Header Ads

Breaking News
recent

ہماری ریاست ناکام نہیں بیمار ہے

ہمارے ایک سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ، سینیٹر،دانشور اور مبصر جاوید جبار آغاز خان یونیورسٹی کے سیمینار سے خطاب میں بتاتے ہیں کہ پاکستان ناکام Failingریاست نہیں بیمارAilingریاست ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب ،ویٹی کن سٹی، اسرائیل، نیپال اور مالدیپ بھی مذہبی ریاستیں ہیں مگر پاکستان ان سب سے بہت مختلف ہے۔ ہمارے ہاں کو ئی پوپ جیسی مذہبی قیادت نہیں ہے،پاکستان میں مسلمانوں کا نیپال کے ہندوئوں جیسا کوئی یک جہتی والا وجود بھی نہیں ہے اور مالدیپ جیسی سنی مسلمانوںکی کوئی وحدت بھی نہیں ہے۔ ہم ایک مخصوص اور منفرد قسم کا انوکھا وجود رکھتے ہیں جو ایک خطے کے مختلف علاقوں کو ملانے سے ’’پاکبازوں کی سرزمین‘‘ کے نام پر وجود میں لایا گیا۔ پاکستان ایک اچھوتے، منفرد، شاندار مگر انوکھے تصور کے تحت وجود میں آیا جو دو ایسے حصوں پر مشتمل تھا جس کے درمیان اور اطراف میں مخالف نظریات رکھنے والا ملک موجود تھا۔ نظریے اور فلاسفی کی ہم آہنگی اس ناقص تصور پر قابو پاسکتی تھی مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔

جاوید جبار نے کہا کہ قیام پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ملک دس ہفتوں کے نوٹس پر وجود میں لایا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی چنانچہ اس نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہاں بھیجا اور انہیں اٹھارہ مہینوں کا مینڈیٹ دیا گیا جبکہ وہ خود اس سے بھی زیادہ جلدی میں تھے اور جاپان کی شکست کی دوسری سالگرہ میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ان کی یہ عجلت برصغیر میں انسانی تاریخ کی خوفناک ترین خون ریزی کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو ڈاکٹروں نے زندگی کا صرف ایک سال کا وقفہ دیا تھا۔ قائد اعظم جو یہ سمجھتے تھے کہ کلکتہ کے بغیر پاکستان، دل کے بغیر انسان کے موافق ہوگا جو کہ ممکن نہیں ہوسکتا مگر انہیں چودہ یا پندرہ اگست1947ء تک کلکتہ کے بغیر پاکستان کو قبول کرنا پڑا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کی انا کو سکون دینے والی یہی تاریخیں تھیں جو جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دوسری سالگرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ جاوید جبار کے مطابق ہم پاکستانی مذہبی اور لسانی وحدت رکھنے والی قوم نہیں ہیں، ہماری قومی نوعیت روحانی ہے اور روحانی قومیں سینکڑوں سالوں کے روحانی عمل سے وجود میں آتی ہیں جبکہ ہم کل اور پرسوں کے خواب دیکھنے والے لوگ ہیں۔ جاوید جبار کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ انڈیا کی ایک تاریخ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخ علاقے کی ہوتی ہے چنانچہ انڈیا بھی1947ء کے بعد ایک نئے ملک کے طور پر پاکستان کی طرح وجود میں آیا بطور ایک نئے ملک کے لیکن انڈیا نے بہت سی جہتوں میں وسعت پائی جن میں جمہوریت بھی شامل تھی۔ انڈیا نے1948ء میں حیدرآباد کی ریاست پر قبضہ کیا اور اس کے علاوہ548 ریاستوں اور راجواڑوں کو اپنی ریاستی تحویل میں لینے اور قبضہ کر لینے میں واضع فرق ہے۔ تحویل میں لینے والے جسموں کے علاوہ دلوں اور دماغوں تک بھی رسائی حاصل کرتے ہیں اور انڈیا نے یہ فریضہ ادا کیا

پاکستان نے 1972 ء میں پنجاب، سندھ، سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ایک یونٹ کی شکل دینے کی کوشش کی چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی ریاست کو وجود میں1972ء میں لانے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ جاوید جبار کے مطابق ریاست کو وجود میں لانے میں ہماری ناکامی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے چار کروڑ ستر لاکھ گھرانے ہیں۔ ان میں سے اگر ہم تین کروڑ گھرانوں کو غریب اور نادار فرض کرلیں تو قومی خزانے میں انکم ٹیکس جمع کرانے والے صرف دس لاکھ ہی کیوں ہیں؟ ہمارا آبادی پر بھی قابو ہونا چاہئے تھا مگر پاکستان کے صرف تین ہزار بیاہتا جوڑے اس معاملہ میں احتیاط سے کام لیتے ہیں دیگر سب بے لگام ہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں اٹامک انرجی کمیشن، نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی، سپریم کورٹ، کارپوریٹ اور فنانشل سیکڑ اور ڈائیو بس جیسے ادارے بھی ہیں جو وقت کی پابندی کا خیال اور احترام رکھتے ہیں مگر جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بلوچ اور سندھی ہیں تو اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم اعلیٰ اور مشترکہ شناخت کا احترام بھی کرتے ہیں۔جاوید جبار کے الفاظ میں پاکستان کی بے شمار عورتیں اور مرد اس ملک کے مسائل پر قابو پانے کے لئے سیاست میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر پاکستان کو کسی ایک ’’اتاترک‘‘ کی ضرورت نہیں ایک ہزار اتاترک چاہئیں جو پاکستان کو واپس قومی ترقی کی راہوں پر ڈال سکیں یہ صرف ’’میں‘‘ اور’’آپ‘‘ ہی نہیں’’ہم سب‘‘ پاکستان کو محفوظ اور مضبوط پاکستان میں بدل سکتے ہیں اور اپنی بیماری کو مرض الموت بننے سے پہلے دور کرکے صحت مند ہوسکتے ہیں۔


بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

No comments:

Powered by Blogger.