آج ایک غیر یقینی صورت حال نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تباہی کے نقیب من گھڑت، منفی، جزوی اور متعصبانہ خبریں پھیلا رہے ہیں۔ ان کی ارزاں کردہ بے بنیاد کہانیوں اور غیر حقیقی اعدادوشمار اور ڈیفالٹ، دیوالیہ پن اور سری لنکا کے ساتھ مماثلت کی پیشین گوئیوں نے ایکویٹی، قرض اور کرنسی کی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی بانڈز پر کریڈٹ ڈیفالٹ ریٹ کے غیر معمولی بلندی کی طرف جانے سے ان منڈیوں کو استعمال کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ تاہم، کسی کو تو ملمع کاری کے بغیر حقائق اور درست اعداد و شمار پیش کرنے چاہئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بہت زیادہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے جو ہماری شرح مبادلہ اور اس کے نتیجے میں شرح سود پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہ آنے اور قرض کی بھاری بھرکم رقوم کی ادائیگیوں کے لیے ہمیں قلیل مدتی اور تجارتی دونوں طرح کے قرضے لینا پڑتے ہیں۔
اس سے ہمارے پہلے سے موجود قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے اور ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی آتی ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہوتے صرف چھ ہفتوں کی درآمدات کے لیے رہ گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے کرنسی کی قدر مزید گرنے کی پیش گوئی کرنے والے اس کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں جس سے کرنسی کی مارکیٹ مزید دبائو کا شکار ہو جاتی ہے۔ مہنگائی کی شرح معمول سے تجاوز کر گئی ہے اور گزشتہ چار برسوں میں قیمتوں میں چالیس فیصد اضافہ محدود آمدنی والے افراد کی زندگی مشکل بنا رہا ہے۔ یہ تشویش ناک معاملات ہیں اور ان سے احتیاط و تدبر سے نمٹا جانا چاہئے تاکہ تجارت کا توازن مزید نہ بگڑنے پائے۔ گزشتہ دو برسوں میں شرح نمو تقریباً 6 فیصد رہی، زرعی اجناس کی مقامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زرعی آمدنی میں گزشتہ سال 1100 ارب روپے کا اضافہ ہوا، کارپوریٹ منافع تقریباً 50 فیصد بڑھ گیا۔ بیرونی ممالک سے بھجوائی گئی رقوم میں پانچ سے چھ سو ارب روپوں کا اضافہ ہوا۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب گھرانوں میں دو سو ارب روپے تقسیم کیے گئے۔ اس اضافی قوت خرید کے نتیجے میں مینوفیکچرنگ میں 10 فیصد اضافہ، روزگار کی بلندی، نجی شعبے کے قرضوں کی غیر معمولی مانگ اور غربت میں کمی آئی ہے۔ اشیا کی برآمدات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی سی ٹی کی برآمدات دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ ایف بی آر کے ریونیو میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جو پہلے کبھی حاصل نہیں کیا گیا۔ یہاں یہ یاد کرنا برمحل ہو گا، خاص طور پر نوجوان نسل کی اطلاع کے لیے، کہ پاکستان اس طرح کے بحران کا سامنا پہلی مرتبہ نہیں کر رہا۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران ہمیں 1998-99، 2008، 2013 اور 2018-19 میں ایسے ہی یا ان سے بھی بدترحالات کا سامنا رہا۔ 1998 میں جوہری تجربے کیے گئے۔ پاکستان میں موجود شہریوں اور غیر مقیم پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے کھاتوں کو منجمد کر دیا گیا۔ مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کے باعث معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔
دسمبر 1999 تک پاکستان کے پاس اتنا زرمبادلہ نہیں تھا کہ کیماڑی کے باہر لنگر انداز تیل کی ترسیل کے لیٹر آف کریڈٹ کو کلیئر کر سکے۔ قابل استعمال زرمبادلہ کے ذخائر صرف 300 ملین ڈالر رہ گئے تھے جو ایک ہفتے کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے بمشکل کافی تھے۔ اکتوبر 1999 میں مشرف کے حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد مزید اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں۔ ملک آج سے کہیں بدتر حالت میں تھا جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ موجودہ نوجوان آبادی کی اکثریت پیدا نہیں ہوئی تھی یا وہ بچپن کے مرحلے میں تھی اس لیے وہ اس وقت کی تباہ کن صورتحال سے واقف نہیں۔ ان کے لیے بجا طور پر موجودہ معاشی صورتحال ایک ناگوار تجربہ ہے۔ معیشت نے لچک دکھائی، ملک نے بحالی کی طرف قدم اٹھایا، اور 2008 تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.5 بلین ڈالر ہو گئے جو چھ ماہ کی درآمدات کے مساوی تھے۔ برآمدات 8.6 بلین ڈالر سے دگنی ہو کر 17 بلین ڈالر ہو گئیں اور سات میں سے تین برسوں میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس تھا۔
بیرونی قرضوں/جی ڈی پی کا تناسب 47.6 فیصد سے کم ہو کر 27.8 فیصد ہو گیا۔ 2007 تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 5 بلین ڈالر سے زیادہ تھی۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد سے بلند تھی۔ ملک نے آئی ایم ایف پروگرام کو شیڈول سے پہلے کامیابی سے مکمل کیا اور آخری دو قسطیں نہیں لیں کیوں کہ ان کی ضرورت نہیں تھی۔ ان لوگوں کے برعکس جو ان کامیابیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خاتمے سے منسوب کرتے ہیں، شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ پابندیوں کے اٹھائے جانے اور اتحادی افواج کی حمایت کی وجہ سے آنے والے مالیاتی بہائو نے اخراجات کی واپسی میں مدد کی لیکن یہ میکرو اکنامک استحکام تھا جس نے عوام اور ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔ اس کے بعد 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے ساتھ ساتھ نگراں حکومت کی جانب سے تیل اور اشیائے خوردونوش کی درآمدی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو صارفین تک منتقل نہ کرنے کے بدقسمت فیصلے نے 2008 میں ایک اور بحران پیدا کیا۔ بحرانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ہر بار اس وقت رونما ہوتے ہیں جب ہم مجموعی طلب میں اضافے کا مشاہدہ کرتے ہیں کیونکہ معاشی ترقی کی وجہ سے قوت خرید میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب فی کس آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے، کاروبار پھیل رہے ہوتے ہیں اور لوگ زیادہ خریداری کرتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پیٹرولیم یا تیار شدہ مصنوعات، مشینری اور آلات، کیمیکلز، لوہا اور اسٹیل، صنعت کے لیے خام مال حتیٰ کہ دالوں، سبزیوں کا تیل، خشک دودھ بھی پیدا کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں۔ چونکہ گھریلو پیداواری صلاحیت اس طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہے، اسلئے درآمدی بل بڑھ جاتا ہے۔ سامان اور خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی، محنت کش افراد کی ترسیلات زر اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھاری بھرکم درآمدی بل سے کہیں کم رہ جاتی ہے۔ اس طرح ادائیگیوں کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس سوال کو حل کرنے کی ضرورت ہے کہ اس شیطانی چکر سے کیسے نکلا جائے ؟ ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی، تکمیلی اور مستقل مزاجی لانے کے لیے جو ادارہ جاتی انتظام تجویز کرتے ہیں۔ اس کے لیے آرٹیکل 156 کے تحت قومی اقتصادی کونسل آرٹیکل کو مزید موثر بنایا جائے۔ قابل اعتماد نجی شعبے کی تنظیموں کے ساتھ پیشگی مشاورت کی جانی چاہیے۔ متفقہ اقتصادی اور شعبہ جاتی ایجنڈے پر پیشرفت کا جائزہ لینے اور نگرانی کے لیے قومی اقتصادی کونسل کو ہر سہ ماہی میں ملاقات کرنی چاہئے اور جہاں ضرورت ہو اصلاحی اقدامات کرنا چاہئیں ۔
نجی شعبے اور پالیسی سازوں کو اگلے تین برسوں میں اشیا اور خدمات کی برآمدات کو 55 بلین ڈالر تک پہنچانے کے لیے مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے برآمدی جی ڈی پی کا تناسب 15 فیصد تک بڑھ جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو درآمدی بل کا ساٹھ فیصد برآمدات سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب عالمی مارکیٹ میں 0.2 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برآمدات میں سالانہ اوسطاً 14 فیصد کی شرح سے اضافہ ہونا چاہیے۔ ماضی میں ہم ایسا کرنے کے قابل تھے۔ یہ ہدف انجینئرنگ کی مصنوعات، الیکٹرانکس، آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات، کیمیکل، ادویہ سازی کے شعبے کو مسابقت کے قابل بنا کر اور اس میں تنوع لا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں برآمدات درآمدات کے 80 فیصد کیلئے سرمایہ فراہم کرتی تھیں لیکن یہ تناسب 40 فیصد تک گر گیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے اسے بڑھانا ہو گا۔
اس وقت جس صورت حال سے نمٹنے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے، وہ ہماری پست صنعتی پیداوار ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ یہ چین کا صرف 30-40 فیصد ہے۔ ہم کم اجرت والے ملک ضرور ہیں لیکن پیداوار، کارکردگی، معیار (مسترد ہونے کی شرح)، قابل اعتماد اور اختراع (ڈیزائن) کی تبدیلی کے لحاظ سے ہم مہنگے ملک ہیں۔ اوسطاً پانچ سال کی تعلیم رکھنے والی افرادی قوت اور 40 فیصد ناخواندہ آبادی پاکستان کو اپنے حریفوں کے مقابلے میں پسماندہ ملک بناتی ہے۔ اسلئے برآمد کرنے والی فرموں اور حکومت کیلئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مل کر پیداواری عمل میں سرمایہ کاری کریں۔ نجی شعبے کو اپنے اندرونی تنظیمی ڈھانچے اور عمل کو مضبوط کرنے کے علاوہ مواصلات اور رسد کے طریقوں کو بہتر بنانا چاہیے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کیلئے مشترکہ کاوش کے شعبہ جات، اور آئی پی اوز کے ذریعے نوخیز صنعتوں میں توسیع اور سرمایہ کاری کیلئے وسائل کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ برآمدات کو فروغ دینے کے علاوہ، اسٹرٹیجک صنعتوں، جیسا کہ آئل ریفائنریز، پیٹرو کیمیکل کمپلیکس، اسٹیل، آٹوموبائل، موبائل فون وغیرہ میں درآمدی سامان کی جگہ ملکی مصنوعات کا استعمال درآمدی بل کو کم کر دیگا۔
خدمات کے شعبے میں آئی ٹی کی وزارت نے نجی برآمدی فرموں، یونیورسٹیوں اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اگلے دو سے تین برسوں میں اس شعبے کی برآمدات کو تقریباً 5 بلین ڈالر تک بڑھانے کیلئے منصوبے اور حکمت عملی مرتب کی ہے۔ یہ ایک قابل عمل تجویز ہے کیونکہ حالیہ حوصلہ افزا شواہد اس کی تائید کرتے ہیں۔ گزشتہ دو سال میں ٹیلی کام اور آئی ٹی خدمات کی برآمدات 2019 میں 1.2 بلین ڈالر سے بڑھ کر تقریباً دگنا ہو گئی ہیں۔ پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے نے 2021 میں گزشتہ چھ برسوں کے مقابلے میں کافی حد تک غیر ملکی سرمایہ حاصل کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہ داری ( سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے تحت صنعتی یونٹوں کے قیام کیلئے گوادر، رشکئی، فیصل آباد، دھابیجی میں خصوصی اقتصادی زون تعمیر و ترقی کے مراحل میں ہیں۔ چینی کمپنیاں جنھیں مزدوری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے وہ ویت نام، کمبوڈیا، لاؤس وغیرہ میں منتقل ہو رہی ہیں۔
چینی نئی بندرگاہ تک رسائی، دستیاب مراعات، قریبی سیاسی تعلقات کی وجہ سے پاکستان میں ان خصوصی اقتصادی زونز کا انتخاب کرنے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ ہم ان کی رفتار کے مطابق کام کر سکیں۔ چین کے ساتھ ایف ٹی اے II کے تحت پاکستان کی 83 فیصد عالمی برآمدات کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ اس میں ٹیکسٹائل، گارمنٹس، چمڑے، کیمیکلز، سی فوڈ، گوشت وغیرہ شامل ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی کم لاگت انھیں دوسرے ذرائع کے مقابلے میں چینی منڈیوں میں مسابقت کا موقع فراہم کرے گی۔ چینی درآمدات کا ایک فیصد مارکیٹ شیئر ہماری کل برآمدات میں 20 بلین ڈالر کا اضافہ کرے گا۔ پاکستان میں تیار ہونے والی برآمدی اشیا جو چینی کمپنیاں ڈیزائن اور مارکیٹ کرتی ہیں، چین کے وسیع عالمی نیٹ ورک کے ذریعے دونوں ممالک کیلئے اضافی فائدے لائیں گی۔ مقامی اور بیرون ملک دونوں بازاروں کیلئے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت رکھنے والوں کی بہت مانگ ہے ۔
اس میں سرکاری اور نجی، دونوں شعبے شریک ہوں تاکہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق پروڈکٹ تیارکی جاسکیں۔ بی آئی ایس پی کے تحت مشروط کیش ٹرانسفر کے دائرہ کار کو وسعت دی جانی چاہیے تاکہ غریب خاندانوں اور پسماندہ اضلاع کے بچوں کے لیے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کے لیے وظائف جاری کیے جاسکیں۔ پرائیویٹ فرموں کو چاہیے کہ وہ ان اداروں سے آنے والے نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کریں اور اپنے ملازمین کی تربیت اور ہنرمندی کو بہتر بنانے والے اقدامات کریں۔ صحت کارڈ کے استعمال کو پورے ملک میں پھیلائیں اور انشورنس کمپنیوں کے درمیان بڈنگ کی اجازت دیں۔ اس سے نہ صرف صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے نیٹ ورک کو بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ انشورنس انڈسٹری کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ موثر نگرانی اور شکایات کے ازالے کا طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے تاکہ اس اسکیم کا غیر اخلاقی افراد اور حصہ لینے والے ہسپتالوں کے ذریعے غلط استعمال نہ ہو۔ میڈیکل ٹریننگ کے خود مختار اداروں کو ختم کر کے انہیں محکمہ صحت کے کنٹرول میں لانے کی تجویز ناقابل قبول ہے۔
0 Comments