All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

پاکستان : مشکلات پر قابو کیسے پایا جائے؟

پاکستان آج تاریخ کے سنگین ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 10 سال کی کم ترین سطح 3 ارب ڈالر پر آگئے ہیں جب کہ 4.5 بلین ڈالر سعودی عرب اور چین نے ہمیں محفوظ رکھنے کیلئے دیئے تھے۔ ہمیں مارچ 2023 ء تک تقریباً 8 بلین ڈالر کے قرضوں کی مزید ادائیگی کرنی ہے۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ماضی کے وعدوں کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کیساتھ مذاکرات کرنے سے کترا رہا تھا دیگر امدادی ایجنسیاں بھی ہماری مزید مدد کرنے سے گریزاں ہیں۔ تو، آگے کا راستہ کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ زرمبادلہ کی شدید کمی کے باوجود ہم بیرون ملک سے دودھ، پنیر، چاکلیٹ، سگریٹ کیلئے تمباکو، حتیٰ کہ بلیوں کی خوراک تک آج بھی درآمد کر رہے ہیں۔ پچھلے چھ مہینوں میں بڑی تعداد میں لگژری گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں۔ پر آسائش موٹر گاڑیوں کے علاوہ، حسن و آرائش کا سامان اور دیگر ساما ن تعیش کی درآمد بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں ہماری مقامی صنعت تباہ ہو چکی ہے۔ ہمیں تمام غیر ضروری درآمدات پر فوری طور پر پابندی لگا دینی چاہئے (یا اگر یہ بین الاقوامی/ڈبلیو ٹی او (WTO) قوانین کی خلاف ورزی ہے، تو ان پر 1000 فیصد ٹیکس عائد کرنا چاہئے) اور مقامی صنعتی ترقی اور اعلی ٰو قیمتی مصنوعات کی برآمد کو تحریک دینے کیلئے اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔

اسکے علاوہ ہمیں غیر ملکی قرضوں پر انحصارختم کر کے اپنی پالیسیوں میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اخراجات ہماری آمدنی سے کم ہو سکیں، اس طرح ہم اپنے غیر ملکی قرضوں کو کم کر سکیں گے۔ مختصر مدت میں ہمیں روپے کو تقریباً 270 روپے تک یا اس سے بھی زیادہ 300 روپے فی ڈالر تک جانے دینا پڑے گا۔ کیونکہ اس سے برآمدات میں اضافہ ہو گا اور درآمدات میں کمی آئے گی لیکن ایسی پالیسی کا منفی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس سے ایندھن، بجلی اور درآمد شدہ خوردنی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا، جس کا غریبوں پر برا اثر پڑے گا۔ اسلئے، احساس پروگرام کے ذریعے انکی مدد کیلئے تقریباً 500 ارب روپے مختص کئے جائیں۔ اس سے جزوی طور پر ان پالیسیوں کے ذریعے مشکلات میں کمی آئے گی۔ پاکستان کی 220 ملین آبادی میں سے صرف 3.4 ملین ٹیکس دہندگان ہیں۔ اس کیلئے ہمیں زیر کاشت فی ایکڑ زمین کی بنیاد پر زرعی انکم ٹیکس لگانے کی فوری ضرورت ہے۔ اس سے ایک قابل ذکر رقم حاصل ہو گی۔ پراپرٹی ٹیکس (Property Tax) بھی جائیداد کی اصل قیمتوں سے کافی کم تشخیص کیا جاتا ہے۔موجودہ قیمتوں کی بنیاد پر ان کا بھی دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صرف اس ایک قدم کے نتیجے میں پراپرٹی ٹیکس میں تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔

ملک بھر کی تمام دکانوں پر ان کے رقبے اور مقام کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ ریٹیل اسٹورز ہیں۔ اوسطاً 4000 روپے ماہانہ فی دکان کا لازمی ٹیکس لگانے سے 100 ارب روپے اضافی سالانہ جمع ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی بھارت کی طرح ملک میں 5000 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی لگانی چاہئے اور پھر عوام کو 4 ہفتوں کی مہلت دی جائے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس میں یہ نوٹ جمع کرائیں۔ اس سے سفید معیشت میں اور ٹیکس کے حجم میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ اسی طرح، قیمتی زرمبادلہ کو محفوظ رکھنے کیلئے، تمام لیٹر آف کریڈٹ صرف مقامی ڈالر کی خریداری یا غیر ملکی کرنسی مہیا کرنے پر کھولے جا نے چاہئیں۔ ایکسپورٹ واؤچر ترجیحی صنعتی اعلی ٰتکنیکی برآمدات کو دیئے جا سکتے ہیں تاکہ بجلی کی قیمتوں اور دوسرے پیداواری اخراجات وغیرہ کی تلافی کی جاسکے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال قومی ٹیکس وصولی کو شفافیت کے ساتھ بہت زیادہ فروغ دے سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ ہو گا کہ قانون کے ذریعے اس بات کو لازمی بنایا جائے کہ قانونی لین دین سے پہلے جائیداد، حصص، کاروں یا کسی بھی دوسرے اثاثوں کی تمام فروخت اور خریداری کو مکمل تفصیلات کے ساتھ سرکاری ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے۔ 

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس وصولی میں شفافیت لا ئی جاسکتی ہے اس کی ایک مثال نالج اکانومی ٹاسک فورس ہے جس کے ذریعے شروع کئے گئے ایک پروجیکٹ سے ہم نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس ریونیو میں اضافے کیلئے نادرا اور ایف بی آر کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔ نادرا کے لین دین کے ریکارڈ کے ایک حصے کو استعمال کرتے ہوئے اور مصنوعی ذہانت (AI) پروٹوکول کا استعمال کرتے ہوئے، پروگرام نے 3.8 ملین ایسے ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کی جن پر 000 100 روپے سے زیادہ ٹیکس کی ذمہ داری تھی اورجنہیں ایک اندازے کے مطابق 1.6 کھرب روپے کا انکم ٹیکس ادا کرنا تھا۔ 3 ماہ کی کوششوں کے نتیجے میں ،جس میں حکومت کو کوئی اضافی اخراجات بھی نہ کرنے پڑے ، کل اعلان کردہ اثاثے تیزی سے تین کھرب روپے تک ادا کئے گئے اور اضافی ٹیکس 65 ارب روپے ادا کیا گیا۔ مزید برآں، 000 90 سے زیادہ نئے افراد سے ٹیکس وصول کیا گیا اور 30 جون 2018 ء کو ختم ہونیوالے سال کے ٹیکس گوشوارے 20 لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے۔ یہ ایف بی آر کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ 

اس طرح کے اقدامات کو تمام صوبوں میں رائج کیا جاسکتا ہے اور ٹیکس نا دہندگان پر فضائی یا ریلوے ٹکٹ خریدنے، یا پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ کی تجدید پر پابندیاں عائد کی جا نی چاہئیں۔ پاکستان کے قرضوں میں ڈوبنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اربوں ڈالر کے غیر قانونی اثاثے بیرون ملک پڑے ہیں۔ پنڈورا پیپرز (Pandora Papers) کے نام سے جانی جانے والی لاکھوں دستاویزات نے 35 موجودہ اور سابق عالمی رہنماؤں اور 91 ممالک کے 330 سیاست دانوں اور عوامی عہدیداروں کے مالی رازوں سے پردہ اٹھایا تھا۔ اس کا تدارک اسٹنگ آپریشن (Sting Operation) اور وسیع پیمانے پر بدعنوانی کرنے پر سزائے موت دینے میں مضمر ہے جیسا کہ چین، انڈونیشیا اور بہت سے دوسرے ممالک میں کیا گیا۔ پاکستان کیلئے ترقی کی راہیں کھولنے کا آخری لیکن شاید سب سے اہم قدم تعلیم، سائنس اور جدت طرازی ہے جس کو سب سے زیادہ ترجیح دینی چاہئے۔ یہ کامیابی جمہوریت کی صدارتی شکل میں ایک ایماندار اورتکنیکی طور پر قابل قیادت ہی حاصل کر سکتی ہے، جہاں وزراء کا تقرر ان کی قابلیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن 

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments