ڈاکٹر عبدالباری خان پاکستان کے معروف سرجن اور سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے تقریباً دو دہائیاں قبل کراچی میں 150 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال سے انڈس ہسپتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی قیادت میں یہ ادارہ ایک ملک گیر صحت کے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جو پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ آج انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت 12 کثیر الجہتی ہسپتال، چار ریجنل بلڈ سینٹرز، تین فزیکل ری ہیبلیٹیشن مراکز اور 100 سے زائد پرائمری ہیلتھ کیئر مراکز اور صحت عامہ کے منصوبے پاکستان کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آئزن ہاور فیلوشپس کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران انڈس نیٹ ورک نے 67 ہزار سے زائد آپریشن کیے، دو لاکھ 14 ہزار سے زیادہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کر کے علاج فراہم کیا، 29 لاکھ آؤٹ پیشنٹ وزٹس ریکارڈ کیں، چودہ لاکھ سے زیادہ ایمرجنسی مریضوں کا علاج کیا، دو لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد کو ذہنی صحت کی خدمات فراہم کیں اور 63 لاکھ سے زائد افراد کی ملیریا سکریننگ کی۔
ہَوے امپیکٹ ایوارڈ کیا ہے؟ جیمز اینڈ کیرول ہَوے آئزن ہاور فیلوشپس امپیکٹ ایوارڈ 2023 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایسے آئزن ہاور فیلوز کو تسلیم کرنا ہے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ یا سماجی سرگرمیوں کے ذریعے مقامی، قومی یا بین الاقوامی سطح پر نمایاں مثبت تبدیلی پیدا کی ہو۔ ایوارڈ کے فاتح کا انتخاب فیلوشپس کے ٹرسٹیز، سابق فیلوز اور ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی کرتی ہے۔ رواں برس ڈاکٹر عبدالباری خان کا انتخاب 45 سے زائد منصوبوں اور نامزدگیوں میں سے کیا گیا۔ اس ایوارڈ کے ساتھ 10 ہزار امریکی ڈالر کی رقم بھی دی جاتی ہے تاکہ جیتنے والا اپنے سماجی مشن کو مزید آگے بڑھا سکے۔
عالمی سطح پر اعتراف آئزن ہاور فیلوشپس کے صدر جارج ڈی لاما نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالباری خان نے اپنی ذاتی سوچ کو ایک ایسے قومی صحت کے نظام میں تبدیل کر دیا ہے جس نے بے شمار جانیں بچائی ہیں اور ہر سال لاکھوں افراد کی صحت کو بہتر بنایا ہے۔ ان کے مطابق کمزور اور محروم طبقات کو باوقار اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کا ڈاکٹر خان کا عزم آئزن ہاور فیلوشپس کے مشن کی بہترین مثال ہے۔ 2017 میں ایک اور پاکستانی ملک احمد جلال، چیف ایگزیکٹو آفیسر، قرطبہ کیئر انسٹی ٹیوٹ آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ، کو یہ اعزاز مل چکا ہے۔ انہوں نے 2021 میں ادارے کے قیام کے بعد سے 12 سے زائد ایسے تعلیمی پروگرام شروع کیے جو براہ راست روزگار سے منسلک ہیں۔ اب تک 500 سے زیادہ طلبہ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں جبکہ 450 سے زائد طلبہ کو کلینیکل ملازمتیں مل چکی ہیں۔ فارغ التحصیل طلبہ کے ایک سروے کے مطابق 82 فیصد گریجویٹس ملازمت یا خود روزگار سے وابستہ ہیں، جبکہ کئی طلبہ نے تعلیم مکمل ہوتے ہی روزگار حاصل کر لیا۔ طلبہ میں نصف تعداد خواتین کی ہے اور ان میں سے اکثر کا تعلق کم آمدنی والے خاندانوں سے ہے۔
0 Comments