Header Ads

Breaking News
recent

اسرائیل! لڑائی جیت، جنگ ہار رہا ہے.........


میں نے گزشتہ مضمون میں بہادر فلسطینیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان لوگوں سے اختلاف کیا تھا جو انہیں ایک مظلوم، بے بس اور لاچار قوم سمجھ کر، ان کے حالات پر نوحہ گری کرتے ہیں۔ میں نے لکھا تھا کہ جن حالات میں وہ اپنی جنگ لڑ رہے ہیں، اس پر وہ نہ صرف خراج تحسین کے مستحق ہیں بلکہ ان قوموں کے لیے مشعل راہ ہیں، جو سارے وسائل ہوتے ہوئے بھی رضا مندی سے غلامانہ زندگی بسر کرتی ہیں۔ میں نے امید ظاہر کی تھی کہ فلسطینیوں کی حالیہ قربانیاں کوئی نہ کوئی رنگ لائیں گی۔ آج میں مثالیں پیش کرتا ہوں کہ غزہ کے بہادر شہریوں نے اپنے خون میں ڈوپ کر، عالمی رائے عامہ کا رخ یہودیوں کے خلاف بدل دیا جو ایک لفظ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھی، اب یہودیوں کے بارے میں ان کا طرز عمل کیا ہے؟

اکانومسٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کے حالیہ المناک واقعات کے بعد مشرقی یورپ کے 34 فیصد اور مغربی یورپ کے 24 فیصد لوگ، یہود مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ لندن میں برطانوی یہودیوں کی ایک وکلا تنظیم کے رکن نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں یہود مخالف جذبات پر لویے کے کانٹے لگ گئے ہیں۔ اسی کے فرانسیسی ہم پیشہ نے کہا کہ فلسطینی بچوں کی تصویریں دیکھ کر، عوام سخت غصے میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے مناظر سے یورپی عوام کے تصورات بدل گئے ہیں۔ وہ دن گئے جب نظریہ پرست یورپی نوجوان ، اسرائیل کو دشمنوں میں گھرا ہوا ملک سمجھا کرتے تھے۔ اب انہیں ظلم کرنے والے سمجھا جا رہا ہے۔ یورپ کی بزنس کمیونٹی اور حکومتوں میں یہ سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ اسرائیل سے اشیاء کی در آمد پر پابندی لگائی جائے۔ خصوصاً ناجائز یہودی بستیوں کی مصنوعات کی خریداری، مکمل طور سے بند کر دی جائے۔ یورپ کے سرمایہ داروں نے فلسطین کی سرزمین پر جبراً بسائی گئی اسرائیلی آبادیوں میں کاروبار بند کر دیا۔ خصوصاً وہاں جائیدادوں کی خرید و فروخت نہیں کی جا رہی۔ ہالینڈ کے پنشن فنڈ کے مینیجر اور ڈنمارک کے سب سے بڑے بنک نے جبراً بسائی جانے والی، اسرائیلی بستیوں میں تعمیراتی سرمایہ کاری بند کر دی ہے۔ ہالینڈ کی سب سے بڑی پبلک واٹر سپلائی کمپنی نے اسرائیل کی واٹر سپلائی کمپنی سے اپنا کاروبار ختم کر لیا ہے۔ اسرائیلی کمپنی مغربی کنارے سے پانی لے کر فلسطینیوں کو ہی بیچتی ہے۔ یورپ کی حکومت نے اسرائیل اور فلسطین کے مابین ناجائز بنائی گئی آبادیوں پر مذاکرات ختم ہونے کے بعد یہودی آبادی سے متعلقہ مالیاتی رابطوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ اپنی ٹھوس دوستی پر بہت یقین تھا لیکن اب امریکہ میں بھی اس کے خلاف غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل کے ایک ذمہ دار افسر نے جان کیری کی شکایت کی کہ انہوں نے سیز فائر کے لیے امریکہ کی طرف سے جو ڈرافٹ دیا اس میں حماس کی طرف جھکاؤ تھا۔ امریکہ کی نوجوان کمیونٹی اب کھل کر، واقعات کے بارے میں اسرائیل کے موقف پر شک کرنے لگی ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے ، اپنے ملک کی شہری حقوق کی تنظیموں کو انتباہ کیا ہے کہ اب وہ یک طرفہ طور پر اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں اور اسرائیل کی تصریح کرتے ہوئے اسے یہودی ریاست قرار نہ دیا کریں۔ برطانوی دانشوروں کے حلقوں میں اب یہ رائے جڑ پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو شرق اوسط میں، اپنی سفارت کاری اسرائیل تک اس طرح محدود نہیں رکھنا جاہئے کہ فلسطینیوں کی حیثیت نظر انداز ہو جائے۔ بہت سے دانشوروں کا اندازہ ہے کہ آنے والے پچاس برسوں میں ، یورپ کے اندر عربی زبان پھیل جائے گی۔ عین ممکن ہے کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے۔ خود اسرائیل کے اندر نتین یاہو کی پارٹی میں محسوس کیا جانے لگا ہے کہ مستقبل میں اسرائیل کو زندہ رہنے کے لیے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔

سب جانتے ہیں کہ اسرائیل کے وجود کا انحصار مغرب کی امداد پر ہے۔ دوسرے جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کی نازی پارٹی نے یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے تھے، انکی بنیاد پر یہودیوں نے مظلومیت کی ایک ایسی دیومالا تیار کی جس نے مغرب کے ذہن کو از حد متاثر کیا۔ بحیثیت قوم یہودی علم و ادب، سائنس اور نفسیات کے ماہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مصائب کی کہانی ایسے موثر انداز میں پیش کی ہے کہ یورپی ذہن نے یہودیوں پر مظالم کا پختہ یقین کر لیا۔ یہودی پراپیگنڈے نے یورپ کو یہاں تک اپنے حق میں متعصب کر لیا تھا کہ یہودیوں کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے خود پر ہونے والے مظالم کی جو کہانیاں پھیلائی تھیں، ان پر شبہ ظاہر کرنے والوں کو بھی نازیوں کا حامی قرار دیا جاتا۔ کسی کی مجال نہیں تھی جو یہودیوں کی مظلومیت پر شک و شبے کا اظہار کر سکے۔ میڈیا ان پر رائے زنی کرتے ہوئے ڈرنے لگا۔ مغرب کے ذہن میں یہ تصور راسخ کیا گیا کہ یہودیوں کی مظلومی مسلمہ ہے اور اس پر اعتراض کرنے والا نازیوں کا حامی ہے۔ یہ تصور وہ خوف ناک ہتھیار رہے، جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہیں ۔ جب فلسطین میں مقامی آبادی پر ظلم ڈھائے گئے، زمینوں پر قبضے کئے گئے اور نہتی آبادی کے خلاف، چھاپہ ماروں نے کارروائیاں کر کے انہیں گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا تو فلسطینی اپنا یہ دکھ لے کر مغرب کے سامنے نہیں جا سکے۔ کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ مغرب کے اسی اندھےاعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہودیوں نے فلسطینیوں پر جی بھر کے مظالم ڈھائے۔ وہ اپنی غریب الوطنی اور مظلومی کا رونا روتے اور فلسطین پر قبضے کی مہم جاری رکھنے کے لیے نئے سے نیا اسلحہ اور سرمایہ حاصل کرتے رہے ۔ کوئی بھی اعتراض خاطر میں نہیں لایا جاتا تھا۔ فلسطینی اپنی مظلومیت کی فریاد لر کر کہیں جاتے بھی تو انہیں دھتکار دیا جاتا۔ امریکہ اور برطانیہ یہودیوں کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں تھے۔

عالمی میڈیا عملاً یہودیوں کے کنٹرول میں تھا اور ان کی مظلومیت کا حربہ ، بے حد موثر ثابت ہو رہا تھا۔ وہ عربوں کو کچلتے اور اپنی مظلومیت کا رونا روتے رہے۔ فلسطینیوں کے حق میں دھیمی سی آواز سننا بھی برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ تباہی و بربادی کی داستان اتنی طویل اور قابل قبول ہو گئی کہ فلسطینیوں کو مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے علاقے ، بطور وطن قبول کرنے پر مجبور کر لیا تھا۔ الفتح جہاد کو خیر باد کہہ کر مغربی کنارے پر ایک اطاعت گزار حکومت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی۔ محمود عباس کی حکومت اسرائیل کی حاشیہ بردار ہے۔ یہ حماس تھی جس نے غزہ کی جیل میں بند رہتے ہوئے مسلح جد و جہد کا راستہ اختیار کیا۔ اس پر عربوں کا دباؤ پڑا۔ خود فلسطینیوں نے مخالفت کی۔ مغرب اس کا دشمن بن گیا۔ حماس کے حق میں ایک لفظ کہنا اور لکھنا جرم قرار پایا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں حماس نے جد و جہد شروع کی۔ کون سا ظلم تھا جو حماس پر نہیں ڈھایا گیا۔ اسے دنیا سے مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دیا گیا۔ فضائی ، سمندری اور زمینی راستے بند کر دئے گئے۔ سڑک کے ذریعے جو سامان بھی غزہ میں جاتا ہے اسرائیلی فوج اسے چیر پھاڑ کے دیکھتی ہے اور جو چیز جتنی مقدار میں، غزہ جانے کے لیے منظور کی جاتی ہے، وہی فلسطینیوں کو پہنچتی ہے۔ ہر تیسرے چوتھے مہینے اسرائیلی فوجی غزہ میں گھس کر گھر گھر تلاشی لیتے ہیں اور ایک پستول تک نہیں رہنے دیتے۔ جب اسرائیل کا دل چاہتا ہے وہ مکمل ناکہ بندی کر کے خوراک حتیٰ کہ پانی کی فراہمی تک بند کر دیتے ہیں۔ غزہ کی بجلی اسرائیل سے جاتی ہے۔ اس کی فراہمی برقرار رکھنا بھی اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ غزہ کی پوری آبادی کو مکمل طور پر بے دست و پا کر کے، پھینک دیا گیا تھا۔ حماس نے ان حالات میں اپنی جد و جہد کو آگے بڑھایا۔ باقی دنیا تو اس سے لاتعلق تھی ہی، خود عرب بھائیوں نے بھی مغرب اور اسرائیل کے خوف سے انہیں ہر قسم کی مدد پہنچانے سے پرہیز کیا۔
ایسی اندوہناک محرومی اور اجتماعی اسیری کے ساتھ، حماس کے مجاہدوں نے وہ جنگ لڑی، جس کی آج کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ حماس نے صہیونیوں کی سب سے بڑی طاقت پر پہلی مرتبہ وہ ضرب لگائی ہے جس پر اسرائیل بلبلا رہا ہے۔ جس مغرب ہر اس کا تکیہ تھا، حماس نے اسی کو اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ برطانیہ میں کوئی سیاست دان، حماس کے حق میں آواز اٹھا سکتا ہے اور اب عالم یہ ہے کہ برطانوی کابینہ کی پاکستانی نژاد رکن، سعیدہ وارثی نے اپنی حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف احتجاجاً استعفٰی دے دیا ہے۔ لندن کے ایک تھیٹر نے یہودیوں کو فلمی میلہ منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بارش کی پہلی بوندیں ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب صہیونیوں کی امیدوں پر بوچھاڑیں پڑیں گی۔

میاں عامر محمود
بشکریہ روزنامہ "دنیا 

No comments:

Powered by Blogger.