All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

عمران خان حاضر ہوں

کراچی میں اس روز شہید ملت روڈ سے کشمیر روڈ تک تمام راستے سیل کر دیئے گئے تھے تمام اخبار نویسوں کو اسپورٹس کمپلیکس میں جانے کی اجازت نہیں تھی پھر بھی بی بی سی سے وابستہ اقبال جعفری مرحوم نے کوئی ’ٹاکرہ‘ لگایا اور صبح سویرے ہی اندر پہنچ گئے۔ وہاں ایک ’فوجی عدالت‘ میں سابق وزیراعظم محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کو بطور گواہ لے کر آنا تھا جہاں کمیونسٹ لیڈر جام ساقی اور ان کے ساتھیوں پر ’بغاوت‘ کا مقدمہ چل رہا تھا۔ شاید ہی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی مقدمہ میں اتنے سیاسی رہنما بطور گواہ پیش ہوئے ہوں خان عبدالولی خان سے لے کر غوث بخش بزنجو تک۔ ’خبر‘ کی اصل اہمیت نظر بندی کے بعد پہلی بار بےنظیر بھٹو کا کسی عدالت میں پیش ہونا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو چکی تھی، میں نیا نیا اس شعبہ میں آیا تھا اور اس مقدمہ کو پہلے روز سے کور کر رہا تھا، مگر دوبار فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کو دیکھ چکا تھا۔ ایک بار خود گواہ کے طور پر بلایا گیا، پی پی پی کے سیاسی کارکن ایاز سموں کے کیس میں کیونکہ اس کی گرفتاری کی تاریخ پر اور میری دی ہوئی خبر میں فرق تھا۔ 

مگر وہ کورٹ کراچی سینٹرل جیل کے پہلے فلور پر تھی جبکہ یہ عدالت اس کمپلیکس میں تھی جس کو ڈپٹی مارشل لا کے ہیڈ کوارٹر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بہرحال سخت ترین سیکورٹی میں ان کو پیش کیا گیا اور بی بی سی ریڈیو سے ان کے اور عدالت کے درمیان مختصر مکالمہ سنایا گیا۔ جعفری صاحب بھی کمال کے صحافی تھے ’خبر‘ کیا ہوتی ہے اور کیسے نکالی جاتی ہے، نئے آنے والے اور بہت سے ’سینئر صحافیوں‘ کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ بےنظیر نے طویل بیان ریکارڈ کرایا اور جام ساقی اور دیگر کامریڈ کا دفاع کیا ’بغاوت‘ کے مقدمہ کو مسترد کیا اور مارشل لا کو ملک کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔ انہیں خود کئی بار سویلین کورٹ اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا کراچی اور سکھر جیل کا بھی تجربہ رہا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف پر 12 اکتوبر 1999 کو سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے جہاز کے اغوا کا مقدمہ کراچی ہی کی ایک خصوصی عدالت میں چلایا گیا ملزمان کو ، جن میں شہباز شریف، سعید مہدی (پرنسپل سیکرٹری) اور کئی دیگر رہنما شامل تھے، APC میں لانڈھی جیل سے لایا جاتا۔

جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری جج تھے۔ راقم نے یہ مقدمہ بھی تفصیل سے کور کیا۔ اس سے پہلے 1998 میں کراچی میں گورنر راج لگا تو فوجی عدالتیں بھی قائم ہوئیں اور گو کہ کچھ ماہ بعد سپریم کورٹ نے گورنر راج کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا، عدالتیں بھی ختم کر دی گئیں مگر اس دوران غالباً دو ڈکیتی کے ملزمان کو سزائے موت ہو گئی جس میں ایک بنگالی کا مقدمہ انتہائی متنازع تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ صحافیوں کو سماعت دیکھنے کی اجازت تھی۔ ہمیں صبح سویرے ملیر کینٹ جانا پڑتا تھا۔ کمرہ انتہائی مختصر سا تھا جس میں بمشکل 10 سے 12 لوگ آ سکتے تھے لہٰذا جو پہلے پہنچ گیا اس کو جگہ مل گئی۔ ویسے تو ہماری تاریخ میں راولپنڈی سازش کیس سے اگرتلہ سازش، حیدرآباد ٹرائل میں نیشنل عوامی پارٹی کیس تک، فیض احمد فیض سے لے کر مولانا مودودی اور شیخ مجیب الرحمان سے ذوالفقار علی بھٹو تک کسی کو اسپیشل کورٹ تو کسی کو ملٹری کورٹ اور کسی کو نام نہاد سویلین عدالتوں سے سزائے موت تک سنائی گئی اور بھٹو کا تو ’جوڈیشل مرڈر‘ تک ہوا مگر اس بار شاید کچھ مختلف ہونے جا رہا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم شاید جمہوریت کو مزید کمزور یا شاید مفلوج کر دیں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ اگر جمہوری سیٹ اپ میں ایک معزول وزیراعظم کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کرنے کے حق میں فیصلہ کر دے تو مستقبل میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی طرح ایک نظیر قائم ہو جائے گی۔ ابھی تو خود آرمی ایکٹ نافذ کرنے والوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ 9 مئی کے قابل ِمذمت واقعات کی سازش اور بغاوت کا مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قائم کیا جائے یا نہیں اور ہو تو کس عدالت میں چلایا جائے مگر قومی اسمبلی نے اس کی اجازت دے دی ہے۔ اگر خان صاحب پر مقدمہ ’ملٹری کورٹ‘ میں چلتا ہے تو یہ ہماری سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ کسی سابق وزیراعظم کو ’ملٹری کورٹ‘ کا سامنا بطور ملزم کرنا پڑے وہ بھی ’بغاوت اور سازش‘ میں جس کی سزا عمر قید یا موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت تک 9 مئی کے واقعات میں لاہور میں واقع کور کمانڈر ہائوس یا جناح ہائوس، GHQ راولپنڈی، ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے اور شہدا کے مجسموں کی بے حرمتی پر 70 سے زائد افراد کا کیسز سویلین عدالتوں سے ملٹری کورٹس منتقل ہو چکے ہیں، جن میں بہرحال تحریک انصاف کا کوئی مرکزی لیڈر شامل نہیں مگر پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور سرکردہ کارکنوں کے ساتھ اس وقت وہی ہو رہا ہے جو 22 اگست 2016 کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ ہوا۔ 

وہ دن ہے اور آج کا دن ایک ’تلوار‘ہے جو لٹکا دی گئی ہے۔ ہم شاید آگے بڑھنے کو تیار ہی نہیں۔ اس شہر قائد کی سیاست تو برسہا برس سے ’فارم ہائوس‘ یا مخصوص بنگلوں سے کی جا رہی ہے کبھی کوئی ملزم بن کر حاضر ہوتا ہے تو کبھی گواہ ،’معافی‘ ہو گئی تو آپ مشیر بھی بن سکتے ہیں اور وزیر بھی۔ یہاں تو وزیر اعلیٰ بغیر اکثریت بنے ہیں ہم ایک میئر کے الیکشن کا رونا رو رہے ہیں۔ مجھے تو ان 30 یوسی چیئرمین کی فکر ہے کیونکہ ابھی ’عشق کہ امتحاں اور بھی ہیں۔‘‘ اس پس منظر میں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ خود ان سیاست دانوں، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور سول سوسائٹی کو دعوت فکر دیتا ہے کہ کیا اس ملک میں کبھی جمہوری کلچر فروغ پا بھی سکے گا جہاں کالعدم تنظیموں کو، انتہا پسندوں کو اسپیس دی جا رہی ہے، بات چیت ہو رہی ہے اور یہ عمل خود ہمارے سابق وزیر اعظم نے شروع کیا۔ 

وہ بھی اپنے مخالف سیاست دانوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے علی وزیر، ادریس بٹ اور نہ جانے کتنے سیاسی لوگوں کی غیر قانونی حراست کا دفاع کرتے تھے آج خود ان کی پارٹی کے لوگوں پر مشکل وقت ہے وہ خود سو سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے حکمران بھی اسی ڈگر پر ہیں۔ اگر جمہوریت میں بھی اظہار رائے پر پابندی ہو، سیاسی کارکن اور صحافی غائب ہوں۔ کسی جماعت یا لیڈر پر غیر علانیہ پابندی ہو، الیکشن میں بھی مثبت نتائج کا انتظار ہو، ورنہ انتخابات ملتوی کرنے کی باتیں ہورہی ہوں۔ اب اگر اس میں ملٹری کورٹس کا بھی اضافہ ہو جائے اور وہ بھی سابق وزیراعظم پر جس کو ’جمہوری پارلیمنٹ‘ کی بھی حمایت حاصل ہو تو پھر کون سا بہترین انتقام اور کون سا بہترین نظام۔

مظہر عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments