پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ہر شخص اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق جواب دیتا ہے۔ کسی کے نزدیک تعلیم کا بحران سب سے بڑا مسئلہ ہے، کسی کے خیال میں کرپشن تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ کچھ لوگ آبادی میں تیز رفتار اضافے کو اصل خطرہ قرار دیتے ہیں، تو بعض کے نزدیک منشیات کا پھیلاؤ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے۔ کچھ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ انصاف کی سست روی، کمزور اداروں یا سیاسی عدم استحکام اور دہشتگردی کو تمام مشکلات کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ سب مسائل اپنی اپنی جگہ نہایت اہم ہیں اور ان کی سنگینی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو میرا جواب مختلف ہو گا۔ میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور پھر دہرا رہا ہوں کہ میری دانست میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہ تعلیم ہے، نہ کرپشن، نہ مہنگائی، نہ بے روزگاری اور نہ ہی آبادی میں اضافہ۔ ان سب سے پہلے اور ان سب سے بڑھ کر ہمارا اصل مسئلہ کردار سازی کا فقدان ہے۔ ہم نے تعلیم پر تو بہت بات کی، لیکن تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھلا دیا۔
ہم نے ڈگریوں کو کامیابی کا معیار بنا لیا، مگر اچھے انسان بننے کو اہمیت نہ دی۔ ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں امتحانات کی تیاری تو ہوتی ہے، مگر کردار کی تعمیر کا کوئی منظم نظام نظر نہیں آتا۔ بچے ریاضی، سائنس، کمپیوٹر اور انگریزی تو سیکھ لیتے ہیں، لیکن دیانت، سچائی، امانت، احساسِ ذمہ داری، قانون کی پابندی، دوسروں کے حقوق کا احترام اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کی عملی تربیت بہت کم ملتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ اعلیٰ ڈگریوں والے افراد تو پیدا کر رہا ہے، لیکن اعلیٰ کردار والے انسان کم پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس بہترین تعلیم ہو لیکن کردار نہ ہو تو وہ اپنی ذہانت کو بھی غلط مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ وہ بڑے عہدے پر پہنچ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کرے گا، وسائل لوٹے گا، انصاف کا خون کرے گا اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے گا۔ ایسے میں کرپشن صرف ایک مالی جرم نہیں رہتی بلکہ کردار کی خرابی کا اظہار بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کردار مضبوط ہو تو محدود وسائل کے باوجود معاشرے ترقی کرتے ہیں۔
ایماندار افسر، دیانت دار سیاست دان، ذمہ دار تاجر، فرض شناس استاد، انصاف پسند جج اور خدمت گزار ڈاکٹر کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ یہ خوبیاں صرف نصابی کتابوں سے نہیں آتیں بلکہ مسلسل کردار سازی، تربیت اور عملی نمونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں بچوں کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اچھے نمبر لینا ضروری ہیں، لیکن یہ کم بتایا جاتا ہے کہ اچھا انسان بننا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ کامیابی کی تعریف دولت، عہدے اور شہرت تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ کردار، دیانت اور اخلاق کو ثانوی حیثیت مل گئی ہے۔ لہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا چاہیے کہ اگر ہمارے تمام تعلیمی ادارے بہترین ہو جائیں، ہر نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، معیشت بھی بہتر ہو جائے، لیکن اگر کردار کمزور رہے تو کیا کرپشن ختم ہو جائے گی؟ کیا ناانصافی ختم ہو جائے گی؟ کیا جھوٹ، دھوکہ، سفارش، اقربا پروری اور بدعنوانی خود بخود ختم ہو جائیں گے؟ غالباً نہیں۔ کیونکہ یہ سب خرابیاں کردار کی کمزوری سے جنم لیتی ہیں۔ قومیں صرف انفراسٹرکچر، سڑکوں، عمارتوں یا ٹیکنالوجی سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ ان کے شہریوں کے کردار سے مضبوط ہوتی ہیں۔
جہاں امانت داری، دیانت، قانون کی پاسداری اور ذمہ داری کا احساس زندہ ہو، وہاں وسائل کم بھی ہوں تو ترقی کا سفر جاری رہتا ہے۔ لیکن جہاں کردار کمزور ہو، وہاں وسائل کی فراوانی بھی قوم کو آگے نہیں لے جا سکتی۔ اس لیے اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں بدلنا ہے تو ہمیں کردار سازی کو قومی ترجیح بنانا ہو گا۔ گھر سے لے کر اسکول، کالج، یونیورسٹی، مسجد، میڈیا، ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت تک ہر سطح پر یہ احساس پیدا کرنا ہو گا کہ اچھا انسان بنانا صرف والدین یا اساتذہ کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میرے نزدیک پاکستان کے بیشتر مسائل کی جڑ کردار کا بحران ہے۔ جس دن ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی تربیت اور کردار سازی کو بھی برابر کی اہمیت دے دی، اس دن کرپشن، بدعنوانی، ناانصافی اور بہت سی دوسری معاشرتی برائیاں خود بخود کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ شاید یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال پاکستان تعمیر ہو سکتا ہے۔
0 Comments