سندھ حکومت کی جانب سے پبلک کی جانے والی سانحہ بلدیہ ٹائون سمیت عزیر بلوچ اور نثار مورائی کے معاملات پر بننے والی جے آئی ٹی رپورٹس میں کئے گئے انکشافات جہاں ملکی سلامتی و امن کو درپیش خطرات کے حوالے سے مختلف تشویشناک پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں وہیں یہ بات بھی واضح طور پر عیاں ہوتی ہے کہ کس طرح محکموں میں سیاسی مداخلت و اثرورسوخ جیسی قباحتیں ملکی انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ بلدیہ ٹائون سانحہ پر 27 صفحات پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بلدیہ فیکٹری کا واقعہ آتشزدگی نہیں دہشت گردی تھا، اگست 2012 میں ایم کیو ایم کے عہدیدار حماد صدیقی نے اپنے فرنٹ مین رحمٰن بھولا کے ذریعے فیکٹری مالک سے 20 کروڑ روپے کا بھتہ مانگا، بھتہ نہ ملنے پرفیکٹری کو آگ لگا دی گئی اور اس طرح صرف اپنے مفاد کیلئے کئی سو جانوں کو اذیت ناک موت سے دوچار کر دیا گیا۔
رپورٹ میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت واقعہ کی نئی ایف آئی آر درج کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل دوسری جے آئی ٹی رپورٹ میں لیاری کے گینگسٹر عزیر بلوچ کے 198 افراد کے قتل سمیت کئی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ جبکہ 9 صفحات پر مشتمل تیسری رپورٹ سابق چیئرمین فشریز نثار مورائی سے متعلق ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نثار مورائی نے محکمہ فشریز میں 50 سے 200 جعلی ملازمین بھرتی کیے، بھتہ وصولی کے ساتھ ساتھ بھاری رشوتیں بھی لیں۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیرعلی زیدی کی جانب سے بھی مذکورہ تینوں معاملات پر تیار کی گئی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹس جاری کرنے کیلئے عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی تھی۔ اب جبکہ یہ رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی محاذ آرائی اور الزام تراشی سے بچتے ہوئے رپورٹس کے مندرجات پر کارروائی کر کے تمام ملوث کرداروں کے خلاف فوری ایکشن لینے کیلئے حکمت عملی وضع ہونی چاہئے۔
0 Comments