All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

ملکی معیشت کا سنگین منظر نامہ

75 سال میں موجودہ مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور افراط زر یعنی مہنگائی (CPI)، 48 فیصد اور SPI ،45 فیصد کی بلند ترین شرح تک پہنچ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مالیاتی پالیسی کا مقصد افراط زر کو کنٹرول کر کے گروتھ میں اضافہ کرنا ہوتا ہے جس کیلئے وہ اپنے ڈسکائونٹ ریٹ میں اضافہ کر کے طلب میں کمی لاتا ہے تاکہ ڈیمانڈ میں کمی سے افراط زر یعنی مہنگائی کم ہو لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں اضافے سے نہ تو افراط زر یعنی مہنگائی میں کمی آئی ہے بلکہ وہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور نہ ہی جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ وہ منفی سطح پر آگئی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ 21 فیصد سے مزید بڑھانے سے بینکوں کے قرضوں کی شرح سود 23 سے 24 فیصد ہو گئی ہے اور مالی لاگت بڑھنے سے سود کی ادائیگیاں ناقابل برداشت ہو گئی ہیں جس کے باعث بینکوں کی ادائیگیوں میں ڈیفالٹ ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں، نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے، اسٹیٹ بینک کی تقریباً صفر شرح سود پر 5 ارب ڈالر کی امپورٹ کی گئی مشینیں صنعتوں میں لگنے کے بجائے گوداموں میں پڑی ہیں کیونکہ ان مشینوں کو چلانے کیلئے بجلی اور گیس دستیاب نہیں اور بینکوں سے 24 فیصد شرح سود پر اضافی ورکنگ کیپٹل کیلئے قرضے لینا ممکن نہیں رہا کیونکہ موجودہ معاشی حالات میں اس کی ادائیگی ممکن نہیں، 

آج ہم ایک ایک ڈالر کیلئے ترس رہے ہیں اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے 5 ارب ڈالر تقریباً صفر شرح سود پر ان مشینوں کی امپورٹ پر ادا کئے گئے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی جو غلط پالیسی اور منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے اور ثابت کرتا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے مہنگائی میں کمی اور جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ حاصل نہیں کیا جاسکتا یعنی بیماری کے علاج کیلئے جو دوا استعمال کی جارہی ہے، وہ مرض پر قابو پانے کے بجائے مہلک اثرات پیدا کر رہی ہے جس سے بیماری مزید بڑھ رہی ہے۔ اشیاء کی طلب میں اضافے کی وجہ پاکستان کی بڑی غیر دستاویزی معیشت اور ہنڈی سے آنے والی ترسیلات زر اور منی چینجرز ہیں۔ اس وقت ملک میں 8.5 کھرب روپے کی کرنسی سرکولیشن میں ہے جو جی ڈی پی کا 12.5 فیصد بنتا ہے جس میں ایک بڑا حصہ غیر دستاویزی معیشت یعنی کیش لین دین کا ہے جن سے اشیاء کی طلب اور افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئےGST، PDL، ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگانے اور امپورٹ کی حوصلہ شکنی کیلئے LCs پر پابندیاں ہیں جس سے سپلائی چین اور ملکی ایکسپورٹس بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ 

کھانے پینے کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی روکنے اور پرائس کنٹرول میں انتظامیہ کی ناکامی سے بھی دکاندار عوام سے منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ اِن حقائق کے پیش نظر میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ افراط زر یعنی مہنگائی اسٹیٹ بینک کے شرح سود بڑھانے سے کم نہیں ہو گی بلکہ بینکوں کے 24 فیصد ناقابل برداشت شرح سود سے صنعتیں بند ہونے سے بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بینک نجی شعبے کو قرضے دینے کے بجائے حکومتی ٹریژری بلز میں 20 فیصد پر سرمایہ کاری کر کے ریکارڈ منافع کمارہے ہیں جس سے نجی شعبے کے قرضوں میں بہت کمی آئی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے پیش حکومت نے غیر ملکی ایئر لائنز کی 290 ملین ڈالر اور ڈیوڈنڈ کی ادائیگیوں کو روک رکھا ہے جس سے بیرونی سرمایہ کاروں کو منفی پیغام مل رہا ہے۔ ہمیں ایکسپورٹس، ترسیلات زر اور بیرونی سرمایہ کاری کے تینوں ذرائع سے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرنا چاہئے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کیلئے ہمیں اسمگلنگ روک کر اپنے علاقائی ممالک جس میں ایران اور افغانستان سرفہرست ہیں، سے بارٹر ٹریڈ یعنی اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کو فروغ دینا ہو گا تاکہ ڈالر اور دیگر کرنسیوں سے ادائیگی میں کمی لائی جاسکے۔

پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر انرجی سیکٹر میں اصلاحات کرنا ہونگی جس میں آئی پی پیز کی ناقابل برداشت ادائیگیاں سرفہرست ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ جن آئی پی پیز سے معاہدے پورے ہو چکے ہیں، ان کے معاہدوں کی تجدید کے موقع پر کیپسٹی چارجز، منافع کی شرح اور ڈالر میں ادائیگیوں میں تبدیلیاں کرے، آج ہم 2500 ارب روپے پاور سیکٹر اور 1500 ارب روپے گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور پاکستان کا انرجی سیکٹر خطرناک معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں اسٹیل ملز، پی آئی اے، ریلوے اور واپڈا کی فوری نجکاری ناگزیر ہے۔ موجودہ نازک معاشی صورتحال میں بھی حکومت کو ان اداروں کو چلانے کیلئے تقریباً 500 ارب روپے سالانہ ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف معاہدہ کیلئے حکومت کی کراس فیول سبسڈی اسکیم سے دستبرداری خوش آئند ہے لیکن آئندہ بجٹ کو آئی ایم ایف معاہدے سے مشروط کرنا سوالیہ نشان ہے اور میرے نزدیک معاہدے کی بحالی کیلئے اب سفارتی مدد بھی درکار ہے۔ ملکی معاشی بحران کا ایک بڑا سبب موجودہ سیاسی عدم استحکام ہے، تمام سیاسی جماعتیں جو الیکشن کی تاریخ کیلئے مذاکرات کر رہی ہیں، میثاق معیشت یا کم از کم ایک ’’ایمرجنسی معاشی پلان‘‘ کیلئے بھی مل بیٹھیں کیونکہ ہمارے پاس اب مزید وقت نہیں ہے۔

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ

بشکریہ روزنامہ جنگ


Post a Comment

0 Comments