Header Ads

Breaking News
recent

نائن زیرو پر چھاپہ۔۔۔ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا..؟

مجھے آج کراچی جانا ہے۔ وہاں سے تھر جا نا ہے۔سارا دن یہی سوچتا رہا کہ نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپہ کے بعد جاؤں یا نہ جاؤں ۔ لیکن پھر جانے کا فیصلہ کیا ۔ سارا دن نا ئن زیرو پر چھاپے پر بات ہوتی رہی۔ ایک دوست نے کراچی کی حالت پر کہا کہ ایم کیوء ایم نے نائن زیرو پرچھاپہ کے بعد کراچی میں ہڑتال کی کال دی۔ لیکن جب لندن میں قائد ایم کیوایم الطاف حسین کے گھر پر سکاٹ لینڈ یارڈ نے چھاپہ مارا ۔ دو دن تک مکمل تلاشی لی گئی۔

لیکن اس پر لندن میں احتجاج نہیں کیا گیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ بلکہ سارے عمل میں مکمل تعاون کیا گیا۔ نائن زیرو پر چھاپہ کے دوران جو اسلحہ برآمد ہوا ہے اس پر رینجرز کا موقف ہے کہ یہ نیٹو کا چوری ہونے والا اسلحہ ہے۔جس کی پاکستان میں درآمد ممنوع ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا موقف ہے کہ رینجرز یہ اسلحہ کمبل میں چھپا کر لائے۔ سوال وہی ہے کہ جب لندن میں الطاف حسین کے گھر سے ہزاروں پاؤنڈز اور دووسری چیزیں برآمد ہوئیں ۔

تب الطاف حسین نے یہ نہیں کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے لوگ یہ کمبل میں ڈال کر لائے اور ان کے گھر سے برآمد کر لیں۔ شائد وہاں ایسے کہنے کا زیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔ اسی لئے الطاف حسین تفتیشی عمل کا حصہ بنے۔ میں نے کہا کہ وہ لندن ہے۔ وہاں ایسا کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اور یہ پاکستان ہے۔ یہاں ایسا کئے بغیر گزارا نہیں۔ یہی فرق ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت ہے۔ جس نے طالبان کے خلاف اپریشن کے لئے آواز بلند کی۔ ایم کیو ایم نے بلا شبہ پاکستان میں طا لبانائزیشن کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج طالبان کے خلاف ضرب عضب جاری ہے۔ شمالی وزیر ستان کو کلیئر کروا لیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے 
کہ دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔ ضرب عضب کامیاب ہو رہی ہے۔ 

بلوچستان میں بھی اپریشن جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ وہاں مسنگ لوگوں کا مسئلہ کم ہوا ہے۔ لیکن اپریشن جاری ہے۔ جب کراچی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو پر ریڈ ہو رہا تھا۔ تب ہی ڈیرہ بگٹی میں بھی کارروائی جاری تھی۔ وہاں بھی سات دہشت گرد مارے گئے۔ اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ پورے پاکستان میں تو امن قائم کرنے کے لئے کارروائی کی جائے لیکن کراچی پر خاموشی رکھی جائے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ نائن زیرو سے جو مجرم پکڑے گئے ہیں ۔ انہیں نائن زیرو پر نہیں رہنا چاہئے تھا۔ بلکہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو جا نا چاہئے تھا۔ انہیں اکثریت کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جانے انجانے جن سے غلطی ہو گئی ہوئی ہے۔ وہ ادھر ادھر ہو جاتے۔ نائن زیرو پر نہ ٹھہرتے۔ یہ موقف نا قابل فہم ہے بھی اور نہیں بھی۔ الطاف حسین کی بات چیت میں ایک پیغام ہے۔ کہ ان کی پارٹی کے جو لوگ قانون کو مطلوب ہیں وہ اب اپنی حفاظت کا خود انتظام کریں۔ جب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں بھی تو بیس سال سے لندن میں رہ رہا ہوں۔ دراصل وہ پیغام دے رہے تھے۔ کہ قانون کو مطلوب لوگ پاکستان چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔ اب پاکستان میں رہنا محفوظ نہیں ہے۔

نائن زیرو پر چھاپہ والے دن وزیر اعظم میاں نواز شریف کراچی حیدر آباد موٹر وے کے افتتاح کے لئے کراچی میں تھے۔ صبح صبح تو یہ خبریں گرم تھیں کہ وزیر اعظم کا دورہ منسوخ ہو جائیگا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ایم کیو ایم کے گورنر سندھ عشرت العباد نے نہ صرف ان کا استقبال کیا۔ بلکہ وہ سارا دن ان کے ساتھ بھی رہے۔ اگر ایم کیو ایم نا ئن زیرو پر چھاپہ کے معاملہ کو انتہاء تک لیجانا چاہتی۔ تو عشرت العباد وزیر اعظم کا استقبال نہیں کرتے بلکہ دبئی چلے جاتے۔ جیسا کہ وہ اس سے پہلے ایسا ہی کرتے تھے۔ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مذمتی بیانات بھی ان کی ضرورت ہیں۔
 
انہیں بھی سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔ ایم کیو ایم کو بھی پتہ ہے کہ یہ ہومیو پیتھک بیانات ہیں۔ ان کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ہے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں سندھ کے معاملات کو اس حد تک خراب کرنے کی خواہاں نہیں ہیں کہ سندھ میں گورنر راج کی باتیں سچ ہو جائیں۔ اس لئے دونوں سنبھل کر کھیلیں گی۔ ایم کیو ایم کو علم ہے کہ گورنر راج میں بقاء اور بھی مشکل ہو جائے گی۔ اس لئے ایم کیو ایم حالات کو اس قدر خراب نہیں کرے گی کہ معاملہ گورنر راج تک چلا جائے۔ اسی لئے معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا ۔

مزمل سہر وردی

No comments:

Powered by Blogger.