Header Ads

Breaking News
recent

بلدیاتی سیاست میں کون کس کا سگا ؟

  چاروں صوبوں میں سال بھر پر پھیلا ہوا بلدیاتی انتخابی عمل مکمل ہوا۔گذشتہ برس بلوچستان نے پہل کی، پھر خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور پچھلے ایک ماہ کےدوران پنجاب اور سندھ میں بھی تین مرحلوں میں یہ عمل پایۂ تکمیل کو پہنچنے کو ہے۔

قطع نظر ان انتخابات میں کس کی ہار کس کی جیت ہوئی۔ کچھ رجحانات واضح طور پر سامنے آئے۔

مثلاً کہنے کو خواتین ووٹروں کی تعداد کم و بیش نصف ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے کو کسوٹی مان لیا جائے تو انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت آج بھی ووٹ دینے سے آگے نہیں بڑھی۔ اگر بلدیاتی ایوانوں میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا کوٹہ نہ ہو تو شاید حالات اور بھی ابتر نظر آئیں۔

مثلاً سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے آخری انتخابی مرحلے میں 12 اضلاع کی جنرل سیٹوں پر 31 ہزار 848 امیدوار کھڑے ہوئے ۔ان میں خواتین امیدواروں کی تعداد 90 تھی۔ ضلع رحیم یار خان میں تو ایک خاتون امیدوار نے بھی جنرل سیٹ پر الیکشن نہیں لڑا۔

پاکستان کے سب سے بڑے، گنجان اور خواندہ شہر کراچی عرف منی پاکستان میں بھی حالات ایسے ہی رہے۔ یہاں کے چھ اضلاع میں کل امیدوار پانچ ہزار484 تھے۔ان میں خواتین امیدواروں کی تعداد 133 تھی۔یہ الگ بات کہ کراچی میں درجن بھر قابلِ ذکر سیاسی جماعتیں اور اتحاد ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے اور ان میں سے کوئی جماعت بھی ایسی نہیں جس نے خواتین کی برابری اور ان کے حقوق کا علم بلند نہ کر رکھا ہو۔
کراچی میں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے تقریباً چار ہزار ووٹر بستے ہیں۔ حالانکہ 2011 میں سپریم کورٹ نے تیسری برادری سے امتیازی سلوک کو کالعدم قرار دے دیا تھا لیکن انتخابی امیدواروں کے فارم میں تیسری جنس کا خانہ ہی نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی یہ بتانے والا کہ ان کا ووٹ مردوں کے پولنگ اسٹیشن پر ہے یا خواتین کے۔
 
کراچی میں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے تقریباً چار ہزار ووٹر بستے ہیں
تیسری جنس کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی ایک سرکردہ شخصیت بندیا رانا کا کہنا ہے کہ اب تک نادرا نے کراچی میں بسنے والی خواجہ سرا برادری کے چار ہزار ارکان میں سے لگ بھگ آدھوں کو شناختی کارڈ جاری کیے ہیں مگر ہمارے ووٹروں کے لیے علیحدہ سے انتظامات نہیں کیے گئے لہذا ہم انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

بندیانے 2013 کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے انتخاب لڑا لیکن اب ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک ان کی برادری کو خواتین، اقلیت، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کی طرح بلدیاتی اداروں میں مخصوص نشستیں نہیں دی جاتیں وہ انتخابی عمل سے الگ تھلگ رہے گی کیونکہ کوئی نہیں جو خود ان کے علاوہ ان کے حقوق اور مسائل سمجھ کے ان کے لیے آواز اٹھا سکے۔
جہاں تک غیر مسلم پاکستانیوں کی بلدیاتی انتخابی عمل میں شرکت کا معاملہ ہے تو کراچی میں صورتِ حال اس لحاظ سے حوصلہ افزا رہی کہ لگ بھگ سو غیر مسلم امیدواروں نے جنرل نشستوں پر آزاد حیثیت میں یا پارٹی ٹکٹ پر قسمت آزمائی کی ۔
ان میں زیادہ تر امیدواروں کا تعلق ہندو برادری سے تھا۔ پنجاب کے 12 اضلاع میں 51 غیر مسلم امیدوار تیسرے مرحلے میں کھلے مقابلے والی نشستوں سے کھڑے ہوئے۔گو بہت کم کو کامیابی کی امید تھی مگر سماجی حالات دیکھتے ہوئے فی الحال اتنا بھی غنیمت ہے۔ البتہ اوکاڑہ میں ایک عیسائی بلدیاتی کونسلر ایسے حلقے سے کامیاب ہوا جہاں 93 فیصد ووٹر مسلمان ہیں۔

اگرچہ بلدیاتی اداروں میں غیر مسلموں کے لیے پانچ فیصد مخصوص نشستیں بھی ہیں لیکن اقلیتی برادری والے مطمئن نہیں کیونکہ ان کے بقول ان نشستوں پر منتخب ہونے والے زیادہ تر کونسلر خود کو نامزد کرنے والی جماعتوں کے احسان تلے اتنے دب جاتے ہیں کہ اپنی کمیونٹی کے حقیقی مسائل کے لئے آواز بلند کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
 
ضلع رحیم یار خان میں تو ایک خاتون امیدوار نے بھی جنرل سیٹ پر الیکشن نہیں لڑا
ایک رجحان یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مدِمقابل جماعتوں کے امیدواروں نے انفرادی سطح پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے سمجھوتے بھی کیے اور ان سمجھوتوں کی راہ میں سیاسی و نظریاتی رکاوٹیں بھی خاطر میں نہیں لائی گئیں۔

مثلاً کراچی کے ضلع ملیر کی مظفرآباد یونین کونسل میں راہِ حق پارٹی عرف اہلِ سنت والجماعت عرف کالعدم سپاہِ صحابہ کے امیدوار مولانا محی الدین نے یونین کونسل کی چیرمین شپ کے لیے پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار مثال خان کو وائس چیرمین کا امیدوار بنایا۔ دونوں امیدواروں نے جو پوسٹر چھاپے ان میں اہلِ سنت والجماعت کے رہنما ضیا الرحمان فاروقی اور ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ساتھ دکھایا گیا۔ جب پیپلز پارٹی کراچی کی توجہ مبذول کرائی گئی تو جواب یہ تھا کہ ہمارے امیدوار نے اہلِ سنت سے نہیں بلکہ راہِ حق پارٹی سے ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔
ضلع کورنگی کی یونین کونسل 14 میں مسلم لیگ نواز کے عبدالرحمان نے تحریکِ انصاف کے یاسر بلوچ کے ساتھ چیئرمین اور نائب چیئرمین کا انتخابی جوڑا بنا کے شیر کے مشترکہ نشان پر الیکشن لڑا۔

کراچی کے ضلع شرقی کی یونین کونسل پانچ میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مشترکہ امیدوار فراز آفریدی نے چیئرمین اور غلام علی نے نائب چیرمین کے لئے شیر کا مشترکہ نشان چنا۔
 
بلدیہ ٹاؤن کی یونین کونسل 34 میں جماعتِ اسلامی نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تصویر بھی عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ چھاپ دی
ضلع شرقی کی یونین کونسل 15 میں جمیعت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کے مشترکہ امیدواروں نے لالٹین کے نشان پر اپنا انتخابی جوڑا بنایا۔
کراچی کے ڈسٹرکٹ ویسٹ کی یونین کونسل 25 میں نصیر احمد نے چیئرمین شپ کے لیے اور حبیب الرحمان نے نائب چیئرمین شپ کے لیے تحریکِ انصاف، جماعتِ اسلامی، پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام اور اہلِ سنت والجماعت کی مشترکہ حمایت سے انتخاب لڑا۔

ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بلدیہ ٹاؤن کی یونین کونسل 34 میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار کو ترازو کا نشان پوسٹر پر چھاپنے سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو انھوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی تصویر بھی عمران خان اور سراج الحق کے ساتھ چھاپ دی ۔کچھ امیدواروں نے فرطِ محبت میں جنرل راحیل شریف کی تصویر بھی چھاپ دی لیکن جب انھیں سمجھایا گیا کہ فوج سیاسی جماعت نہیں ہے تو انھیں بادلِ نخواستہ نئے پوسٹر چھپوانے پڑے۔

تو یہ ہے جماعتی بنیادوں پر پہلی بار ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی جمہوریت کا مقامی حسن۔

No comments:

Powered by Blogger.