All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

تھر کوئلہ : بجلی کا عظیم منصوبہ

یہ تو سب جانتے ہیں کہ پاکستان ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر انہیں بروئے کار نہ لانے کا نتیجہ یہ ہے کہ 23 کروڑ کی آبادی میں سے کم و بیش 8 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے فلاکت زدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک کے ہر علاقے میں سیال اور غیر سیال معدنی دولت کے خزانے دفن ہیں جنہیں تلاش کیا جائے تو ملک غربت اور پسماندگی کے اندھیروں اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کی محتاجی سے آزاد ہو سکتا ہے ایسا ہی ایک بہت بڑا خزانہ کوئلے کی شکل میں سندھ کے صحرائے تھر میں موجود ہے مگر وہاں کے لوگ ملک میں سب سے زیادہ غریب اور زندگی کی ضروری مادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ تھر میں کوئلے کے 175 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں جن سے تین سو سال تک ایک لاکھ میگا واٹ بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔ اس سے سالانہ 6 ارب ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہو گی اور فی یونٹ بجلی کی قیمت صرف دس روپے ہو گی۔ 

یہ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل ہونے والا ملکی ترقی و خوشحالی کا عظیم منصوبہ ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی بھی پیدا نہیں ہو گی۔ اس سے پوری طرح استفادے کیلئے ملک میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے تمام پاور پلانٹس کو تھر کوئلے پر منتقل کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر کوئلے کا استعمال نہ کرنا بہت بڑی اجتماعی غلطی ہے۔ انہوں نے سی پیک کے تحت توانائی کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کو پاکستان کیلئے عظیم الشان تحفہ قرار دیا اور کہا کہ ریلوے لنک قائم ہونے سے تھر کوئلے کی ملک بھر میں ترسیل آسان ہو جائے گی۔ اس حوالے سے چین سے سنگل لائن معاہدہ ہو گیا ہے۔ کوئلے سے حاصل ہونے والی سستی بجلی سے صنعتیں ترقی کریں گی کیونکہ ان کی مصنوعات سستی ہوں گی۔ سندھ کے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی قدرتی وسائل کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں جنہیں کھوجنے کی ضرورت ہے۔

ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ بلوچستان زیر زمین ہی نہیں، زیر سمندر بھی اتنے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے کہ اکیلا پاکستان کی معیشت کو سنبھال سکتا ہے، پہاڑی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کا ساحل بھی سمندر میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر لئے ہوئے تلاش کرنے والوں کے انتظار میں ہے جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق ساحل مکران کے آس پاس گیس کے 9 کھرب کیوبک فٹ ذخائر موجود ہیں جبکہ بحیرہ عرب کیساتھ ہمارے سمندر میں 6 ارب بیرل تیل موجود ہے۔ملک میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں جبکہ اپنے ذخائر سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ سونے تانبے اور لوہے کے ذخائر کی تلاش کیلئے دئیے جانے والے ٹھیکے مقدمے بازی کی نذر ہو گئے۔ حکومتیں اور سیاسی قیادتیں اقتدار کی رسہ کشی میں الجھی ہوئی ہیں۔ انہیں قدرتی ذخائر کی مدد سے عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے کام کی فرصت ہی نہیں۔ تھر کوئلے کے ساتھ ملک کے دوسرے علاقوں میں قدرت کے خزانوں سے استفادے کیلئے جامع منصوبے بنانے کی ضرورت ہے جن پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ اس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور مہنگائی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments