہوں جس میں تعاون کی اپیل نے ڈھال اور تلوار دونوں کے کام کو مات دے دی۔ پرسوں کے اخبارات میں امریکا کے حوالے سے خبر چھپی تھی کہ انھوں نے پاکستان کی درخواست پر ڈرون حملے کم کر دیے ہیں۔ یعنی جو کام دھرنے، احتجاج، دھمکیاں، نیٹو سپلائی کی بندش، پاکستان کی خود مختاری کا ڈھنڈورا، قومی غم و غصہ وغیرہ وغیرہ نہ کر سکے، وہ تعاون کی اپیل نے کر دیا۔ معاشی معاملات کو سدھارنے کا شعبہ لے لیجیے ۔ بڑے بڑے معیشت دان ہمارے مستقبل کے بارے میں خواہ مخواہ پریشان رہتے ہیں مگر کوئی ایسی راہ تجویز نہیں کر سکتے جس پر چل کر ہم دگرگوں حالات سے جان چھڑا پائیں۔ جب سب کچھ ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے تب ہم تعاون کی اپیل کی طرف پلٹتے ہیں۔ دنیا کے مالیاتی ادارے ہم پر ڈالر نچھاور کرتے ہیں اور آنے والی خزاں وارد ہونے سے پہلے ہی ٹل جاتی ہے۔ اس ہتھیار کو بروئے کار لاتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہمیں تیل اور آسان شرطوں پر قرضے فراہم کر دیتے ہیں۔ فاٹا میں سڑکیں بن جاتی ہیں اور مالاکنڈ میں پُل۔ کہاں بیس کمروں کا اسپتال بنانے میں مشکل ہوتی ہے اور کہاں ہزار بستروں پر مبنی جدید سہولیات سے آراستہ صحت کی سہولت جادوئی قلعے کی طرح پلک جھپکتے نمودار ہو جاتی ہے۔ ہم نے عدالتی نظام کو کمپیوٹر کے ذریعے لاگو کرنا ہو یا اپنے افسروں کو جدید انداز انتظامیہ سے روشناس کرانا ہو، عوامی نمایندگان کی سیاسی تربیت ہو یا صحافیوں کی تعلیم، قومی آفات سے بچنے کے طور طریقے ہوں یا آفات کے بعد تباہی کو ترقی میں تبدیل کرنے کا عمل، تعاون کی اپیل مٹی کو سونے میں بدل دیتی ہے۔

اس ہتھیار کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ بیرونی خطرات قومی ضروریات کے ساتھ ساتھ اندرونی حالا ت پر قابو پانے کے لیے بھی بہترین انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جنرل مشرف نے آئینی حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد جارج ڈبلیو بش سے تعاون کی اپیل کے ذریعے خود کو طویل عرصے تک طاقت میں متعین کیا۔ موجودہ وزیر اعظم اور اس وقت پریشانی کے شکار نواز شریف نے اسی ہتھیار پر تکیہ کرتے ہوئے خود کو ملک سے باہر جانے کا انتظام کروایا۔ سعودی عرب سے تعاون کی اپیل خوش قسمتی کا وہ دروازہ ثابت ہوئی جس سے گزر کے میاں صاحب تیسری مرتبہ اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ جنرل مشرف کو بچانے والے بھی سعودی عرب اور امریکا سے تعاون کی اپیل پر ہی انحصار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ہتھیار چلایا جا چکا ہے۔ اس کا نتیجہ آپ کے سامنے آنے والے دنوں میں آ جائے گا۔

اسی طرح سیاستدان عوام سے تعاون کی اپیل کے ذریعے جھولی بھر کر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ عمران خان تعاون کی اپیل کے توسط اسپتال بھی بنا لیتے ہیں اور خیبر پختونخوا میں حکومت بھی۔ آصف علی زرداری بھی سب پر بھاری نہ ہوتے اگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کو بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی کے ووٹروں سے تعاون کی کامیاب اپیل نہ کرتے۔ یہ موثر آلہ ہم اس وقت بھی استعمال کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ہم نے کیا کچھ نہیں کیا‘ عین اس وقت جب دنیا اس مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں ہماری استطاعت سے متعلق شک کو یقین میں تبدیل کر چکی تھی، ہم نے تعاون کی اپیل کو بے نیام کیا۔ ہماری دعا ہے کہ ہماری ریاست اور حکومت کی طرف سے تعاون کی اپیل پر تحریک طالبان پاکستان کے مشران ہمیشہ مثبت رد عمل دیتے رہیں تا کہ پاکستان کا نام اور ہماری قوم کی شان باقی و بر قرار رہے۔

طلعت حسین    

No comments:

Powered by Blogger.