عمران خان مشکل میں ہیں اور سیاسی پنڈتوں کے بقول وہ کئی معاملات میں ریڈ لائن کراس کر چکے ہیں۔ کئی سیاسی اور صحافتی دانشور وں کے بقول ان پر کراس لگ چکا ہے اور فوری طور پر ان کی اقتدار میں واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ موجودہ حالات میں عمران خان تنہا نظر آتے ہیں جب کہ ان سیاسی مخالفین متحد ہیں۔ عمران خان کی مزاحمتی سیاست محض اپنے سیاسی مخالفین تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی چیلنج کر چکے ہیں۔ ٹکراؤ کی سیاست نے ان کو کئی محاذوں پر الجھا دیا ہے۔ ان کے بقول وہ تن تنہا ہی ان سب کا مقابلہ کر سکتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ بیک وقت کئی محاذوں پر ان کی لڑائی نے ان کو واقعی مشکل میں ڈال دیا ہے بلکہ ان کے گرد سیاسی ، انتظامی اور قانونی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان قومی سیاست میں اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں پاپولر راہنما ہیں۔ ایسے میں ایک مقبول سیاسی راہنما کی سیاسی ذمے داری بھی ہمیں باقی تمام سیاسی قیادت کے مقابلے میں زیادہ نظر آنی چاہیے۔ کیونکہ ملک کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں عمران خان سے عوامی توقعات زیادہ ہیں۔ لیکن اگر مجموعی طو رپر عمران خان کی سیاست کو دیکھیں تو اس میں ہمیں مہم جوئی، ٹکراؤ، محاذآرائی یا مزاحمت کا پہلو زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
ممکن ہے کہ عمران خان کئی معاملات میں اپنے موقف میں درست ہوں مگر ان مسائل سے نمٹنے کی جو پالیسی ہے، انھوں نے اختیار کر رکھی ہے، وہی ان کے لیے بڑا چیلنج بھی بن گیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے رد عمل میں جو کچھ 9 مئی کو ہوا، وہ واقعی قابل مذمت ہے اور اس کی ذمے داری پی ٹی آئی کی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ موقف کہ جلاؤ گھیراؤ میں پی ٹی آئی کے نام پر شرپسند تھے، ممکن ہے درست ہو مگر ان شرپسندوں کو روکنا، کنٹرول کرنا اور ان کی نگرانی کرنا بھی پی ٹی آئی قیادت ہی کی ذمے داری بنتی تھی۔ بنیادی طور پر سیاسی لڑائی سیاسی انداز میں ہی ہونی چاہیے، یہ لڑائی نہ صرف پرامن ہو بلکہ آئینی اور قانونی دائرہ کار تک ہی محدود رہنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کے جو بھی رہنما اپنے کارکنوں اور حامیوں کو فوجی تنصیبات، دفاتر سمیت گھروں تک لے گئے، ان سے سنگین غلطی ہوئی ہے، انھیں اور پی ٹی آئی کو اس کا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ پی ٹی آئی کی پہلے سے جاری جدوجہد میں 9 مئی کے واقعہ نے ان کو عملا دفاعی پوزیشن پر لاکر کھڑا کیا ہے، انھیں سخت تنقید اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔
یہ جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے اس میں حکومتی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔ اول حکومت ان کی بھی خواہش تھی کہ عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ جاری رہے۔ دوئم عمران خان کو سیاسی اور قانونی محاذ پر اس حد تک پریشان کر دیا جائے کہ وہ ان معاملات سے باہر ہی نہ نکل سکیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کو کئی محاذوں پر نہ صرف سخت مزاحمت کا سامنا ہے بلکہ ان کے خلاف 150 سے زیادہ مقدمات بنانا، دہشت گردی کے مقدمات جیسے معاملات حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ان کے معاملات میں بہتری آنے کے بجائے کافی بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ عمران خان اس بد اعتمادی کو ختم نہیں کر سکے بلکہ معاملات کو عوامی جلسوں میں لے آئے، یہ حکمت عملی تباہ کن ثابت ہوئی۔ سوئم ان کے مخالفین ان کو سیاسی طور پر نااہل کرنا یا ان کی جماعت پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی مزاحمتی سیاست کا براہ راست فائدہ پی ڈی ایم کو ہو رہا ہے اور یہ جماعتیں اسٹیبلیشمنٹ کے قریب اور عمران خان کافی فاصلے پر نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی سے عمران خان نے اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ جو ٹکراو کی سیاست کو اختیار کیا ہوا ہے اس سے ان کی مقبولیت تو بڑھی ہو گی مگر عملا سیاسی طاقت کے مراکز میں ان کو فی الحال مزاحمت کا سامنا ہے اور اس مزاحمت نے اب بالخصوص 9 مئی کے واقعات کے بعد ان کی اپنی جماعت میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سیاسی توڑ پھوڑ کی ہے بلکہ پارٹی کے لوگ ہی پارٹی سے خود کو علیحدہ کر رہے ہیں۔
پارٹی کی مجموعی قیادت جیلوں میں ہے اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات بھی درج ہیں اور بیسیوں کارکن جیلوں میں موجود ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی عمران خان کی سیاسی مہم جوئی پر پارٹی میں ایک متبادل نقطہ نظر بھی موجود ہے کہ ہماری سیاسی حکمت عملی اور عمران خان کا سخت گیر پالیسی پر سختی سے قائم رہنے کی پالیسی بھی درست نہیں ہے۔ اصولی طور پر عمران خان کی سیاسی حکمت میں جو ان کو مسائل درپیش تھے یا ہیں اس میں بات چیت، مذاکرات یا ان کے ساتھ جڑ کر موجود جو بھی اختلافات یا متبادل سوچ ہے اس کا ازالہ کیا جانا چاہیے تھا۔ ویسے بھی سیاسی لڑائی میں جب آپ ایک ہی وقت میں تمام محاذوں پر ٹکراو کی سیاست کریں گے تو آپ کے لیے آسانیاں کم اور مشکلات زیادہ ہوں گی۔ عمران خان کے سامنے ایک طرف بڑی سیاسی جنگ ہے اور اسی جنگ نے ان کے تمام سیاسی مخالفین کو یکجا کیا ہوا ہے جو خود عمران خان کی برتری کو نمایاں کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ان کو قانونی محاذ پر اور انتظامی سطح پر اپنے سیاسی اور غیر سیاسی حریفوں سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
وہ اپنی سیاسی طاقت کو محض ٹکراو کی سیاست کی نذر نہ کریں اور نہ ہی اپنی جماعت یا کارکنوں کو اس حد تک جذباتیت کی سیاست میں الجھا دیں کہ ا ن میں ٹھراو کی سیاست قائم نہ ہو سکے۔ عمران خان کی جو بڑی طاقت نئی نسل ہے اس کو جذباتیت یا جنوں کی سیاست کے ساتھ ساتھ مثبت طور پر ملک و قوم کی تعمیر میں بھی استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی سیاست لمبے عرصہ تک اپنی ساکھ کو قائم رکھ سکے۔ یہ بات اصولی طو رپر ٹھیک ہے کہ آپ اپنی بات منوانے کے لیے مزاحمت کا کارڈ کھیلتے ہیں اور آپ کی مضبوط مزاحمت ہی آپ کے لیے باقی فریقوں پر دباؤ کی سیاست کے نتیجے میں نئے سیاسی امکانات پیدا کرتی ہے۔ لیکن اس میں جو مزاحمتی پہلو ہے اول وہ سیاسی ، آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر ہی لڑنی ہے اور دوسرا سیاسی لڑائی میں اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ میں توازن قائم کیا جانا چاہیے۔ سیاسی ترجیحات کا تعین کیا جانا چاہیے کہ حکمت عملی کی ترجیحات اور اس کی درجہ بندی کیا ہو اور کیسے حکمت کے ساتھ ان معاملات کو سیاسی اور قانونی محاذ پر نمٹا جائے۔
وہ اپنی سیاسی طاقت اور مقبولیت کو مستقل بنیادوں پر قائم کریں اور اپنے ایجنڈے کو ایک بڑے سیاسی، انتظامی ، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی عمل کے ساتھ جوڑ کر وہ کچھ کرنے کی کوشش کریں جو ان کے سیاسی مخالفین نہیں کر رہے۔ اس وقت تحریک انصاف پر جو مشکل وقت ہے وہ بھی گزر جائے گا لیکن اس مشکل وقت میں عمران خان کا دھیمے انداز میں آگے بڑھنا ہی ان کے لیے سود مند ہو سکتا ہے۔ کوئی عمران خان کو یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اپنی مزاحمتی سیاست سے دست بردار ہو جائیں بلکہ اصولی بات یہ ہے کہ اسی مزاحمتی سیاست میں ان کو سوچ سمجھ کر تدبر، فہم وفراست، عقل و دانش کی مدد سے آگے بڑھنا چاہیے۔ سیاسی اننگز اسی صورت میں کھیلی جاتی ہے جب آپ ایک لمبی سیاسی اننگز کے لیے میدان میں رہتے ہیں۔ کیونکہ سیاسی وکٹ پر کھڑا رہنا ہی سیاسی طاقت کو برقرار رکھتا ہے۔
0 Comments