All About Pakistan

6/recent/ticker-posts

وطن واپس نہ آنے والے پی ایچ ڈی

پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بیرون ملک پی ایچ ڈی کیلئے بھیجے گئے 132 میں سے 80 اسکالر پاکستان واپس ہی نہیں آئے جبکہ 52 فیل ہو کر وطن لوٹے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان اسکالرز پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 955 ملین روپے کا خرچہ کیا۔ اس حوالے سے ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں، صرف ایک سکالر نے رقم واپس کی، ایچ ای سی حکام کے مطابق سکالر شپ فیز ٹو میں بھی 68 سکالر واپس نہیں آئے، اس روش کے سدباب کیلئے ایچ ای سی زمین یا گھر بطور ضمانت اپنے پاس رکھے گا۔ پی ایچ ڈی یا ڈاکٹریٹ ایک ایسی تعلیمی سند ہے جو کسی یونیورسٹی کی جانب سے کسی خاص شعبہ علم میں اعلیٰ مدارج تک فضیلت حاصل کرنے کے بعد عطا کی جاتی ہے، اس درجہ تعلیم کو عام طور پر’’علامہ فلسفہ‘‘(PHD) کے متبادل بھی استعمال کیا جاتا ہے، 

وطن عزیز کی جامعات کی حالت اور تعلیمی معیار کسی سے پوشیدہ نہیں اسی لئے اپنے سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے انتہائی مایوس کن نتائج سامنے ہیں اور یہ سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا اسکالر شپ دیتے وقت واقعی شفافیت کو ملحوظ رکھا گیا؟ کیا ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد دنیا کے ہمقدم ہونے کے لائق نہیں؟ کیا پی ایچ ڈی کیلئے جانے والوں کا مطمح نظر تعلیم نہیں بیرون ملک اقامت تھا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور اسکالرز کو ملک میں امید کی کوئی کرن اب دکھائی نہیں دیتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پی ایچ ڈی کیلئے بھیجے جانے والے اسکالرز کے وطن واپس نہ آنے یا فیل ہو کر واپس آنے سے دنیا میں ہمارا کیا تاثر جائے گا۔ اس سارے معاملے کی جامع، شفاف اور بلاامتیاز انکوائری ہونی چاہئے کیونکہ یہ صرف انہی اسکالرز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بات نہیں آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Post a Comment

0 Comments