2021ء میں طے پانے والی قومی سلامتی پالیسی نے جیو اکنامکس کو اپنا بنیادی محور بنایا ہے۔ ضروری ہے کہ ایک مربوط اور جامع انداز میں دیکھا جائے کہ اس ہدف کے حصول کے لیے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کس نہج پر استوار کیے جائیں۔ خارجہ اقتصادی پالیسی وضع کرتے وقت ہمیں یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایسی پالیسی ملک کی خارجہ اور ملکی اقتصادی پالیسیوں کی ضمنی پیداوار ہو گی۔ مثال کے طور پراگر کسی خاص ملک یا ممالک کے گروپ کے ساتھ خارجہ پالیسی غیر فعال، دوغلی یا لاعلمی پر مبنی ہے تو پھر اس ملک یا گروپ کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعاون پرمبنی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ اسی طرح اگر ملکی اقتصادی پالیسی مالیاتی مسائل کی وجہ سے محدود ہو تو بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی اشیا کو فروغ دینے کے لیے مالی سہولت فراہم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مستقبل کے تعلقات طے کرنے کیلئے کس قسم کے اہداف ہونے چاہئیں؟
چین نے ابھرتے ہوئے صنعتی ممالک اور مشرقی ایشیا سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ 25 برسوں میں 1.2 بلین افراد کی حقیقی فی کس آمدنی میں چار گنا اضافہ کیا اور غربت کو 50 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لے آیا۔ ایک اور ملک، بھارت، جس کی آبادی ایک ارب سے تجاوز کر چکی اور جو افراتفری اور ناقص جمہوریت رکھتا ہے، نے اپنے تمام تر مسائل کے باوجود گزشتہ 15 سال میں 6 فیصد کی سالانہ شرح نمو سے ترقی کی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے بھارت غربت کی سطح کو کم کر کے 23 فیصد تک لے آیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب بھارت نے تجارت کو آزاد کر دیا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے آسانیاں پیدا کیں۔ ضروری ہے کہ ہم بہت احتیاط سے ان عوامل کا انتخاب کریں جو ہماری معیشت کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور ان سے بچیں جو اتار چڑھاؤ اور مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ میری نظر میں، کم از کم مختلف درجے اور فعالیت رکھنے والے دس ممکنہ عوامل ہیں :
-1 عالمی منڈیوں میں تجارتی اشیا کی برآمدات میں اضافہ کریں اور علاقائی تجارت کو فروغ دیں۔
2۔ سروسز، خاص طو ر پر آئی ٹی اور پیشہ ور سروسز میں اضافہ کریں ۔
3۔ دیگر ممالک کو تجارت کیلئے ٹرانزٹ راہ داری، انفراسٹرکچر اور سروسز فراہم کریں۔
4۔ آلات اورپرزوں کی فراہمی کے ساتھ عالمی سپلائی چین کا حصہ بنیں ۔
5۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو خاص طور پر برآمدات اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ترغیب دیں۔
6۔ پاکستانی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنا سرمایہ بیرونی ممالک میں رکھ کر بیرونی ٹھیکے حاصل کریں۔
7- کثیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں۔
8۔ پاکستانی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی حوصلہ افزائی کریں، اور پاکستانی کمپنیوں کو عالمی سطح پر اپنا مقام بنانے کی سہولت فراہم کریں۔
9۔ اُن ممالک میں افرادی قوت بھیجنے کے لیے اپنے افراد کو تربیت دیں جنھیں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے بیرونی دنیا سے بھجوائی گئی رقوم کے حجم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کریں۔
10۔ اعلیٰ مہارت رکھنے والے ٹیکنیکل اور فنانشل ماہرین کی بیرونی دنیا کو فراہمی ممکن بنائیں۔
مندرجہ بالا فریم ورک دیکھتے ہوئے ہم مندرجہ ذیل ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی نوعیت جا ئزہ لیتے ہیں : امریکہ، چین ، خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا، افغانستان۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کا بہت حد تک دارومدار افغانستان کے حالات اور ایران کے ساتھ مغربی دنیا کے رویے پر ہے۔
امریکہ: امریکہ اقتصادی، فوجی اور انسانی بنیادوں پر امداد کا ایک بڑا فراہم کنندہ رہا ہے۔ 2014 کے بعد سے اس امداد میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے جو امریکہ اور پاکستان دونوں کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ دراصل امریکی امداد دونوں ممالک میں مختلف تاثرات رکھنے کی وجہ سے ایک متنازعہ مسئلہ بنی رہی ہے ۔ امریکی امداد زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے لیے زیادہ مؤثر اور فعال ثابت ہوئی ۔ متاثرین نے اسے سراہا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے لیے بروقت امداد اس کی ایک مثال ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے بجا طور پر اپنی توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مرکوز کر دی ہے۔ یہ ایک بہتر تبدیلی ہے بشرطیکہ اس حکمت عملی کو بھرپور طریقے سے فعال کیا جائے۔ ماضی میں ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔ امریکی چیمبر آف کامرس بجا طور پر پاکستانی ٹیکسٹائل کی امریکی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
پاکستان کی نمایاں برآمدات پر امریکی محصولات اوسطاً تقریباً 10 فیصد ہیں، جو دوسرے ممالک سے درآمدات پر امریکی ٹیرف کی اوسط شرح سے چار گنا زیادہ ہیں۔ ٹیرف کی شرح میں کمی پاکستانی برآمد کنندگان پر کوئی احسان نہیں کرے گی بلکہ انہیں برابری کا میدان فراہم کرے گی۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو بازار میں مسابقت پر پختہ یقین رکھتا ہے، یہ ایک اصلاح ہے نہ کہ رعایت۔ پاکستان کو توانائی کی ترسیل اور تقسیم، گیس پائپ لائنز، تیل اور ایل این جی ٹرمینلز، ریفائننگ کی صلاحیت، پیٹرو کیمیکل کمپلیکس سمیت دیگر شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ امریکی سرمایہ کاروں کو ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے قرضوں اور اوورسیز پرائیویٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن کی پاکستان کے توانائی کی ترقی کے منصوبوں میں شرکت کی ضمانتوں کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
ان میں سے ایک شعبہ ایسا ہے جس کی کارکردگی میں کوئی اور ملک بہتر نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں صنعتی معیشت کی جگہ ڈرامائی طور پر علم پر مبنی معیشت نے لے لی۔ اگلی دہائی میں یہ عملی طور پر کس حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے اس کا انحصار ان بنیادوں پر ہوگا جن پر ہماری معیشت کھڑی ہے، یعنی سائنسی اور تکنیکی افرادی قوت کی مقدار اور معیار۔ ہم دوسرے ہم مرتبہ ممالک سے پیچھے ہیں، اسلئے ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ امریکہ اعلیٰ تعلیم اور سائنسی اور تکنیکی تحقیق میں دنیا میں سرفہرست ہے۔ ہمیں امریکہ کے سرکردہ اداروں میں اپنے اساتذہ اور سائنسدانوں کو تربیت دلوانے، پاکستانی اور امریکی یونیورسٹیوں کے درمیان روابط اور اسکالرز کے تبادلے اور زراعت، آبی وسائل، قابل تجدید توانائی اور کم توانائی کے شعبوں میں ہماری تحقیقی تنظیموں کی استعداد کار کو مضبوط بنانے کیلئے ان سے رابطہ کرنا چاہیے۔
پاکستان خلیجی ریاستوں کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات رکھتا ہے۔ امارات کے حکمرانوں کی پہلی نسل کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے کیونکہ انھیں اپنے ملک کی جدید کاری کے سفر میں پاکستان سے بہت تعاون ملا تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بڑی تعداد میں پاکستانی کارکنوں کو افرادی قوت کے طور پرملازمتیں دیں۔ یہ دو ممالک آج بھی ہمارے ترسیلات زر کے چوٹی کے ذرائع ہیں۔ متحدہ عرب امارات بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے اور سعودی عرب اور کویت پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل فراہم کرنے والے ملک ہیں۔ قطر کے پاکستان کے ساتھ ا یل این جی کے طویل المدتی معاہدے ہیں۔ جب بھی پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا ہوا، یہ ممالک اس کی مدد کرتے رہے ہیں۔
تاہم مستقبل میں ان تعلقات کومستحکم اور پائیدار بنانے کیلئے ان کا از سرنو تعین ضروری ہے کیوں کہ عالمی تعلقات یک طرفہ راستہ نہیں ہوتے۔ متحدہ عرب امارات اور قطر، دونوں نے پاکستانی حکام سے اپنی حالیہ ملاقاتوں میں نقد رقوم، اشیا یا کیش ڈپازٹ رکھوانے کی بجائے پاکستان کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان ریاستوں کا مصر میں 22 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ ہے جو خلیجی ریاستوں کی امداد کا روایتی وصول کنندہ رہا ہے۔ ہماری نئی حکمت عملی بھی یہی ہونی چاہیے ۔ سعودی عرب نے 2019 میں گوادر میں آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود بیوروکریسی کا سرخ فیتہ، پیچیدہ اور وقت طلب طریقہ کار اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطوں کا فقدان اس میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں۔
جنوبی ایشیا معاشی تاریخ دانوں اور تجزیہ کاروں کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جنوبی ایشیا، جو چند دہائیاں قبل تک ایک واحد بڑی منڈی تھی، جس میں اشیا، خدمات، سرمایہ کاری اور ہنر مند وں کی فراوانی تھی ۔ نئے آزاد ممالک ، انڈیا اور پاکستان، یہ وراثت رکھتے تھے۔ لیکن یہ مشترکہ تاریخی، قانونی، ثقافتی اور انتظامی پس منظر رکھنے والا خطہ آج نہ ہونے کے برابر باہمی تعلقات رکھتا ہے ۔ دوسری طرف مشرقی ایشیائی ممالک بے حد مختلف پس منظر رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان مشترکہ تاریخی روابط نہ ہونے کے برابرتھے۔ لیکن وہ یورپی یونین کے بعد دنیا کا سب سے زیادہ مربوط خطہ بن چکے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے ماہرین معاشیات کے درمیان کم و بیش اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ان کے باہمی تجارتی تعلقات دونوں کیلئے مساوی معاشی فوائد کا باعث بنیں گے۔ ان کے معاشی تعلقات استوار نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی تنائو ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران انڈیا ایک اہم اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان جو 1990 تک آگے تھا، جانی پہچانی وجوہات کی بناپر پیچھے رہ گیا جس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ اقتصادی توازن میں یہ تبدیلی انڈیا اور پاکستان کے تعلقات پر بنیادی نظر ثانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ خطے کی 80 فیصد آبادی اور 85 فیصد جی ڈی پی رکھنے والا انڈیا خطے کی بالا دست قوت ہے۔ لیکن پھرموجودہ جمود سے نکلنے کی بڑی ذمہ داری بھی اسی پرعائد ہوتی ہے۔ انڈیا کو معاشی عروج کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے کی جستجو میں محفوظ اور محفوظ سرحدوں، پرامن اور خوشحال پڑوسیوں اور ایک متحرک علاقائی ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے جس میں چھوٹے ممالک کا کردار بھی شامل ہو۔ اگر اس کے ہمسائے مسلسل خوف و ہراس کا شکار رہیں گے تو اس کی اقتصادی طاقت بننے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔ جنوبی ایشیا میں ایک اہم کھلاڑی کی حیثیت سے اس کی ذمہ داریاں، ردعمل اور طرز عمل اس کے سائز اور حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
حساب برابرکرنے کی ماضی کی پالیسی کی بجائے خطے کے دیگر ممالک کو سیاسی اور معاشی طور پر برداشت کرتے ہوئے بڑے پن ، کھلے ذہن اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ ایشیا کپ کے تحت کرکٹ کھیلنے کے لیے اگلے سال پاکستان آنے سے انکار ان مطلوبہ اوصاف کے منافی ہے۔ درمیانی اور طویل المدتی فوائد کو دیکھا جائے اقتصادی اہداف کا ممکنہ حصول بتاتا ہے کہ تعلقات کی بہتری میں انڈیا کو زیادہ فائدہ حاصل ہو گا۔ ایک ایسے ملک کیلئے جس کے پاس سب سے زیادہ ترقی پسند کاروباری افراد، سرکردہ دانشور، پیشہ ور، اختراع کار اور سائنس دان ہوں، عالمی سطح پر مسابقتی انسانی وسائل سب سے اوپر ہیں، قدرتی وسائل کی بہت زیادہ مانگ ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ وہ پیش قدمی سے گریزاں کیوں ہے۔ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانا علاقائی تجارت میں اضافہ، غربت میں کمی اور غذائی تحفظ کیلئے بہت سے امکانات کی کھڑکی کھولتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی اقتصادی تعلقات کو جیو پولیٹکس کی بجائے جیو اکنامکس کی طرف تبدیل کرنے کیلئے پاکستان کی ملکی اقتصادی پالیسیوں کو مستحکم اور پیش قیاسی، نظم و نسق اور گورننس کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہو گی۔ مسلسل سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور مسلسل معاشی بحران موجودہ جمود سے کوئی تبدیلی نہیں لائے گا۔ ہم مسلسل امداد مانگ کر اپنی عزت کھونے والے ایک معمولی کھلاڑی رہیں گے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے ہمہ وقت مدد کے لیے رجوع کرنا مذکورہ بالا تجاویز پر پانی پھیر دے گا۔ ہمیں جس بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تشخیص یا نسخوں کی کمی نہیں ہے بلکہ سوچ کی تنگ نظری ہے جہاں طریق کار کو نتائج پر فوقیت دی جاتی ہے۔ جب تک ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت کسی بھی غیر ملکی کیلئے اندرونی نفرت کو دور نہیں کرتے، ہم ترقی کی اس لہر سے مزید دور ہوتے جائیں گے جس سے دوسرے ترقی پذیر ممالک کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ہمیں دنیا کی مفلوج معیشتوں کے بجائے جنوبی کوریا، چین، انڈونیشیا، ملائیشیا اور ویتنام کو رول ماڈل کے طور پر اپنانا چاہئے۔
0 Comments