امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دیتے ہوئے ان کے مواخذے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور صدر ٹرمپ کی میعاد ختم ہونے سے 8 روز قبل انہیں دوسری بار مواخذے کا سامنا ہے۔ ڈیموکرٹیک پارٹی کی حامل ایوان نمائندگان نے امریکی ریپبلکن صدر ٹرمپ کیخلاف آخری اطلاعات تک 232 حمایت اور 197 ووٹ مخالفت سے تحریک مواخذہ منظور کر لی ہے ۔ 4 ری پبلکن اور ایک ڈیمو کریٹ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ ایوان میں 205 کے مقابلے میں 223 ووٹ سے مائیک پنس سے مطالبے کی قرار داد بھی منظور کی گئی کہ وہ 25ویں ترمیم استعمال کر کے اپنے باس کو ہٹا دیں تاہم 25ویں ترمیم استعمال نہ کر کے مائیک پنس کو نئی زندگی دی ہے ۔ تاہم امریکی نائب صدر مائیک پنس نے ایوان نمائندگان کی قرارداد پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔
کئی ری پبلکن ارکان نے بھی ایوان نمائندگان کی قرارداد کی حمایت کی ہے ۔ 10؍ ری پبلیکن نے ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ ان ری پبلکن ارکان میں واشنگٹن سے ڈین نیو ہاؤس ، نیویارک سے جان کیٹکو ، واشنگٹن سے جیمی ہریرا بٹلر ، مشی گن سے فریڈ اپٹن اور یومنگ سے لز چینی اور دیگر شامل ہیں۔ ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کی تیسری سب سے سینیئر رہنما لز چینی نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں گی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک ارکان کی مواخذے کی کارروائی کو مضحکہ خیز قرار دیدیا۔ دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے نئے منتخب صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ جرائم پر ان کی پراسیکیوشن ہونے دیں کیونکہ ایسے ہی آگے بڑھ جانا ایک بہت ہی خطرناک غلطی ہو گی۔
ادھر مواخذے کے موقع پر دارالحکومت واشنگٹن چھاؤنی کا منظر پیش کرنے لگا ہے اور کیپٹل ہل سمیت اہم مقامات اور شاہراہوں پر فوجی تعینات ہیں اور سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پنس کے انکار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کیلئے امریکی ایوان نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی منظور کر لی گئی ۔ نیویارک سے عظیم ایم میاں کے مطابق ڈیموکرٹیک پارٹی کی حامل ایوان نمائندگان نے امریکی ری پبلکن صدر ٹرمپ کے خلاف معمولی اکثریت (223 حمایت اور205 ووٹ مخالفت) سے تحریک مواخذہ منظور کر لی ہے اوردونوں طرف کے اراکین کانگریس نے اپنےاپنے حمایت اور مخالفت کا جواز دیتے ہوئے مؤقف کا اظہار بھی کیا لیکن ابھی اس تحریک مواخذہ کے اگلے آئینی مرحلہ کے بارے میں واضح نہیں ہو سکا کہ ایوان نمائندگان کی منظور کردہ تحریک مواخذہ اور اس میں شامل صدرٹرمپ کے خلاف الزامات کی سماعت کا امریکی سینیٹ میں آغاز کب ہو گا۔ ابھی ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے بھی واضح نہیں کیا کہ وہ منظور شدہ تحریک مواخذہ بقیہ آئینی کارروائی کیلئے یہ تحریک کپ سینیٹ کو بھیجیں گی۔
ایسٹرن ٹائم کے مطابق ایوان شروع ہوا اور قانون سازوں نے 10 بجے ووٹ دینے اور مواخذے کے آرٹیکل کے اصولوں کو منظور کر لیے گئے۔ ضابطے کی منظوری کے بعد ایوان میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ حتمی ووٹ مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ کا عمل 4 بجے تک مکمل ہو گا۔ قبل ازیں امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کو 25ویں آئنی ترمیم کے ذریعے ہٹانے کی قرارداد 223 ووٹوں کے ساتھ منظورکی گئی جبکہ قرارداد کی مخالفت میں 205 ووٹ آئے۔ قرارداد ڈیموکریٹک میری لینڈ کے رکن جیمی راکسن نے پیش کی جس میں کہا گیاکہ امریکی نائب صدر مائیک پنس 25 ویں ترمیم کے سیکشن 4 کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کا نااہل قرار دیں۔ لیکن اس سے پہلے ہی نائب صدر مائیک پنس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹس کی قرارداد کو رد کرتے ہیں۔ ترمیم کے سیکشن چار کے مطابق کابینہ کے لیے اجازت ہوتی ہے کہ اگر انھیں لگے کہ صدر اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکتا تو اسے ہٹا دیا جائے۔ ہاؤس کی سپیکر نینسی پیلوسی کے نام لکھے گئے ایک خط میں مائیک پنس نے کہا کہ ہمارے آئین کے تحت 25ویں ترمیم کسی صدر کو ہٹانے یا اس کو سزا دینے کے لیے نہیں ہے۔
0 Comments