All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

روس سے جدید دفاعی سسٹم کیوں خریدا؟ امریکا نے ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں

ترکی کی جانب سے روسی ایس-400 فضائی دفاع کا نظام حاصل کرنے کی وجہ سے امریکا نے انقرہ پر طویل عرصے سے متوقع پابندی عائد کر دی جس سے دونوں نیٹو اتحادیوں کے پہلے سے سرد مہری کا شکار تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے۔  برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے پابندیوں کو 'سنگین غلطی' قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور واشنگٹن پر زور دیا کہ اپنے 'غیر منصفانہ فیصلے' کا دوبارہ جائزہ لے۔ کہا جارہا ہے کہ ان پابندیوں سے لامحالہ باہمی تعلقات کو نقصان پہنچے گا اور غیر واضح انتقامی اقدامات کا بھی خطرہ ہے۔سینیئر امریکی عہدیداروں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کی جانب سے ایس-400 کی خریداری پر امریکا کی جانب سے متعدد مرتبہ اس فیصلے کو واپس لینے کی درخواستیں کی گئی جس سے انکار پر واشنگٹن کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔

ان پابندیوں کا تذکرہ رائٹرز نے گزشتہ ہفتے کیا تھا جس میں ترکی کے دفاعی خریداری اور ڈیولپمنٹ کی اعلیٰ سطح کی باڈی، پریزیڈینسی آف ڈیفنس انڈسٹریز (ایس ایس بی)، اس کے چیئرمین اسمٰعیل دیمر اور دیگر 3 ملازمین کو ہدف بنایا گیا ہے۔ امریکی مخالفین کو پابندیوں کے ذریعے روکنے سے متعلق قانون (سی اے اے ٹی ایس اے) کے تحت لگائی گئی پابندیوں کا امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا، اس قانون کو پہلی مرتبہ نیٹو اتحاد کے ساتھ رکن کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ چونکہ واشنگٹن نے بڑی پابندیاں نہیں لگائی اس لیے ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں صرف ایک فیصد کمی ہوئی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے باعث کورونا وائرس سے سست روی اور دگنی مہنگائی کا شکار ترک معیشت پر بوجھ پڑے گا۔

یاد رہے کہ ترکی نے سال 2019 کے وسط میں زمین سے فضا میں مار کرنے والا روسی ساختہ ایس-400 دفاعی نظام حاصل کیا تھا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس سے نیٹو اتحادیوں کو کوئی خطرہ نہیں لیکن واشنگٹن اس پر طویل عرصے سے نہ صرف ترکی کو پابندی لگانے کی دھمکی دے رہا تھا بلکہ اس نے ترکی کو ایف-35 طیاروں کے پروگرام سے بھی خارج کر دیا تھا۔ اس معاملے سے باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے معاونین کی جانب سے ترکی پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز کو اب تک نظر انداز کرتے آئے تھے اور کچھ عرصے قبل ہی انہوں نے اس کی منظوری دی تھی۔

بشکریہ ڈان نیوز


Post a Comment

0 Comments