صالح آصف کی کامیابی پاکستانیوں کے لیے خوشبو کا ایک نیا جھونکا ہے۔ سیانے کہتے ہیں: محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی ایک دن شور مچا دے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہونے والا صالح آصف آج ہیڈ لائنز کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وہی کراچی جہاں سڑکیں آج بھی ٹوٹی ہیں، جہاں گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں اور جہاں شہر پر ہر دم خوف کے سائے چھائے رہتے ہیں۔ لیکن صالح آصف نے کر دکھایا۔ کراچی کے مقامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ریاضی کو جی جان سے پڑھا اور دل میں بسایا۔ کراچی کے نکسر کالج (Nixor College) میں تعلیم حاصل کی اور اے لیول مکمل کیا۔ اس دوران ریاضی سے شغف اتنا بڑھا کہ ریاضی کے عالمی مقابلے (International Mathematical Olympiad) کے لیے تیاری شروع کی۔ 2016ء سے لے کر 2018ء تک مسلسل تین سال تک اس عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اس دوران کانسی کا تمغہ جیتنے سمیت کئی کامیابیاں اپنے نام کیں۔ ریاضی کے ایک اور عالمی مقابلے (Internationl Kangaroo Mathematics Contest) میں حصہ لیا اور پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح (Asian Pacefic Mathematical Olympiad) میں بھی حصہ لیا۔ ریاضی پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس نے پڑھانا بھی شروع کر دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد ان کی منزل امریکا کی مشہور زمانہ یونیورسٹی ایم آئی ٹی تھی۔ انہوں نے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے SAT کا ٹیسٹ دیا اور پھر ایم آئی ٹی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
امریکا امکانات کی سرزمین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اپنی سیاسی پالیسیوں کے بل بوتے پر دنیا بھر سے نفرتیں سمیٹتا ہے مگر امریکا کا تعلیمی نظام اتنا مضبوط ہے کہ پوری دنیا اسی کی طرف دیکھتی ہے۔ وہاں بزنس کمیونٹی کو درکار انفرااسٹرکچر اتنا بہتر ہے کہ دنیا کے تمام ارب پتی یہیں آنا چاہتے ہیں۔ صالح آصف جب ایم آئی ٹی آیا تو اسے یہاں نہ صرف علم و آگہی کی ایک نئی دنیا شناسائی حاصل ہوئی بلکہ ایسے دوست میسر آئے جو تحقیق و جستجو کے سفر میں اس کے ہم سفر بن گئے۔ اسے ایم آئی ٹی کے مختلف پراجیکٹس میں تحقیق کرنے کا موقع ملا، وہ ریسرچ اسسٹنٹ بن گیا اور اپنے اسکلز بہتر کرتا رہا۔ امریکا آکر اس نے مشین لرننگ سیکھی، پھر نمبر تھیوری اور پرفارمنس انجینئرنگ۔ یہ ساری صلاحیتیں ملیں تو اس نے فیصلہ کیا کہ میٹافر (metaphor) کے نام سے ایک سرچ انجن بنائے۔ یہی سوچ آگے بڑھی اور پھر اس نے مصنوعی ذہانت پر مشتمل کرسر (Cursor AI) کی بنیاد رکھ دی۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مشتمل یہ کوڈ ایڈیٹر لاکھوں لوگوں کو بھاگیا۔ کوڈنگ کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کے لیے مشکلات آسان ہو گئیں اور یہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں استعمال کیا جانے لگا۔ ہر سال یہ کمپنی ایک ارب ڈالر سے زیادہ نفع کما رہی ہے۔ اسی کمپنی سے نفع کما کر اب تک صالح آصف 1.3 ارب ڈالر کا مالک بن چکا ہے اور فوربس کے ارب پتیوں میں اپنا نام لکھوا چکا ہے۔
کرسر کمپنی کی کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے اور دنیا بھر کے بڑے بڑے پلیٹ فارمز، اوبر، شاپی فائے، اڈوبے وغیرہ اور ڈیولپرز نے اس کا استعمال شروع کر دیا۔ سرمایہ کاروں نے بھی کرسر کی پذیرائی کو بھانپ لیا اور اپنی سرمایہ کاری کے منہ کھول دیے، گزشتہ سال تک اس کمپنی کی قیمت 30 ارب ڈالر تک لگ چکی تھی۔ لیکن پھر ایلون مسک اور ان کی کمپنی اسپیس ایکس آتی ہے۔ اسپیس ایکس کا ایک ٹویٹ آتا ہے اور پھر دنیا کو پتہ چلتا ہے کہ ایلون مسک کی نظریں اب کرسر پر جمی ہوئی ہیں۔ ایلون مسک نے کرسر کے ساتھ مل کر اے آئی کی دنیا میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور دو ماڈل پیش کیے: یا تو اس سال کے آخر تک ساٹھ ارب ڈالر میں پوری کمپنی خرید لے گا، اگر ڈیل نہ ہوئی تو پھر دس ارب ڈالر دے کر اس کمپنی میں شراکت دار بن جائے گا۔ جو بھی ہو، لیکن پاکستان ایک بار پھر سرخرو ہو رہا ہے۔ پاکستان کا نوجوان دنیا میں اپنی مہارت کا لوہا منوا رہا ہے اور کروڑوں نوجوانوں کو بتا رہا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ صالح آصف نے ثابت کردکھایا کہ علم آج بھی کامیابی کے راستے دکھا رہا ہے، محنت آج بھی ثمر بار ہو رہی ہے اور اسکلز آج بھی دنیا میں پذیرائی پارہے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: جب میں کسی تنومند جوان کو دیکھتا ہوں، جس کی جوانی متاثر کن ہوتی ہے تو میں پوچھتا ہوں: کیا اسے کوئی مہارت بھی آتی ہے؟ اگر لوگ کہتے ہیں کہ نہیں۔ تو یہ سن کر وہ نوجوان میری آنکھوں سے گر جاتا ہے۔ (تاریخ عمربن الخطاب، ابن الجوزی، ص:202) ذرا چشم تصور سے دیکھئے کہ صالح آصف جیسے نوجوان دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیا فرماتے، وہ اٹھتے، اسے اپنے سینے سے لگاتے اور فرماتے: تمہارا قد میری نظر میں کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ تمہارے جیسے جوانوں پرہی اسلام فخر کرتا ہے، جیتے رہو!!!
0 Comments