ملک کی واحد فولاد ساز ادارہ پاکستان اسٹیل مکمل طور پر بند ہو گیا، واضح رہے جب ذوالفقار بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے. اس وقت انہوں نے پاکستان اسٹیل کی بنیاد رکھتے ہوئے ’’ مہمانوں کی کتاب میں اپنے ریمارکس لکھے تھے کہ پاکستان اسٹیل ملک فولاد کی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ملکی دفاعی ضرورت بھی پوری کرے گی۔ لیکن پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے یہ کتاب ہی گم کر دی، پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے 4 ہزار سے زائد ملازمین کی برطرفی پر عوام میں شدید منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ملکی سیاست دانوں ، سماجی ورکرز اور مزدور یونین کے عہدے داروں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ہفتہ کو ملازمین کی جانب سے کئے جانے والا احتجاج اور دھرنا ختم کر دیا، اور مرحوم ملازم کی تدفین بھی کر دی ہے، پاکستان اسٹیل 10 جون 2015 سے مالی مشکلات کا شکار ہوا جس کی وجہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹیل کا کنکش کاٹ دینا ہے۔
لیکن 2015 سے پاکستان اسٹیل مالی بحران کاشکار ہوا جس کی وجہ نا اہل انتظامیہ کی تقرری ہے، اور ن لیگ حکومت اور پی ٹی آئی کی حکومت نے کبھی پاکستان اسٹیل کے لئے بحالی پیکج تیار نہیں کیا، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ گمراہ کن اعداد و شمار پیش کئے۔ پاکستان اسٹیل کو 212 ارب روپے نقصان ہوا ہے جبکہ حقیقت میں 190 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، پاکستان اسٹیل کے بند ہونے پر گزشتہ 5 سال کے دوران حکومت کو 12 ارب ڈالر کے زر مبادلہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا، کیونکہ پاکستان اسٹیل ملکی 40 فیصد ضرورت پوری کرتا تھا۔ اب ملک سو فیصد درآمد پر انحصار کر رہا ہے، پاکستان اسٹیل نے شعبہ ایڈ من اور پرسنل، قانون، سیکورٹی ، تعلیم ختم کر کے اسکول اور کالج بند کر دئیے، اسطرح فائر برگیڈ کا شعبہ بھی ختم کر دیا ہے ، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے برطرف کئے گئے ملازمین کے گھروں پر انفرادی طور خطوط جاری کر دئیے ، ہفتہ کو سینکڑوں کو ملازمین کو برطرفی کے خطوط موصول ہوئے۔
جاری کردہ خط میں تحریر ہے کہ پاکستان اسٹیل کئی سالوں سے نقصان کا شکار ہے ، اور پاکستان اسٹیل کو 30 جون 2020 تک دو سو 12 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ پیدواری صفر ہے، اور 2015 سے پلانٹ مکمل طور پر بند ہیں۔ مالی مشکلات کے باوجود برطرف کئے جانے والے ملازمین کو نومبر کی تنخواہ ادا کی جائے گی، جبکہ قانونی واجبات پاکستان اسٹیل کی جانب سے ادا کئے جائیں گے، خط میں لکھا ہے کہ انتظامیہ کو ملاز مین کی برطرفی پر بہت دکھ ہے۔ لیکن ادارے کے حالات کے پیش نظر برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے، خط میں برطرف ملازم کے لئے انتظامیہ کی جانب سے بہتر صحت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ آپ اپنے واجبات کی وصولی کے لئے شعبہ انتظامیہ سے رابطہ کر لیں۔
0 Comments