ذرا تصور کریں کہ ایک شخص دن بھر محنت مزدوری کرنے کی بجائے آٹے کے حصول کے لئے طویل قطار میں لگا رہے، اہلکاروں کی ڈانٹ اور لاٹھی چارج بھی سہتا رہے، لیکن باری آنے پر اسے کہا جائے کہ آٹا ختم ہو گیا تو اس کے دل پر کیا گزری ہو گی؟ وہ کس طرح اپنے بچوں سے منہ چھپا کر گھر میں داخل ہوا ہو گا؟ اس نے کس طرح اپنے معصوم بچوں کے سوالات کا سامنا کیا ہو گا؟ ذرا سوچئے تو سہی ایک بزرگ اپنے گھر والوں کو یہ امید دلا کر نکلتا ہے کہ وہ آج ان کے لیے آٹا لے کر آئے گا لیکن شام کو آٹے کے بجائے اس بزرگ کی لاش گھر آئے۔ کراچی کی فیکٹری تصور کریں جہاں سینکڑوں لوگ مفت راشن کے حصول کیلئے جمع ہوئے لیکن وہاں آٹے کی بوریوں کے بجائے لوگوں کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آئیں، ہر دن افسوسناک اور شرمناک کہانیاں لئے طلوع ہوتا ہے اور وحشت ناک حقائق لیے غروب ہوتا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں راشن کے نام پر قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔ اپریل 2023 ء میں پاکستان کے مختلف شہروں میں مفت اشیا ء لینے کے لئے بھگدڑ مچنے سے 15 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہو چکے ہیں۔ کراچی میں زکوٰۃ کی تقسیم کے دوران 3 بچوں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہو گئے۔ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں رمضان المبارک کے پہلے دن مفت آٹا لینے کیلئے جمع ہونے والے لوگوں میں بھگدڑ مچنے سے ایک شخص جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔
میرپورخاص میں ایک جاں بحق، سکرنڈ ٹاؤن، شہید بینظیر آباد میں ایک کمسن بچی سمیت تین خواتین زخمی ہو گئیں۔ وہاڑی اور مظفر گڑھ میں مفت آٹا نہ ملنے سے ایک معمر شخص جاں بحق اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ جو واقعات رپورٹ نہیں ہو سکے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ مفت آٹے کے نام پر انسانیت کی تذلیل کی جارہی ہے۔اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے مقامی انتظامیہ تک نااہلی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ جو حکومت دس کلو آٹا ڈھنگ سے نہ دے سکے وہ ملک خاک چلائے گی؟ کیا انسانی جان اتنی ارزاں ہو گئی ہے کہ دس کلو آٹے کی خاطر اسے قربان کر دیا جائے؟ اپنی تقریروں کے دوران مائیک گرا کر، بازو لہرا لہرا کر خلافت راشدہ کی مثالیں دینے والے ہمارے وزیراعظم کو کوئی جا کر بتلائے کہ اسلامی ریاست میں دریائے فرات کے کنارے کتا بھی مر جاتا تو اس کا ذمہ دار حکمراں ٹھہرتا تھا یہاں تو ان گنت لاشیں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ ہے کوئی ان کی خبر لینے والا؟ ہے کوئی ان کے لواحقین کے آنسو پونچھنے والا؟ پہلے زمانوں میں بے حس لوگوں کے خون سفید ہوتے تھے لیکن آج نااہل حکمرانوں کے سائے تلے، سفید آٹے کے حصول کی خاطر میری دھرتی، معصوم شہریوں کے خون سے رنگین ہو چکی ہے۔رجیم چینج آپریشن کے بعد اس ملک پر بدبختی کے سائے کچھ ایسے پھیلے ہیں کہ یہاں کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہو رہا۔
بیرون ملک امداد مانگنے جاتے ہیں تو ٹکا سا جواب ملتا ہے، دوست ممالک کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں، نااہلی کا یہ عالم کہ مہنگائی کا جن، بوتل سے باہر ہے اور بند ہونے کا نام نہیں لے رہا، بدانتظامی کی یہ کیفیت کہ راشن کے حصول میں لوگ اپنی جان دے رہے ہیں، اور ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ آج بھی اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے ملک کے تمام موقر اداروں کی توقیر خاک میں ملائی جارہی ہے۔ پورا ملک اس وقت راشن کے مصنوعی بحران کا شکار ہے۔حکومت کی جانب سے تو دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس مرتبہ گندم کے ذخائر اطمینان بخش ہیں۔ 220 روپے فی من گندم خریدی گئی، حکومت کی اسٹاک کی ہوئی گندم کون سے ’’چوہے‘‘کھا گئے، ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سال میں 30 ارب روپے کی گندم سندھ کے سرکاری گوداموں سے غائب ہوچکی ہے۔ اور وہاں کی حکمراں جماعت جمہوریت کی چیمپئن ہونے کی دعوے دار ہے۔ حکمرانوں کی ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ ضروری ادویات، طبی سامان اور خوردنی تیل سمیت صحت، اشیائے خورونوش سے بھرے ہوئے سینکڑوں کنٹینر کراچی پورٹ پر کھڑے ہیں لیکن انہیں کلیئر نہیں کیا جا رہا۔
مگر ایک مخصوص تعداد میں لگژری گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت دے دی گئی ہے، بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، سنگین معاشی حالات اور بے روزگاری کے باعث ایک طرف خودکشیوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے تو دوسری طرف چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ چکی ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اس وقت ملک ایک ہمہ جہت بحران کا شکار ہے۔ سیاسی حکومت کمزور اور انتظامیہ کمزور تر ہے۔ حکمرانوں کی انا کے بت بہت مضبوط ہیں۔ ضد اور ہٹ دھرمی، پاگل پن کی حد تک بڑھ چکی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت اور پنجاب کی نگران حکومت کی ساری توجہ عمران خان پر مختلف مقدمات قائم کرنے میں صرف ہو رہی ہے۔ حکمران طبقہ یہ نہ بھولے کہ ملک میں الیکشن جلد ہوں یا دیر سے، سپریم کورٹ آف پاکستان میں بنچ بنتے رہیں یا ٹوٹتے رہیں، تحریک انصاف کے چیئرمین پر مقدمات کی ڈبل سنچری بن جائے،عمران خان کے ساتھیوں پر ملک کے چاروں صوبے میں مقدمات درج کر لئے جائیں، لیکن موجودہ حکمرانوں کو دس کلو آٹے کی خاطر جانیں قربان کرنے والے لوگوں کے خون ناحق کا حساب دینا ہو گا۔ بروز حشر ان غریب لوگوں کے ہاتھ ہوں گے اور موجودہ حکمرانوں کا گریبان ہو گا۔ وہ پوچھیں گے ہمیں کس جرم میں مار دیا گیا؟ تو حکمرانوں کے پاس کیا جواب ہو گا؟
0 Comments