صدر عارف علوی اپنے سیکریٹری کی جانب سے ترمیم شدہ ایکٹ اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ اپنا موقف جھوٹا قرار دیئے جانے کے بعد مشکل کا شکار ہیں کیونکہ سیکرٹری نے کہا ہے کہ اس کے پاس اپنی معصومیت ثابت کرنے کے تمام ثبوت ہیں صدر علوی کی جانب سے دو بل ان تک نہ پہنچانے کی وجہ سے وقار احمد کو ہٹانے کے لیے لکھے جانے والے خط کے بعد ایک خفیہ خط میں سیکریٹری وقار احمد نے صدر مملکت کے لیے پشیمانی کا سامان کر دیا ہے۔ جہاں علوی نے کہا ہے کہ انہوں نے سیکرٹری سے کہا تھا کہ وہ بل واپس کرے، وقار نے نہ صرف صدر کے بیان کو مسترد کیا بلکہ اصرار کیا کہ بل ابھی بھی صدر کے دفتر میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے نہ تو بل کو منظور کیا اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ کے پاس دوبارہ غور کے لیے بھیجنے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری نے کہا کہ وہ انکوائری کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں کسی بھی ایجنسی یا اعلیٰ عدالت کے سامنے پیش ہو کر دستاویزی شواہد کی روشنی میں اپنا موقف ثابت کرنے کےلیے تیار ہیں۔
دونوں میں سے کوئی ایک تو جھوٹ بول رہا ہے اگر یہ صدر ہیں تو ان کے عہدے پر برقرار رہنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ ان پر استعفے کےلیے عوامی دبائو بڑھے گا۔ اگر یہ سیکرٹری ہے تو اسے انظباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں اسے سروس سے نکالا جاسکتا ہے۔ اتوار کو صدر نے ایک ٹوئیٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ اللّٰہ میرا گواہ ہے میں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں نے ان قوانین سے اختلاف کیا تھا۔ میں نے اپنے اسٹاف سے کہا تھا کہ ان بلوں کو وقت کے اندر غیر دستخط شدہ لوٹائیں تاکہ یہ گیر موثر ہو جائیں۔ میں نے ان سے کئی مرتبہ اس کی تصدیق بھی کی کہ آیا یہ واپس کر دیا گیا یا نہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ یہ واپس کر دیا گیا ہے۔ تاہم مجھے اب پتہ چلا ہے کہ میرے اسٹاف نے میری خواہش اور میرے حکم کو رد کیا۔
اللّٰہ سب جانتا ہے وہ انشااللّٰہ معاف کرے گا لیکن میں ان سب سے معافی مانگتا ہوں جو ان سے متاثر ہوں گے۔ صدر کے مندرجہ بالا بیان نے سنگین آئینی اور سیاسی تنازع پیدا کر دیا۔ ایک دن قبل انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’ گزشتہ روز کے متعین بیان سے صدر کے سیکرٹریٹ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو ایک خط لکھا ہے کہ وقار احمد سے صدر کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات واپس لی جائیں ان کی خدمات کی ضرورت نہیں اور انہیں فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن واپس بلایا جائے۔ بعد میں شام کو وقار احمد نے ایک خفیہ خط صدر کو تحریر کیا جو منظر عام پر آگیا جس میں سیکرٹری نے نہ صرف وقت اور ٹائم کے ساتھ ان بلوں کی تفصیلات دیں کہ یہ کب ایوان صدر میں پہنچے اور کب صدر کو پیش کیے گئے۔ انہوں نے صدر کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ بل کی نہ تو صدر نے منظوری دی نہ اس حوالے سے انہوں نے کوئی تحریری ہدایت دی کہ اسے پارلیمنٹ کو دوبارہ غور کے لیے بھجوایا جائے۔ مزید اہم یہ ہے کہ سیکرٹری کا کہنا تھا کہ یہ فائلیں ابھی بھی ایوان صدر کے دفتر مین موجود ہیں۔
اس نے صدر سے درخواست کی کہ وہ کسی ایجنسی سے انکوائری کرائیں یا تفتیش کرائیں اور ذمہ داری کا تعین کریں۔ اس نے مزید کہا کہ وہ سپریم کورٹ یا کسی بھی دوسری عدالت میں وضاحت کے لیے پیش ہونے کو تیار ہے۔ وہ وہاں ریکارڈ پیش کرے گا کہ وہ خطا کار نہیں ہے۔ ماضی میں ہر کسی میں جہاں ڈاکٹر علوی نے بل واپس کیے انہوں نے اپنے دستخط کے ساتھ اسے واپس کیا۔ اس امر کی کوئی وضاحت نہیں کہ اس کیس میں بل جو آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق تھے ان پر ان کے دستخط کیوں نہیں تھے۔
0 Comments