All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

سوری مفتاح اسماعیل

یادش بخیر کچھ ماہ قبل جب جناب مفتاح اسماعیل پاکستان کے وزیر خزانہ تھے، تب مجھ سمیت ہر پاکستانی ایک امید کے ساتھ لندن کی طرف دیکھ رہا تھا کہ جونہی اسحاق ڈار پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھیں گے تو اسی وقت ڈالر منہ کے بل زمین پر گر جائے گا، ہم سب یہ امید بھی لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستانی روپیہ بھی آبرومند ہو گا، درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن کسی حد تک توازن کی طرف جائے گا، مہنگائی کے مارے عوام یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ظالمانہ ٹیکس کے نظام میں کچھ بہتری لائی جائے گی، اسی امید کی وجہ سے راقم نے بھی مفتاح اسماعیل کی جگہ اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنائے جانے کی صورت میں خوش گمانیوں کا اظہار کیا تھا، لیکن اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے جو سلوک عوام کے ساتھ کیا ہے اس کے بعد یہ کہنا تو بنتا ہے ’’سوری مفتاح اسماعیل‘‘۔ تہجد گزار اسحاق ڈار نے منصب سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اپنے پرانے بقایہ جات وصول کئے۔ اپنے مقدمات کا قلع قمع کیا اور پھر عوام کی مشکیں کسنے کی طرف توجہ دی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں جس کے گھمانے سے معیشت درست سمت میں گامزن ہو جائے، ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مفتاح اسماعیل کے پاس بھی کوئی جادو کی چھڑی نہیں تھی جب وہ قیمتوں میں اضافے کی بات کرتے تھے تو مسلم لیگ کی ’’ڈیفیکٹو‘‘ قیادت کی طرف سے ٹویٹ آتا تھا کہ یہ اضافہ واپس لیا جائے۔

جب مفتاح اسماعیل ٹیکس لگاتے تھے تو مسلم لیگ کے لندن میں بیٹھے ہوئے قائد کبھی تو اجلاس چھوڑ کر چلے جاتے تھے اور کبھی غصے سے لال پیلے ہو جاتے تھے۔ تاہم اب ان کے چہیتے اسحاق ڈار کے تباہ کن اقدامات کے بعد نہ تو لندن سے اجلاس چھوڑ کر جانے کی خبریں آئی ہیں اور نہ ہی وزیراعظم ہاؤس میں تشریف فرما مسلم لیگ کے صدر کی جانب سے غصے کے اظہار کی خبر آئی ہے۔ اگر یہی’’چن چڑھانا‘‘تھا تو مفتاح اسماعیل میں کیا برائی تھی، کہ ان کو توہین آمیز طریقے سے ہٹا کر اسحاق ڈار کو خزانہ کا نگہبان مقرر کر دیا گیا۔ چند ماہ پہلے تک اسحاق ڈار پاکستانی عوام کے خوابوں کے شہزادے تھے لیکن انہوں نے واپس آ کر پاکستانی عوام کی نیندیں ہی چھین لیں۔ بجلی، گیس، پٹرول کا کیا ذکر کریں اب تو اجناس، سبزی، گوشت، کی قیمتیں پرواز کر کے عام آدمی کی دسترس سے باہر چلی گئی ہیں۔ جناب مفتاح اسماعیل کو بے آبرو کرنے کے بعد جناب اسحاق ڈار کو تو اس وجہ سے سرآنکھوں پر بٹھایا گیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی مہارت رکھنے والے وزیر خزانہ ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ جیسے انہوں نے آئی ایم ایف کی آنکھوں میں آنکھیں تو نہیں ڈالیں البتہ اس کی نشیلی آنکھوں کا شکار ہو کر اس کے سحر میں یوں گم ہوئے ہیں کہ جو تلوار انہوں نے آئی ایم ایف کے مطالبات پر چلانی تھی وہی تلوار پاکستانی عوام کی گردن پر چلا دی ہے۔ وفاقی حکومت نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ جی ایس ٹی کو 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا ہے۔

تعمیراتی سامان کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ سیمنٹ کی بوری میں 30 سے 40 روپے فی بوری اضافہ ہو گیا ہے۔ اس ’’ہمدرد‘‘حکومت نے عوام کے زیر استعمال ہر چیز کو عوام کی پہنچ سے دور رکھنے کے عزم پر عمل کرتے ہوئے موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی یکدم اضافہ کیا ہے۔ پاکستانی قوم کی سگریٹ سے جان چھڑانے کیلئے وزارت صحت نے طویل عرصہ مہم چلائی لیکن عوام تھے کہ سگریٹ پینے سے باز نہیں آرہے تھے جناب اسحاق ڈار نے سگریٹ کی قیمت میں تقریباً دو سو پچاس فیصد اضافہ کر دیا ہے یوں تمباکو نوشی کے خلاف مہم کو ایک نیا ’’رنگ‘‘دے دیا ہے۔ غریب کسان کو موجودہ حکومت نے خصوصی طور پر نشانے پر رکھا ہے۔ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے بعد آب پاشی کس قدر متاثر ہو گی اس کا اندازہ تو زمیندار ہی کر سکتا ہے۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے بعد فصلوں کی پیداوار کس قدر متاثر ہو گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ پاکستان پہلے ہی جس غذائی بحران کی طرف جارہا ہے وہ کسی ذی شعور شخص سے مخفی نہیں ان حالات میں کسانوں اور زرعی شعبے کے ساتھ یہ نارواسلوک ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

موجودہ حکمراں ٹولہ اپنی تعیشات میں کمی کے بجائے، عوام کی توجہ مہنگائی سے ہٹانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ کبھی آڈیو لیکس کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے، کبھی عمران خان کی گرفتاری کی بات ہوتی ہے، کبھی صدر مملکت کے آئینی اختیارات کو محدود کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، یہ لوگ اگر اتنی توجہ اپنے شاہانہ اخراجات کنٹرول کرنے پر لگاتے تو شاید کچھ بہتری ہوتی، جہازی سائز کابینہ اور اس پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات غریب عوام کو منہ چڑا رہے ہیں، حکمراں ٹولے کا ایک قدم بھی عوامی فلاح کی جانب نہیں اٹھ رہا، بلکہ ساری توجہ عمران خان اور تحریک انصاف کو دیوار کے ساتھ لگانے پہ صرف ہو رہی ہے۔حکمراں طبقے میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو انہیں درست راستے پر گامزن رکھنے کی تجویز دے۔ اپوزیشن کے خلاف آگ اگلنے والے تو ہر طرف موجود ہیں لیکن اس آگ پر پانی ڈالنے والا ایک شخص بھی موجود نہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر عام آدمی کے مسائل کے علاوہ ہر موضوع پر بات ہوتی ہے۔ اس ٹولے نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے اور مرنا مشکل۔ گھر بنانا ناممکن اور گھر بسانا مشکل کر دیا ہے۔ اب عوام کو اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے خود ہی میدان میں اترنا پڑے گا اور ووٹ کی طاقت سے سیاست کے پٹے ہوئے مہروں کو انجام آشنا کرنا ہو گا۔

پیر فاروق بہاو الحق شاہ 

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments