گزشتہ دنوں ملک بھر میں 76واں یوم آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا گیا لیکن افسوس کہ اس سال مارچ میں افراط زر یعنی مہنگائی کی شرح جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ 46.6 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ آزادی کے بعد سے اب تک یہ اوسطاً 8 فیصد تھی۔ گزشتہ سال پاکستان میں 55 ملین افراد سطح غربت سے نیچے تھے جن میں اس سال 30 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں مہنگائی ناپنے کے دو پیمانے SPI اور CPI ہوتے ہیں۔ SPI میں کھانے پینے کی 51 ضروری اشیا ہوتی ہیں جبکہ CPI میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ فرنیچر، ٹرانسپورٹ، تعلیم، کپڑے اور پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔ جون میں افراط زر SPI ،35 فیصد اور CPI ،30 فیصد کی بلند ترین شرح تک پہنچ چکا تھا جس کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دگنی ہو گئیں۔ جولائی کے مہینے میں آٹے اور چائے کی قیمتوں میں 100 فیصد، چاول، گیہوں، چکن، چینی کی قیمتوں میں 65 سے 75 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ بجلی کی قیمت میں 40 فیصد، پیٹرول کی قیمت میں مزید 17.50 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافے سے ٹرانسپورٹ کرائے، کھاد اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کر دیا۔
ملک میں مہنگائی میں اضافے کی ایک وجہ سیلاب سے زراعت کو پہنچنے والا نقصان ہے جس سے زرعی اجناس اور کپاس کی فصلیں متاثر ہوئیں جنہیں امپورٹ کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے حکومت کو کئی شرائط ماننا پڑیں جن میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ شامل ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر اضافی ٹیکسوں کیلئے منی بجٹ، سرکولر ڈیٹ کی ادائیگی کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ 22 فیصد تک کرنے سے بھی مالی لاگت میں بے حد اضافہ ہوا۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں کمی بھی مہنگائی کی وجوہات بنیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں روپے کی قدر میں ریکارڈ 64 فیصد جبکہ جنوری سے اب تک 24 فیصد کمی ہوئی اور ہماری کرنسی بنگلہ دیش اور افغان کرنسی سے بھی کمزور ہو گئی۔ اس وقت انٹربینک میں ڈالر 295 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 306 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ پاکستانی روپے میں 20 فیصد کمی کر کے اسے جون 2024 ءتک 330 سے 340 روپے کی سطح پر لایا جائے۔ ترسیلات زر، ایکسپورٹ اور غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کے باعث خام مال کی امپورٹ متاثر ہونے سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں تشویشناک حد تک کمی آئی ہے۔
اس سال ملکی لیبر فورس 75 ملین سے کم ہو کر 67 ملین رہ گئی ہے اور 8 ملین افراد بیروزگار ہونے سے بیروزگاری کی شرح 10 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ غربت کم کرنے کیلئے ہمیں چین کا غربت میں کمی کا کامیاب ماڈل اپنانا ہو گا۔ چین نے 2012 میں غربت کے خلاف جنگ شروع کر کے آبادی میں اضافہ، زرعی اصلاحات اور لینڈ ریفارمز کے ذریعے دیہی معیشت کو فروغ دیا جس میں حکومت اور زمینداروں سے زمین لے کر غریب کسان کو دینا قابل ذکر ہے۔ ان اقدامات سے 2020ء میں دیہی علاقوں میں 10 کروڑ لوگ انتہائی غربت کی سطح سے نکل آئے جبکہ اس پروگرام کے تحت ان کی آمدنی، فلاح بہبود، تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتوں اور لوگوں کے معیار زندگی کو بھی بدلا گیا، بچوں کیلئے تعلیم لازمی کی گئی جس سے شرح خواندگی 95 فیصد تک پہنچ گئی۔ چین کے مطابق غربت ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے گلوبل سطح پر نمٹنا ہو گا۔ چین کے غربت کے خاتمے کا ماڈل پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک نمونہ ہے۔ میرے نزدیک چین میں غربت میں کمی اور ترقی کی سب سے بڑی وجہ چین میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
چین کے موجودہ صدرشی جن پنگ گزشتہ 10 سال میں تیسری مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ چین کا ماڈل ایک مضبوط وفاقی حکومت پر مبنی ہے جبکہ پاکستان میں نہ سیاسی استحکام ہے اور نہ ہی وفاق مضبوط ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد زیادہ تر اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے ہیں اور وفاق کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ ترقیاتی کاموں کو عملی جامہ پہنا سکے۔ چین نے زراعت اور مینوفیکچرنگ کو ترجیح دی اور آج چین سستی اور ہنرمند لیبر کی وجہ سے دنیا میں World`s Factory جانا جاتا ہے جس کا کریڈ ٹ چین میں انسانی وسائل کی ترقی، ہنر مند ٹریننگ اور جدید انفرااسٹرکچر کو جاتا ہے۔ قارئین !چین میں غربت میں کمی اور مقامی ترقی کی ایک وجہ ملک میں مقامی تجارت کا فروغ ہے یعنی ایکسپورٹ کے علاوہ چین نے تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کی بڑی مارکیٹ کو بیرونی سرمایہ کاروں اور مقامی بزنس مینوں کیلئے فراہم کیا۔ چین میں قوت خرید بڑھنے سے بے شمار مقامی برانڈز کامیاب ہوئے اور آج مقامی مارکیٹ میں بڑا شیئر رکھتے ہیں ۔ چین نے حکومتی کمپنیوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے اشتراک سے نہایت کامیابی سے چلایا جبکہ پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہونے کے باوجود مقامی تجارت اور وینڈر انڈسٹری (SMEs) کو فروغ نہیں دے سکا۔
غربت میں کمی کیلئے ہمیں نئی ملازمتوں کے مواقع اور بلند گروتھ کی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ حکومت کا افراط زر پر قابو پانے کیلئے موجودہ ماڈل سست گروتھ ہے جو بیروزگاری اور غربت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان کے چین سے برادرانہ تعلقات ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ چین کے تعاون سے ملک میں بیروزگاری اور غربت میں کمی کیلئے چین کے ماڈل پر عمل کرے۔
0 Comments