Header Ads

Breaking News
recent

مہرگڑھ کی قدیم تہذیب

یوں تو بلوچستان کے طول و عرض میں سینکڑوں قدیم آثار اب تک دریافت ہو چکے ہیں جو قبل ازمسیح کے مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مہر گڑھ کے مقام پر جو قدیم آثار ملے ہیں وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ جنوبی ایشیاء کے نئے ہجری دور یا پتھر کے زمانے کے سب سے قدیم آثار ہیں اور علم آلاثار کے نقطہ نظر سے بے حد اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں ،نئے ہجری دور کے یہ آثار ضلع کھچی میں دریائے بولان کے کنارے رئیسانی قبیلے کے ایک گائوں مہر گڑھ کے قریب واقع ہیں اور اسی قربت کی وجہ سے ان آثار کو مہر گڑھ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ 

نئے ہجری دور کے ان آثار پر 1974ء میں فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ نے پاکستانی ماہرین آثار قدیمہ کے تعاون اور مدد سے باقاعدہ سائنسی طریقے سے کھدائی شروع کی جو تقریباً(10) دس سال تک برابر وقفوں سے جاری رہی یہاں جو کھدائی ہوئی ہے اس سے بلوچستان کے اس میدانی علاقے میں پروان چڑھنے والی سات ہزار سال قدیم کلچر (تمدن) کے ابتدائی دور سے لے کر آخری مراحل یا ادوار تک کافی روشنی پڑتی ہے۔ دریائے بولان کے کنارے اس قدیم اور گمشدہ تہذیب کے آثار کی دریافت نہ صرف بلوچستان بلکہ انسانی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہے۔ دنیا کی تمام چھوٹی بڑی قدیم تہذیبیں یا تمدن دریائوں کی زرخیز وادیوں میں پروان چڑھیں اور وہیں نشوونما پائی اور وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ترقی کے منازل طے کرتی رہیں۔

کھچی کا میدان یا دریائے بولان کی وادی بلاشبہ تمام ایسی صلاحیتیں رکھتی تھی بلکہ اب بھی رکھتی ہے جو ایک تمدن کو جنم دے سکتی ہوں۔ آج سے چند برس قبل تک کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آج کے خشک پہاڑ اور بنجر میدانوں کے درمیان واقع بلوچستان میں 7000 ہزار قبل ازمسیح کے قدیم تمدن اور زندگی کے آثار دفن ہو سکتے ہیں مگر یہ خیال اور سوچ مہر گڑھ کے قدیم آثار کی دریافت نے غلط ثابت کی گو کہ آج کل کے بلوچستان کا علاقہ بنجر پہاڑوں بے آب و گیاہ میدانوں پر مشتمل ہے مگر جدید دور کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی ہے اور مختلف شواہد طے ہیں کہ بلوچستان کا علاقہ قدیم دور میں خشک اور بنجر نہ تھا۔ بلکہ یہاں کثرت سے بارشیں ہوا کرتی تھیں اور بلوچستان کے پہاڑ اور میدان جنگلات سے پر تھے جن میں مختلف قسم کے جانوروں کی بہتات تھی۔ 

یہی بات مہر گڑھ کے آثار کی کھدائی کے دوران بھی سامنے آئی اور ماہرین کو مختلف شواہد اس دور کے درختوں، پودوں اور جانوروں کے متعلق ملے جو کہ اب تقریباً اس علاقے میں ناپید ہیں اور یہی وہ شواہد ہیں جو بلوچستان کی قدیم آب و ہوا پر روشنی ڈالتے ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے وہ علاقے جن میں آج کل پانی کی کمی کی وجہ سے آبادیاں کم ہیں مگر ان ہی علاقوں میں لاتعداد قبل از تاریخ کی بستیوں کی نشاندہی کی گئی ہے آج یہ بستیاں غیر آباد ٹیلوں کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ یہ ٹیلے جن پر آج ٹھیکریاں اور ملبے کے ڈھیر ملے ہیں یقینا اس دور میں آباد تھے اور ان بستیوں کے اردگرد لہلہاتے کھیت ہوتے ہوں گے اور جانوروں کے ریوڑ پائے جاتے ہوں گے اور یہ سب کچھ پانی کی فراوانی کے بغیر ناممکن بات ہے پس ان لاتعداد اور قدیم بستیوں کے آثار کی موجودگی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بلوچستان کی قدیم آب و ہوا آج کے دور سے مختلف تھی اوربلوچستان اس دور میں خشک اور بنجر نہ تھا جیسا کہ آج کل ہے۔

شیخ نوید اسلم


 


No comments:

Powered by Blogger.